{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihihjwuxgq2usjnr5zdwvclmn5mqwqlg7lxdphj5hpi4njtjf55y4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpj5xmbpsx72"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibow6waxmkupkn6yfjf2w5drkm2bocvlevipwlml6oj4fhsut3u5u"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 149045
},
"path": "/node/186569",
"publishedAt": "2026-06-30T12:13:08.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افغان پناہ گزین",
"غیر قانون",
"ملک بدری",
"پاکستان حکومت",
"اقوام متحدہ",
"یو این ایچ سی آر",
"گرفتاریاں",
"رمنا سعید",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**وفاقی وزارت داخلہ نے ملک میں بغیر قانونی دستاویزات یا ویزے کے مقیم افغان شہریوں کی 10 جولائی سے فوری گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ہے۔**\n\nیہ فیصلہ حکومت کے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی منصوبے کے تحت کیا گیا ہے اور اسے کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے حالیہ حملے کے بعد مزید سخت کیا گیا ہے، جس میں گرفتار ہونے والا ایک مشتبہ حملہ آور افغان شہری بتایا گیا۔\n\n**نئی ہدایت میں کیا کہا گیا؟**\n\n28 جون کو جاری ہونے والے وزارت داخلہ کے مراسلے کے مطابق، جس کی کاپی انڈیپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد سمیت تمام صوبوں اور وفاقی خطوں میں اس پالیسی پر یکساں عمل درآمد کیا جائے گا۔\n\nصوبائی چیف سیکریٹریز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 11 جولائی سے روزانہ کی بنیاد پر گرفتار کیے گئے افراد، غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کی گئی کارروائیوں اور ان کے نتائج پر مشتمل رپورٹ وزارت داخلہ کو ارسال کریں۔\n\nحکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایسے پاکستانی شہری جو غیر قانونی افغان باشندوں کو ملازمت، دکان، کاروباری جگہ یا رہائش فراہم کریں گے، ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔\n\nالبتہ پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے رجسٹرڈ افغان مہاجرین اور وہ افغان شہری جن کی کسی تیسرے ملک منتقلی کی درخواست زیر عمل ہے، انہیں اس کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔\n\n**نئے کریک ڈاؤن کی وجہ کیا ہے؟**\n\nیہ فیصلہ 27 جون کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں سندھ رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا جس میں کئی رینجرز اہلکار جان سے گئے۔\n\nکالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ گروپ جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔\n\nسکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آوروں کو مارا جبکہ ایک زخمی حملہ آور کو گرفتار کیا، جسے افغان شہری قرار دیا گیا۔\n\nحکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اس واقعے نے غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق سیکیورٹی خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔\n\n**پاکستان میں اس وقت کتنے افغان شہری مقیم ہیں؟**\n\nاقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق مئی 2026 کے اختتام تک پاکستان میں سات لاکھ 99 ہزار 332 رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں، جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن کارڈزموجود ہیں۔\n\nچمن۔سپن بولدک بارڈر لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی موجودگی ایک سنگین انسانی بحران کا منظر پیش کر رہی ہے (عزیز صباون)\n\n\n\n\nپاکستانی حکومت کے اندازے کے مطابق اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مزید تقریباً چھ لاکھ افغان شہری پاکستان آئے، جن میں اکثریت غیر رجسٹرڈ ہے کیونکہ ان کے لیے کوئی نیا وسیع رجسٹریشن نظام متعارف نہیں کرایا گیا۔\n\nیواین ایچ سی آر کے مطابق جنوری 2021 سے 2022 کے اوائل تک تقریباً ایک لاکھ 17 ہزار 500 افغان شہریوں کی دستاویزی آمد ریکارڈ کی گئی جبکہ اگست 2021 میں یہ تعداد تقریباً 35 ہزار 300 رہی۔\n\n**کتنے افغان مہاجرین واپس جا چکے ہیں؟**\n\nیواین ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق 2002 سے اب تک 47 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین رضاکارانہ طور پر پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔\n\nصرف 2026 کے ابتدائی مہینوں میں یواین ایچ سی آر کی معاونت سے تقریباً 70 ہزار 800 افغان شہریوں نے رضاکارانہ واپسی کی۔\n\n**یو این ایچ سی آر کی نئی کارروائی پر تشویش**\n\nیو این ایچ سی آر پاکستان کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’یو این ایچ سی آر پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد کی جبری واپسی کے حکومتی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔‘\n\nان کے بقول: ’ہم پاکستان کی اس فراخ دلی کو سراہتے ہیں کہ اس نے اپنے اندرونی چیلنجز کے باوجود گذشتہ 45 برس سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔‘\n\nافغان پناہ گزین اپنے بچوں کے ہمراہ 16 ستمبر، 2025 کو پاکستان۔