{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreid6sguswxtvrckvnhm6qk6xk5kxcjo2j5lagdmvekn47nc34ar2ee",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpj5xgukqs52"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreib72z7dsiekttnzklzbn24iglkvjidknwmaes5fzjbzejsk74zu5a"
    },
    "mimeType": "image/png",
    "size": 472911
  },
  "path": "/node/186570",
  "publishedAt": "2026-06-30T13:10:06.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پی آئی اے",
    "چیئرمین",
    "نجکاری",
    "صالحہ فیروز خان",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو 29 جون کو باضابطہ طور پر نئے مالکان کے حوالے کیے جانے کے بعد نئی انتظامیہ نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر کو پی آئی اے کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جنہیں دفاع، عوامی انتظامیہ، کارپوریٹ گورننس اور ادارہ جاتی ترقی کے شعبوں میں چار دہائیوں سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔**\n\nجنرل انور علی حیدر ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں فوج، حکومت، تعلیمی اداروں اور کارپوریٹ شعبے میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔\n\n**انور علی حیدر کا کیریئر**\n\nلیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر کا عسکری کیریئر تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہے، جس کے دوران انہوں نے پاک فوج کے مختلف اہم کمانڈ، سٹاف اور تربیتی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔\n\nمنصوبہ بندی، ادارہ جاتی اصلاحات، تنظیمی قیادت اور انتظامی امور میں ان کی مہارت میں شامل ہیں۔\n\nاپنے کیریئر کے اختتامی مرحلے میں وہ ایڈجوٹنٹ جنرل پاکستان آرمی اور چیف آف آرمی سٹاف کے پرنسپل سٹاف آفیسر رہے، جہاں ان کے ذمے انسانی وسائل، فلاحی منصوبوں، نظم و ضبط، رہائشی اسکیموں اور پالیسی سازی جیسے اہم شعبوں کی نگرانی تھی۔\n\nتاہم ان ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے فوج سے وابستہ رفاہی اور کاروباری اداروں کی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔\n\nفوجی فاؤنڈیشن کے فلاحی و تجارتی منصوبوں کی توسیع، ادارہ جاتی استحکام اور مستقبل کی حکمت عملی کی تشکیل میں ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔\n\nوہ آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین بھی رہے، جہاں انہوں نے فلاحی سرگرمیوں کو مؤثر انتظام اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر خصوصی توجہ دی۔\n\nلیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر فوجی خدمات سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اہم قومی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوہ 2023-24 کی نگراں وفاقی کابینہ میں وفاقی وزیر دفاع اور وزیر دفاعی پیداوار رہے جبکہ وہ سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ایپکس کمیٹی کے رکن بھی رہے۔\n\nاس سے قبل وہ عمران خان کی حکومت کے دوران ’نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ‘کے چیئرمین رہے۔\n\nانہوں نے تعلیم کے میدان میں بھی خدمات انجام دیں۔ وہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے بورڈز کے رکن رہے، جبکہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر بھی رہے۔\n\nجنرل انور علی حیدر نے امریکہ کے یو ایس آرمی وار کالج سے سٹریٹیجک سٹڈیز میں ماسٹرز اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے وار سٹڈیز میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔\n\nانہیں ہلال امتیاز (ملٹری) اور چیف آف آرمی سٹاف کمنڈیشن کارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔\n\nلیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر کی تقرری محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی ایئرلائن کے لیے ایک نئے باب کا آغاز سمجھی جا رہی ہے۔\n\nپی آئی اے\n\nچیئرمین\n\nنجکاری\n\nجنرل انور علی حیدر ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں فوج، حکومت، تعلیمی اداروں اور کارپوریٹ شعبے میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔\n\nصالحہ فیروز خان\n\nمنگل, جون 30, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نئی انتظامیہ نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر کو پی آئی اے کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے (ایف ایف سی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکئی ماہ تاخیر کے بعد پی آئی اے نئے مالکان کے حوالے\n\nپی آئی اے کے اثاثے، واجبات اور کنٹرول منتقل کرنے کے بل منظور\n\nپی آئی اے کا لندن روٹ سے 71 سال پرانا رشتہ دوبارہ بحال\n\nپی آئی اے: عارف حبیب کا بقیہ 25 فیصد حصص خریدنے کا ارادہ\n\nSEO Title:\n\nپی آئی اے کے نئے چیئرمین انور علی حیدر کون ہیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پی آئی اے کے نئے چیئرمین انور علی حیدر کون ہیں؟"
}