{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibje6dmuayqrxmkyswrdky7fg6eaa7exbcpe77hxpnbly4xhdhiyq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpibzfvswmw2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreic5cdnhecdfk34ioiedywajcsqxvbilithf2dafzbn6t6n2b5a73u"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 68476
},
"path": "/node/186565",
"publishedAt": "2026-06-30T03:36:11.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"امریکہ",
"ایران",
"قطر",
"روئٹرز",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**دوحہ میں ایران اور امریکہ کے مذاکراتی وفود کی اس ہفتے ملاقات متوقع تھی، تاہم ایران نے پیر کو کہا کہ کوئی ملاقات طے نہیں ہے، کیونکہ ہفتے کے آخر میں دونوں جانب سے میزائل حملوں نے چار ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی عبوری جنگ بندی کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق، صدر اپنے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کو مذاکراتی وفد کی قیادت کے لیے بھیج رہے ہیں۔\n\nدوسری جانب ایران اس ہفتے اپنا تکنیکی وفد قطر بھیج رہا ہے، تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اس کا ’امریکی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں‘ اور دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں ہوئے۔\n\nایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا ہے کہ: ’آئندہ چند روز میں امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی مذاکراتی اجلاس نہیں ہو گا۔‘\n\nاس بات پر اختلاف کہ آیا دونوں ممالک کے وفود کی ملاقات ہوگی بھی یا نہیں، 17 جون کے اس معاہدے کی نازک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے، جس کا مقصد چار ماہ سے جاری جنگ کو روکنا تھا۔\n\nاس جنگ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کیا اور نومبر میں ہونے والے امریکی کانگریس کے انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر دیں۔\n\nامریکہ اور ایران نے اپریل کی جنگ بندی میں توسیع، ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت اور مستقل جنگ بندی کے لیے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے کم از کم 60 دن کا وقت مقرر کیا تھا۔ تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔\n\n28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت کا راستہ رہی ہے۔\n\nاسرائیل امریکہ اور ایران کے امن مذاکرات میں شامل نہیں ہے اور اس معاہدے سے خود کو الگ رکھا ہوا ہے۔\n\nیکم جون 2026 کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک ہسپتال کے قریب ہونے والے اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nواشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی نے لبنان میں جنگ بندی کی کوششوں کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری، جو ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے اتحادی ہیں، لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے ایک الگ معاہدے پر شکوک کا اظہار کر چکے ہیں۔\n\nایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ منگل کو دوحہ میں ایک اجلاس ہوگا، تاہم سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سابقہ تکنیکی مذاکرات کے برعکس اس بار توجہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور کشیدگی میں کمی پر ہوگی۔\n\nایک اور ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی تکنیکی وفود بدھ کو قطری اور پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔\n\n**واشنگٹن میں غیر یقینی صورت حال**\n\nصدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’دوحہ میں ہونے والی ملاقات شاید اہم ثابت ہو، شاید نہ ہو۔ ہم دیکھیں گے۔‘\n\nتاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم فوجی لحاظ سے جیت رہے ہیں۔‘\n\nامریکی مذاکرات کار سٹیو وٹکوف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کانگریس کے ارکان کو ایران سے متعلق ٹیلی فون پر بریفنگ دی۔\n\nریپبلکن سینیٹر سٹیو ڈینز نے گفتگو کو ’تعمیری‘ قرار دیا، جبکہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے رہنما چک شومر نے اسے ’ناکافی اور تفصیلات سے خالی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو ایک مہنگی جنگ میں جھونکنے کے بعد بھی ٹرمپ انتظامیہ یہ نہیں بتا سکی کہ امریکی عوام کو اس کے بدلے میں کیا حاصل ہوا۔ بلکہ سیکریٹری روبیو نے تصدیق کی کہ ایران اربوں ڈالر کی تیل آمدن حاصل کرے گا جبکہ آبنائے ہرمز پر اپنا خطرناک اثر و رسوخ بھی برقرار رکھے گا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**قطر میں منجمد ایرانی اثاثے**\n\nادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو کہا کہ قطر میں منجمد 12 ارب ڈالر میں سے 6 ارب ڈالر ایران کو واپس جاری کر دیے جائیں گے۔\n\nانہوں نے امریکی پابندیوں میں نرمی اور تیل و پیٹروکیمیکل شعبے سے متعلق رعایتوں پر مشتمل مفاہمتی یادداشت کو ‘ایرانی عوام کی عظیم کامیابی‘ قرار دیا۔\n\nہفتے کے آخر میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔\n\nادھر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ وہ عمان کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے میں تعاون کریں گے۔\n\nتاہم ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ بارودی سرنگوں کی صفائی صرف ایران ہی 14 نکاتی منصوبے کے مطابق انجام دے گا، اور انہوں نے فرانس کو صورتحال مزید پیچیدہ نہ بنانے کی تنبیہ بھی کی۔\n\nامریکہ\n\nایران\n\nقطر\n\nایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا ہے کہ: ’آئندہ چند روز میں امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی مذاکراتی اجلاس نہیں ہو گا۔‘\n\nروئٹرز\n\nمنگل, جون 30, 2026 - 08:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکہ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد، پاکستان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے (جیکولین مارٹن/ روئٹرز)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ۔ایران جھڑپیں بند، منگل کو قطر میں مذاکرات\n\nامریکہ۔ایران کشیدگی، امن کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے: پاکستان\n\nامریکہ اور ایران میں مکالمے کے فروغ کے لیے پرعزم: پاکستان\n\nامریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی معاہدے پر دستخط\n\nSEO Title:\n\nامریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کا دورہ قطر لیکن ملاقات غیر یقینی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کا دورہ قطر لیکن ملاقات غیر یقینی"
}