{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibb66xcpwqfvieu25gvp5cgyvhgvzqngqasi7sac5brbf4apmk4vy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpmclj4fgsi2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreieifqt4yjmbvazx265ciqhpyk4caqrpkwabamstgoc3ykhayst5km"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 112758
  },
  "path": "/node/186580",
  "publishedAt": "2026-07-01T09:02:51.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "افغانستان",
    "ایشیا",
    "انڈیا",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان نے بدھ کو افغانستان میں ’دہشت گردوں‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے پر انڈین وزارت خارجہ کے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔**\n\nپاکستان نے 28 اور 29 جون کو افغانستان کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، البتہ افغان طالبان حکومت نے الزام لگایا کہ ان حملوں میں سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔\n\nانڈیا کی وزارت خارجہ نے افغانستان کی سرزمین پر پاکستان کے فضائی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں افغانستان کی خودمختاری کی ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا۔\n\nپاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان، انڈین وزارتِ خارجہ کے اُس بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے جس میں افغانستان میں دہشت گردی کے ڈھانچے کے خلاف پاکستان کی جائز، ہدفی اور متناسب کارروائیوں پر اعتراض کیا گیا ہے۔‘\n\nطاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ یہ ’مضحکہ خیز‘ بیان ایک ایسے ملک کی جانب سے آیا ہے جس نے ’ماضی میں مسلسل اپنے ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی، ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچایا اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی۔\n\n’یہی ملک مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو بھی دبا رہا ہے، جو متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدفتر خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ ’انڈیا افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی معاونت اور سرپرستی بھی کرتا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے متعلقہ پابندیوں کے نظام کی خلاف ورزی ہے۔‘\n\nپاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ’ٹی ٹی پی‘ اور دیگر پاکستان مخالف عسکریت پسند تنظیموں کی انڈیا مبینہ طور پر معاونت کرتا رہا ہے، تاہم نئی دہلی اس کی تردید کرتا ہے۔\n\nترجمان طاہر انداربی نے بیان میں کہا کہ انڈیا کی طرف سے پاکستان کے خلاف اس کے ’بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے۔‘\n\nترجمان نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے شہریوں کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام مناسب اقدامات کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔\n\nافغانستان کی طالبان حکومت نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستانی علاقے میں فضائی حملے کیے، جبکہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں چار ڈرونز کو بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔\n\nپاکستان افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہیں کیوں کہ اسلام آباد کا یہ کہنا ہے کہ افغانستان میں ایسے عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں پر پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں تاہم افغان طالبان اس موقف کا مسترد کرتے ہوئے کہتے آئے ہیں کہ عسکریت پسندی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔\n\nپاکستان\n\nافغانستان\n\nایشیا\n\nانڈیا\n\nپاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ ’انڈیا افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی معاونت اور سرپرستی بھی کرتا رہا ہے۔‘\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, جولائی 1, 2026 - 15:00\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کے دفتر خارجہ کے باہر ایک سکیورٹی اہلکار 9 اپریل 2026 کو ڈیوٹی پر مامور ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nدفاعی نظام نے افغانستان سے آنے والے چار ڈرونز مار گرائے: آئی ایس پی آر\n\nپاکستان کی افغانستان میں کارروائی، 29 عسکریت پسند مارے گئے: عطا تارڑ\n\nپاکستان کا 10 جولائی سے غیر قانونی افغانوں کی گرفتاری کا حکم\n\nSEO Title:\n\nافغان کارروائی پر انڈین بیان مسترد، شہری تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرتے رہیں گے: پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "پاکستان کا افغان کارروائی پر انڈین بیان مسترد"
}