افغانستان سرحد طورخم پر وطن واپسی کے لیے پہنچ رہے ہیں (عبدالمجید / اے ایف پی)\n\n\n\n\nقیصر خان آفریدی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کسی بھی مہاجر کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اس کی جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو۔\n\nدوسری جانب یواین ایچ سی آر اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق ملک بدری اور خود واپس جانے والوں سمیت جون 2026 کے وسط تک تقریباً چار لاکھ 49 ہزار 100 افغان پاکستان سے واپس جا چکے ہیں۔\n\nحکومت کے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی منصوبے (آئی ایف آر پی) کے آغاز، یعنی اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 20 لاکھ افغان پاکستان سے واپس جا چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور ایران سے مجموعی طور پر 54 لاکھ سے زائد افغان اپنے ملک لوٹ چکے ہیں۔\n\nاقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ملک بدری کی نئی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔\n\nان کے مطابق بہت سے افغان شہری گرفتاری کے خوف اور حکومتی ڈیڈ لائنز کے باعث دباؤ میں واپس جا رہے ہیں، جبکہ افغانستان میں انہیں روزگار، بنیادی سہولیات اور محفوظ زندگی سمیت متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔\n\nوکیل منیزہ کاکڑ جو افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی کی حکومتی پالیسیوں کو عدالتوں میں چیلنج کرنے والی نمایاں قانونی آواز ہیں اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار ریفیوجیز کی شریک بانی بھی ہیں۔\n\nانہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہر ریاست کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور امیگریشن سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کا خودمختار حق حاصل ہے۔‘\n\nتاہم ان کا کہنا تھا کہ ان اختیارات کا استعمال آئین، قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔\n\nپاکستان سے ملک بدر کیے گئے افغان پناہ گزین سات اپریل، 2025 کو ننگرہار کے طورخم سرحد کے قریب ایک عارضی کیمپ میں پہنچنے پر ٹرک سے اتر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nمنیزہ کاکڑ کے بقول: ’کسی ایک سکیورٹی واقعے کی بنیاد پر کسی پوری قومیت کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانا یا اندھا دھند گرفتاریاں کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nقانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں افراد کے ذاتی طرزِ عمل اور قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہییں، نہ کہ صرف ان کی قومیت کی بنیاد پر۔‘\n\nان کے مطابق: 'یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ فوجداری انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب تک کسی عدالت کی جانب سے منصفانہ ٹرائل کے بعد کسی شخص کو مجرم قرار نہ دیا جائے، وہ صرف ملزم ہوتا ہے، مجرم نہیں۔‘\n\nمنیزہ کاکڑ کے مطابق: 'غیر دستاویزی افغان شہری بھی قانونی کارروائی کے بنیادی حقوق رکھتے ہیں۔ انہیں گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا جانا چاہیے، قانونی معاونت تک رسائی دی جانی چاہیے۔\n\nاور انہیں اپنی گرفتاری یا ملک بدری کو چیلنج کرنے کا مؤثر موقع ملنا چاہیے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں افغانستان واپسی پر انہیں ظلم، جبر یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا حقیقی خطرہ لاحق ہو۔ ‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم قومی سلامتی اور انسانی حقوق ایک دوسرے کی متضاد نہیں ہیں۔\n\nپاکستان 1951 کے مہاجرین سے متعلق کنونشن کا رکن نہیں ہے، اس لیے افغان مہاجرین کے معاملے کو حکومت عارضی پالیسیوں اور یواین ایچ سی آر کے تعاون سے، بالخصوص رجسٹرڈ مہاجرین کے حوالے سے، سنبھالتی ہے۔\n\nافغان پناہ گزین\n\nغیر قانون\n\nملک بدری\n\nپاکستان حکومت\n\nاقوام متحدہ\n\nیو این ایچ سی آر\n\nگرفتاریاں\n\nحکومت نے 10 جولائی سے غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے جب کہ یو این ایچ سی آر نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔\n\nرمنا سعید\n\nمنگل, جون 30, 2026 - 17:15\n\nMain image:\n\n> <p>افغان پناہ گزین اپنے بچوں کے ہمراہ 16 ستمبر، 2025 کو وطن واپس جانے کے لیے طورخم سرحد پر آ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافغان کارڈ منسوخی کے لیے 26 ہزار پاکستانیوں کی درخواستیں\n\nپاکستان سے افغان طالبہ کی ملک بدری کی کہانی\n\nپاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے سرحد کھول دی\n\nپاکستان سے واپس افغانستان آنے والے پناہ گزینوں کے ٹرک کو حادثہ، 22 افراد جان سے گئے\n\nSEO Title:\n\nپاکستان کا 10 جولائی سے غیر قانونی افغانوں کی گرفتاری کا حکم\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پاکستان کا 10 جولائی سے غیر قانونی افغانوں کی گرفتاری کا حکم"
}