{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreih5a6jgye7xusto3nq2u672v7d4nvvvhh63zst5blvohi45l7hkqe",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpiph2htusk2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreieulkillhvgo4gd6yuxblvgrjykq3v7bxnrwlyupmcxqhkh5tufhi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 47276
},
"path": "/node/186566",
"publishedAt": "2026-06-30T08:45:44.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ارب پتی",
"چینی",
"امریکہ",
"چین",
"جمہوریت",
"مائیکل آر سِسک، لیری نُوائمسٹر اور جینیفر پیلٹز",
"ٹرینڈنگ",
"news"
],
"textContent": "**چین سے فرار ہو کر خود جلاوطنی اختیار کرنے والے ارب پتی گوو وِنگوئی کو، جنہیں کبھی چین کے امیر ترین افراد میں شمار کیا جاتا تھا، پیر کو امریکہ میں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی۔**\n\nیہ سخت سزا ایک بڑے مالیاتی فراڈ کیس میں ان کی سزا کے بعد دی گئی، جس کے بارے میں وفاقی جج نے تصدیق کی کہ اس میں دنیا بھر کے ایک ہزار سے زائد افراد کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا۔\n\nمین ہیٹن کی عدالت میں، جہاں ان کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جج اینالیسہ ٹوریس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ گوو نے ’چین میں جمہوریت لانے کے خواہش مند افراد کو نشانہ بنایا‘ اور ان کے خوابوں کا فائدہ اٹھا کر اپنی شاہانہ زندگی کے اخراجات پورے کیے۔\n\nگوو، جو ایک دہائی قبل چین چھوڑ کر چلے گئے تھے، خود کو امریکہ میں کمیونسٹ پارٹی کے ایک نمایاں ناقد کے طور پر پیش کرتے رہے۔\n\nسزا سنائے جانے سے پہلے گوو نے جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر احتجاج کیا اور کہا کہ انہیں اسی روز صبح ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ انہوں نے استغاثہ کے اس دعوے کو رد کیا کہ وہ بیماری کا بہانہ کر رہے تھے اور بتایا کہ جیل واپس جانے کے بعد انہیں بار بار قے آئی، جس کے بعد انہیں عدالت لایا گیا۔\n\nانہوں نے مترجم کے ذریعے بتایا: ’جب میں یہاں آیا تو میں نے کہا کہ مجھے پیٹ میں درد ہے، مجھے باتھ روم جانا ہے، میں ٹھیک محسوس نہیں کر رہا۔‘ بعد میں انہیں بار بار ٹشو سے منہ صاف کرتے دیکھا گیا۔\n\nانہوں نے مقدمے کے بارے میں مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد درست تھا اور چینی کمیونسٹ پارٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ‘میں امریکہ اسی لیے آیا تھا کہ سی سی پی کو ختم کروں۔‘\n\nجج نے سزا سناتے ہوئے متاثرہ افراد کے وہ خطوط بھی پڑھے جو انہیں موصول ہوئے تھے، جن میں لوگوں نے بتایا کہ ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی ضائع ہوگئی، وہ شدید ذہنی دباؤ اور شرمندگی کا شکار ہوئے اور ان کے خاندانوں نے بھی ان سے کنارہ کر لیا۔\n\nٹوریس نے کہا کہ گوو ’اپنے اعمال کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتے بلکہ حیران کن طور پر دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے رویے سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ گوو نے ’اپنے حامیوں کو ان لوگوں کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کے لیے اُکسایا جو ان کے خلاف بولنے کی ہمت کرتے ہیں۔‘\n\nجج نے حکم دیا کہ گوو 889 ملین ڈالر بطور ہرجانہ ادا کریں۔\n\nوی چن نامی ایک متاثرہ خاتون نے، جنہوں نے مقدمے میں گواہی دی، کہا کہ گوو کے فراڈ نے ‘میری اور میرے خاندان کی زندگی تباہ کر دی۔‘\n\nسزا سنائے جانے کے بعد جب گوو عدالت سے باہر نکلے تو ان کے حامیوں نے تالیاں بجائیں اور ان کی طرف آوازیں لگائیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nگرفتاری اور بغیر ضمانت حراست میں لیے جانے سے قبل، گوو امریکی قدامت پسند سیاسی حکمت کار سٹیو بینن کے اتنے قریب ہو گئے تھے کہ دونوں نے 2020 میں چین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے مشترکہ مہم کا اعلان کیا تھا۔