{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreie7julzb47kdb5q35ai5l32h2tet6eavkdje2lahnjfaulgnojuja",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpj5y3pbjdj2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreih35g7pyc7xwo4hln5bkn6baydwar3oldy3yiq6ktvgrbhfr4kcsu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 145692
  },
  "path": "/node/186567",
  "publishedAt": "2026-06-30T06:50:16.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "کراچی",
    "بلوچستان",
    "مستونگ",
    "فائرنگ",
    "صالحہ فیروز خان",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**کراچی کے رہائشی علی مرتضیٰ جمیل 24 جون کو اپنی اہلیہ عائشہ اور دو کمسن بیٹیوں کے ساتھ سیر کے لیے کوئٹہ روانہ ہوئے تھے۔**\n\nعلی کے والد محمد جمیل کے مطابق ’علی اس سے پہلے بھی کئی ممالک کی سیر کر چکے تھے اور اس سفر کے لیے بھی اتنے ہی پُرجوش تھے۔\n\n’کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔‘\n\nانہوں نے بتایا ’جمعے کی شب علی اور ان کی فیملی کراچی واپسی کے لیے نکلی۔ راستہ تلاش کرنے کے لیے گوگل میپ کا سہارا لیا گیا مگر ایک غلط سمت انہیں مستونگ کے علاقے دشت تک لے گئی۔\n\n’چند لمحے پہلے تک جو سفر خوشیوں، قہقہوں اور سیاحت کے خوابوں سے بھرا تھا، وہ اچانک خوف اور دہشت میں بدل گیا۔‘\n\nمحمد جمیل کے مطابق’ دشت میں نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں علی مرتضیٰ جمیل موقعے پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ان کی اہلیہ عائشہ زخمی ہو گئیں‘۔\n\nان کے مطابق اس وقت گاڑی میں موجود دو کمسن بیٹیاں جسمانی طور پر تو محفوظ رہیں مگر ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والد کو قتل ہوتے دیکھنے کا صدمہ ان کے دل و دماغ پر ایسے زخم چھوڑ گیا ہے جو شاید کبھی نہ بھر سکیں۔ ایک لمحے میں ان کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔\n\nوالد محمد جمیل بتاتے ہیں راستے میں دوستوں نے انہیں رک جانے کا مشورہ بھی دیا تھا کیونکہ حالات معمول کے مطابق نہیں تھے مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایسے راستے پر جا رہے ہیں جہاں موت ان کی منتظر ہے۔\n\nان کا کہنا ہے کہ اگر یہ علاقہ واقعی حساس یا ممنوع تھا تو مسافروں کو آگاہ کرنے کے لیے سکیورٹی ناکے موجود ہونے چاہیے تھے، جیسا دنیا بھر میں خطرناک علاقوں کے داخلی راستوں پر کیا جاتا ہے۔\n\nمحمد جمیل کے مطابق ان کا بیٹا صرف گوگل میپ کی رہنمائی پر سفر کر رہا تھا اور غلطی سے کچے راستے پر چلا گیا۔\n\nان کے بقول انہیں روک کر محفوظ راستے کی طرف واپس بھیجنے کی بجائے گاڑی پر براہ راست فائرنگ کر دی گئی۔\n\nانہوں نے مزید بتایا فائرنگ کے بعد جب حملہ آور گاڑی کے قریب پہنچے اور دیکھا اندر ایک خاندان، خواتین اور کمسن بچیاں موجود ہیں تو وہ موقع سے فرار ہو گئے، شاید اس خوف سے کہ سکیورٹی فورسز کسی بھی وقت پہنچ سکتی ہیں۔\n\nمحمد جمیل کی آواز اس وقت بھر آتی ہے جب وہ بتاتے ہیں کہ ان کی بہو اور پوتیاں تقریباً سات گھنٹے بے یار و مددگار اس مقام پر موجود رہیں۔\n\nان کے مطابق صبح پانچ سے چھ بجے تک وہ اسی حالت میں تھیں۔\n\n’میرے بچوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے یہ ہولناک منظر دیکھا، ذرا سوچیں ان کے دل و دماغ پر کیا گزری ہو گی۔ اگر بروقت ریسکیو ہو جاتا تو شاید میرا بیٹا بچ جاتا یا کم از کم ہمیں اتنا بڑا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔‘\n\nفائرنگ کے بعد زخمی حالت میں عائشہ نے علی کی والدہ کو آخری کال کی۔\n\nمحمد جمیل کے مطابق اس نے روہانسی آواز میں کہا ’علی نہیں رہے، امی ابو! اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو مجھے معاف کر دیجیے۔\n\n’میری حالت بہت خراب ہے، شاید میں نہ بچ سکوں۔ میرے سر اور جسم پر گولیاں لگی ہیں۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ عائشہ کو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بے ہوش ہونے والی ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی کمسن بیٹی کو ہدایت دی کہ اگر وہ ہوش کھو دے تو فلاں شخص کو فون کر دینا۔\n\nمحمد جمیل کہتے ہیں وہ اپنی وصیت تک کرنے لگی تھی۔ ’ذرا سوچیں، اس لمحے اس کے دل پر کیا بیت رہی ہوگی۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایک باپ کے لیے اس صدمے کو قبول کرنا آج بھی ناممکن ہے۔\n\nمحمد جمیل کہتے ہیں ’میں روزانہ کئی بار اپنے بیٹے سے بات کرتا تھا۔ دو گھنٹے پہلے بات ہوئی تھی اور پھر اچانک خبر ملی کہ اسے گولی مار دی گئی۔\n\n’اپنے ہاتھوں سے دفنانے کے بعد بھی یقین نہیں آتا۔ پوری رات فون ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا کہ شاید اس کی کال آئے اور وہ کہے ’میں آ رہا ہوں۔‘\n\nانہوں نے بتایا ’عائشہ اب خطرے سے باہر ہیں، تاہم گولی اب بھی ان کے جسم میں موجود ہے۔ دوسری طرف دونوں بچیاں شدید ذہنی صدمے سے گزر رہی ہیں۔\n\n’کبھی کہتی ہیں بابا کو گولی لگ گئی، کبھی معصومیت سے کہتی ہیں بابا کو انجیکشن لگا دو، وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔\n\n’وہ بار بار پوچھتی ہیں، بابا کہاں ہیں؟ اور گھر والے صرف اتنا کہہ پاتے ہیں، ابھی آ جائیں گے۔‘\n\nمحمد جمیل کا کہنا ہے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط تصاویر اور بے بنیاد باتیں ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔\n\nان کے مطابق ان افواہوں اور تصاویر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے بغیر تصدیق کے کچھ بھی شیئر نہ کیا جائے۔\n\nوہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ نے زخمی عائشہ کے علاج اور خاندان کو ایئرپورٹ تک پہنچانے میں مدد فراہم کی، جس پر وہ شکر گزار ہیں۔\n\nان کے بقول ریسکیو اور طبی امداد ان کی ذمہ داری تھی اور انہوں نے وہ کام انجام دیا، تاہم اس کے علاوہ کوئی خاص مدد انہیں نہیں ملی۔\n\nکراچی\n\nبلوچستان\n\nمستونگ\n\nفائرنگ\n\nگوگل میپ کی غلطی سے بھٹک کر دشت میں جانے پر فائرنگ سے جان گنوانے والے علی کے اہل خانہ کیا کہتے ہیں؟\n\nصالحہ فیروز خان\n\nمنگل, جون 30, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nuf7yRB9E\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان میں کارروائیاں، 8 عسکریت پسندوں کی موت\n\nبلوچستان: ماہ رنگ بلوچ کی سزا کے خلاف بی وائے سی کی اپیل پر ہڑتال\n\nبلوچستان بجٹ: نئی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس معاف، 5 ہزار نئی نوکریاں\n\nبلوچستان میں تاجروں، وکلا اور ملازمین کی ’پہیہ جام‘ ہڑتال\n\nSEO Title:\n\nدشت سانحہ: ’بیٹیاں بار بار پوچھتی ہیں بابا کب آئیں گے؟‘\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "دشت سانحہ: ’بیٹیاں بار بار پوچھتی ہیں بابا کب آئیں گے؟‘"
}