{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreid7sfzaiq4uqclvtofdxxr4hlyhknrpm3vvb6nv562rbb7mo3yqgi",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpmcl2wp4vs2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigsszpw5si5r353q6kq7zgjy56k72txd4h37xe4uk5hrzqyu2ospu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 80372
},
"path": "/node/186583",
"publishedAt": "2026-07-01T16:29:36.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"لاہور",
"حادثہ",
"ارشد چوہدری",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**لاہور کے قریب کاہنہ میں منگل کو ایک گھر میں بنے ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے جان سے چلے گئے جبکہ چھ بچے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔**\n\nابتدائی رپورٹ کے مطابق چھت خستہ حال تھی جو اوپر مزید تعمیر کی وجہ سے گری۔\n\nاس واقعے نے کئی گھر اجاڑ دیے، جن میں سے ایک متاثرہ خاندان کے تین بچے جان سے گئے اور ایک ہسپتال میں ہے۔\n\nجان سے جانے والے تین بچوں کی پھپھی عاصمہ بی بی نے بتایا ’ہمارے چار بچے دو سال سے اس اکیڈمی میں پڑھنے جاتے تھے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ چھت گرنے سے 11سالہ ایمان فاطمہ، نو سالہ عروج اور ان کا چھے سالہ بھائی عبداللہ جان سے گئے جبکہ ایک بہن زخمی حالت میں ہسپتال زیر علاج ہے۔\n\nعاصمہ نے کہا ’ہمارا تو گھر ہی اجڑ گیا، کبھی سوچا نہ تھا اس طرح معصوم بچوں کی موت کا غم برداشت کرنا پڑے گا۔\n\n’عروج کہتی تھی میں پڑھ کر پولیس افسر بنوں گی اور ایمان ڈاکٹر بننے کی خواہش رکھتی تھی۔\n\n’ہم سمجھاتے تھے ہمارے ہاں لڑکیاں نوکری نہیں کرتیں۔۔۔۔۔ جس پر وہ دونوں برا مناتی تھیں۔\n\n’پڑھائی بہت دل لگا کر کرتی تھیں کبھی سکول یا اکیڈمی سے چھٹی نہیں کرتی تھیں۔‘\n\nبچوں کے والد غلام مصطفی سکتے میں ہیں جبکہ ماں کئی گھنٹے سے بے ہوش ہے۔\n\nبچوں کی دادی ارم بی بی نے بتایا ’ہمارے گھر کے کل سات بچے پڑھنے جاتے تھے، لیکن میرے بھتیجے کے تین بچے فوت ہوگئے۔\n\n’ہمارے گھر کی تو رونق ہی اجڑ گئی جیسے دونوں بہنیں اپنے ننھے بھائی عبداللہ کو ساتھ لے کر اکیڈمی جاتی تھیں۔ ویسے ہی اللہ کے پاس بھی ساتھ ہی لے گئیں۔\n\n’ہمارے غم کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ میرے تو بیٹے کی دنیا ہی اجڑ گئی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایک اور گھر کے دو بچے بھی یہاں پڑھنے گئے تھے۔ چھے سالہ تسبیحہ کی موت ہو گئی جبکہ بڑا بھائی آیان زخمی ہوا۔\n\nان بچوں کی والدہ خالدہ بی بی کے بقول ’بیٹا آیان معمولی زخمی ہوا لیکن چھوٹی بیٹی تسبیحہ جس کی عمر چھے سال تھی وہ فوت ہوگئی۔\n\n’بہت معصوم بچی تھی۔ گھر میں کوئی ڈانٹتا تو خاموشی سے کھڑی رہتی۔ چھت گری تو جیسے بیٹھی تھی ویسے ہی بیٹھی رہ گئی۔‘\n\nحادثے میں بچ جانے والے بچے آیان نے بتایا ’شام کو چار بجے ہم ٹیوشن پڑھنے گئے۔ ٹیچر کے شوہر انہیں کہتے رہے بچوں کو چھٹی دے دو چھت پر کام ہو رہا ہے۔\n\n’لیکن انہوں نے کہا سبق پڑھا کر دے دوں گی۔ اتنی دیر میں اوپر سے بہت ساری ٹائلیں گرنے سے واقعہ ہوا۔\n\n’چھت گرتے ہی کچھ کو چوٹیں لگی اور میری بہن سمیت کئی فوت ہوگئے۔‘\n\nپولیس نے مالک مکان ریحان، ان کے دو بھائیوں اور چھت کے کام کرنے والے مستری کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی۔\n\nدوسری جانب محکمہ تعلیم نے بھی لاہور میں سروے کر کے بغیر اجازت چلنے والے ٹیوشن سینٹرز کا ریکارڈ جمع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔\n\nواضح رہے لاہور شہر میں انتظامیہ پہلے ہی 350 سے زائد عمارتوں کو مخدوش قرار دے چکی ہے جبکہ 90 کے قریب ناقابل مرمت قرار دے کر مسمار کرنے کی ہدایات جاری گئی جا چکی ہیں۔\n\nلاہور\n\nحادثہ\n\nکاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے جان گنوانے والے 14 بچوں میں تین بہن بھائی بھی شامل تھے۔ ان بچوں کے گھر والے کیا کہتے ہیں، جانیے انڈپینڈنٹ اردو کی خصوصی رپورٹ میں۔\n\nارشد چوہدری\n\nبدھ, جولائی 1, 2026 - 21:30\n\nMain image:\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nEMwlECXx\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nلاہور: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جان سے گئے\n\nکراچی: کورنگی میں فیکٹری کی چھت گرنے سے 14 افراد زخمی\n\nجہلم: جہاز کی نچلی پرواز سے سکول کی چھت گرگئی، پرنسپل پر مقدمہ\n\nکوئٹہ: بارشوں سے چھت گرنے کے باعث چھ افراد ہلاک، ریسکیو عمل جاری\n\nSEO Title:\n\nسانحہ کاہنہ: ’چھت گری تو بیٹی جیسے بیٹھی تھی ویسے ہی بیٹھی رہ گئی‘\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "سانحہ کاہنہ: ’چھت گری تو بیٹی جیسے بیٹھی تھی ویسے ہی بیٹھی رہ گئی‘"
}