\n\nوہ نیویارک میں سینٹرل پارک کے سامنے ایک لگژری اپارٹمنٹ میں رہتے تھے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلوریڈا کے مار-اے-لاگو گالف کلب کے رکن بھی تھے۔\n\nاستغاثہ نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں کم از کم 30 سال قید دی جائے اور کہا تھا کہ 2018 سے 2023 تک کے ان کے ‘حیران کن’ فراڈ نے ‘سینکڑوں زندگیاں تباہ کر دیں’ اور متاثرہ خاندانوں کو مالی، جذباتی اور نفسیاتی طور پر برباد کر دیا۔\n\nاستغاثہ کے مطابق، اس غیر قانونی دولت نے ‘انتہائی حد تک عیش و عشرت کی زندگی’ کو جنم دیا، جس میں محلات، یاٹ، ریس کاریں، مہنگے ڈیزائنر کپڑے اور قیمتی فرنیچر شامل تھا۔\n\nگوو کو سات ہفتوں کے ٹرائل میں 12 میں سے 9 الزامات میں قصوروار ٹھہرایا گیا، جہاں استغاثہ کے مطابق انہوں نے ہزاروں سرمایہ کاروں کو جعلی کاروباری سودوں میں دھوکہ دیا، جس سے ان کی لگژری زندگی ممکن ہوئی۔\n\nعدالتی دستاویزات میں گوو کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی ‘وسیع، ہمہ گیر اور جان لیوا’ مہم کا نشانہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی نے امریکا کے کاروباری، تفریحی اور سیاسی حلقوں کے بااثر افراد کو ان کے خلاف سازش کے لیے استعمال کیا۔\n\nوکلا کا کہنا تھا کہ طویل قید چین کی بدنام کرنے کی مہم کو درست ثابت کرے گی اور ‘چینی اختلاف رائے رکھنے والوں کو عوامی زندگی سے نکالنے کی کوششوں کو مزید تقویت دے گی،’ جبکہ اسی نوعیت کے دیگر کیسز میں ملزمان کو صرف دو سے چار سال قید دی گئی۔\n\nوکلا نے یہ بھی بتایا کہ عدالت کے ایک افسر نے جج کو لکھے گئے خط میں کہا کہ گوو، جنہیں مائلز گوو اور ہو وان کوک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، چین میں جسمانی تشدد کا شکار رہے اور 1993 سے 2022 کے دوران انہوں نے ان زخموں کے علاج کے لیے متعدد سرجریز کروائیں۔\n\nدفاعی وکلا کے مطابق، گوو کی دولت اس وقت بڑھی جب ان کا خاندان چین کی سب سے بڑی سکیورٹیز کمپنی کا بڑا شیئر ہولڈر بنا، لیکن بعد میں انہوں نے حکومتی اہلکاروں کی مبینہ کرپشن بے نقاب کی جس کے باعث وہ حکومت کے نشانے پر آگئے۔ بعد ازاں وہ ہانگ کانگ، لندن اور پھر 2017 میں نیویارک منتقل ہو گئے۔\n\nچینی حکام نے ان پر ریپ، اغوا، رشوت اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کیے، لیکن گوو نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا۔\n\nاستغاثہ کے مطابق، گوو نے لاکھوں افراد کو قائل کیا کہ وہ ان کی کمپنیوں میں ایک ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کریں، جن میں جی ٹی وی میڈیا گروپ، ہمالیہ فارم الائنس اور ہمالیہ ایکسچینج شامل ہیں۔\n\nحکومت کے مطابق، گوو نے اپنے جرائم پر کوئی پچھتاوا ظاہر نہیں کیا اور امریکا کے نرم قوانین سے فائدہ اٹھا کر وہاں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔\n\nارب پتی\n\nچینی\n\nامریکہ\n\nچین\n\nجمہوریت\n\nجج نے کہا کہ گوو نے ’چین میں جمہوریت لانے کے خواہاں افراد کو نشانہ بنایا‘ اور ان سے پیسے لے کر ایک عیش و عشرت بھری زندگی گزاری۔\n\nمائیکل آر سِسک، لیری نُوائمسٹر اور جینیفر پیلٹز\n\nمنگل, جون 30, 2026 - 13:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">چین سے فرار ارب پتی گوو ونگوئی 20 نومبر 2018 کو نیویارک میں ایک نیوز کانفرنس کر رہے ہیں، جس میں انہوں نے 3 جولائی 2018 کو فرانس میں ٹائیکون وانگ جیان کی موت پر بات کی۔ (ڈان ایمرٹ / اے ایف پی)</p>\n\nٹرینڈنگ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nرونالڈو کی دولت 1.4 ارب ڈالر، پہلے ارب پتی فٹ بالر بن گئے\n\n2024 میں دنیا کے کمر عمر ترین 25 ارب پتی افراد\n\nانسانی پلیسینٹا کی سمگلنگ، تین چینیوں سمیت پانچ ملزم گرفتار\n\nملازمت سے نکالنے کے لیے اے آئی کا بہانہ نہیں چلے گا: چینی عدالت\n\nSEO Title:\n\nعیش و عشرت کی زندگی، جعلی سرمایہ کاری، چینی ارب پتی کو 30 سال قید\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia?CMP=ILC-refresh\n\nTranslator name:\n\nہارون رشید\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "عیش و عشرت کی زندگی، جعلی سرمایہ کاری، چینی ارب پتی کو 30 سال قید"
}