{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreie34p7fymavyj4nslnmy6ief7zmrvxeohbjbcqao5dyf226hnwmie",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpjeoadyqi62"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiddkn7kcuu272p7dt7ydgk5n6pkznwqpo7a7xsqb2rqjcp3wr62ta"
    },
    "mimeType": "image/png",
    "size": 720236
  },
  "path": "/node/186571",
  "publishedAt": "2026-06-30T13:54:06.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "لاہور",
    "حادثہ",
    "بچے",
    "اموات",
    "ارشد چوہدری",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**لاہور کے علاقے کاہنہ نو فیروزپور روڈ پر منگل کو قربان سکول کے قریب ایک گھر کے کمرے کی چھت گرنے سے 14 بچے جان سے گئے۔**\n\nریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی وہیکلز اور اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔\n\nوزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ چھت گرنے سے جان سے جانے والے بچوں کی تعداد 14 ہے جب کہ چھ بچے زخمی ہیں۔\n\nریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے موقعے پر پہنچیں۔\n\nریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ کمرے کی چھت ٹی آر گارڈر پر مشتمل تھی۔\n\nترجمان محکمہ صحت کے مطابق تقریباً سات سے 15 سال عمر کے 20 بچے کلاس میں موجود تھے جب ٹیوشن سینٹر کی چھت کا سلیب اچانک ان پر گر گیا۔\n\n20 بچوں کو ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ لایا گیا جہاں 14 بچوں کو مردہ قرار دیا گیا ہے، جن میں نو لڑکے اور پانچ لڑکیاں شامل ہیں جبکہ چھ بچے زخمی ہیں۔\n\nترجمان محکمہ صحت کے مطابق زخمی بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔\n\nایس ایس پی انویسٹیگیشن لاہور محمد نوید نے میڈیا کو بتایا کہ شناخت کے بچوں کی لاشیں ان کے والدین کے حوالے کر رہے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے بتایا کہ واقعے میں زخمی ٹیچر کی حالت تشویش ناک ہے۔\n\nایس ایس پی محمد نوید نے مزید بتایا کہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی اور قانونی کارروائی کے لیے مشاورت کر رہی ہے۔\n\nوزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ مریم نواز نے حادثے میں بچوں کے جان سے جانے پر دکھ اطہار کیا۔\n\nوزیراعظم کی حادثے میں زخمی ہونے والوں کے لیے ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی۔\n\nسینیئر پولیس افسر فیصل کامران نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ٹیوشن سینٹر کے مالک اور ایک اور شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔\n\nفیصل کامران نے کہا کہ ٹیوشن سینٹر ایک پرانی عمارت میں قائم تھا اور بظاہر نامکمل دوسری منزل کی چھت ناقص تعمیر کے باعث گر گئی۔\n\nپاکستان میں عمارتوں کے گرنے کے واقعات عام ہیں جہاں تعمیراتی معیار پر عملدرآمد اکثر کمزور ہوتا ہے۔\n\nبہت سی عمارتیں غیر معیاری مواد سے تعمیر کی جاتی ہیں اور اخراجات کم کرنے کے لیے حفاظتی ضوابط کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔\n\nلاہور\n\nحادثہ\n\nبچے\n\nاموات\n\nترجمان محکمہ صحت کے مطابق تقریباً سات سے 15 سال عمر کے 20 بچے کلاس میں موجود تھے جب ٹیوشن سینٹر کی چھت کا سلیب اچانک ان پر گر گیا۔\n\nارشد چوہدری\n\nمنگل, جون 30, 2026 - 18:45\n\nMain image:\n\n> <p> لاہور کے علاقے کاہنہ نو فیروزپور روڈ پر 30  جون، 2026 کو ایک گھر کے کمرے کی چھت گرنے سے 14 بچے جان سے گئے (ریسکیو 1122)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکوئٹہ: بارشوں سے چھت گرنے کے باعث چھ افراد ہلاک، ریسکیو عمل جاری\n\nکراچی: کورنگی میں فیکٹری کی چھت گرنے سے 14 افراد زخمی\n\nگلگت بلتستان میں مٹی کا تودہ گرنے سے 8 افراد جان سے گئے\n\nپاکستان میں بارشوں، سیلاب سے 200 سے زائد بچے جان سے گئے: سیو دی چلڈرن\n\nSEO Title:\n\nلاہور: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جان سے گئے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "لاہور: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جان سے گئے"
}