{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreib5k336alt6scu5nogq6k4vpamxflrcokdg3n64e7y4pqppkw2ima",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpi3cxlst4q2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreib2i5ub5ohsdrw45tqxynahjrgc6fmuwpekft7b5i7jamqylhuu7y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 62105
  },
  "path": "/node/186563",
  "publishedAt": "2026-06-30T02:48:17.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "انڈیا",
    "سندھ طاس معاہدہ",
    "پانی",
    "دریا",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پیر کو بتایا ہے کہ اسلام آباد میں منگل کو سندھ طاس معاہدے پر اپنی نوعیت کی پہلی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہو گی جس کا مقصد ’پاکستان کے قانونی حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔‘**\n\nوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے گذشتہ روز کہا کہ ’پاکستان آج سندھ طاس معاہدہ پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس ’علاقائی امن اور استحکام کے ضامن کے طور پر سندھ طاس معاہدہ‘ منعقد کرے گا، جس میں دنیا بھر سے آبی اور قانونی ماہرین شرکت کریں گے تاکہ ’معاہدے کے تحت پاکستان کے حقوق پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔‘\n\nوفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’اس ضمن میں دنیا بھر سے ماہرین پہلے ہی پاکستان پہنچ چکے ہیں تاکہ اس کانفرنس میں شرکت کر سکیں، جہاں سندھ طاس معاہدے کے تحت ’پاکستان کے دریاوں پر اس کے حقوق، ان حقوق کی قانونی حیثیت اور معاہدے کے مختلف پہلووں کی وضاحت کی جائے گی۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’اس معاہدہ کے حوالے سے پاکستان کا دیرینہ موقف نہ صرف بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے بلکہ اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ عالمی برادری پاکستان کے لیے آبی تحفظ کو نہایت اہم سمجھتی ہے اور معاہدے کے تحت ملک کے قانونی حقوق کو تسلیم کرتی ہے۔‘\n\nسندھ طاس معاہدہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا۔\n\nاس بین الاقوامی معاہدے کے تحت دریائے سندھ کے نظام سے تعلق رکھنے والے چھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا ایک باقاعدہ فریم ورک طے کیا گیا، جس کے مطابق تین مشرقی دریاوں کا کنٹرول انڈیا جبکہ تین مغربی دریاوں کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا۔\n\nمعاہدے کے تحت راوی، بیاس اور ستلج دریاؤں کا کنٹرول اور ان کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق انڈیا کو دیا گیا۔ جبکہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا۔\n\nمعاہدے کے تحت انڈیا کو ان دریاوں پر محدود نوعیت کے استعمال کی اجازت ہے، تاہم وہ پاکستان کے حصے کے پانی کے بہاو کو روکنے یا اس میں ایسی رکاوٹ پیدا کرنے کا مجاز نہیں جو معاہدے کی خلاف ورزی ہو۔\n\nاس حوالے سے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے موقف کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں قانونی حمایت حاصل ہوئی ہے کیونکہ سندھ طاس معاہدہ کو نہ یکطرفہ طور پر منسوخ کیا جا سکتا ہے، نہ ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی ایک فریق کی جانب سے اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایک واضح قانونی طریقہ کار واضع کیا گیا ہے، جو بدستور نافذ العمل ہے اور اس پر عملدرآمد جاری ہے۔\n\nان کے مطابق ’وزیراعظم شہباز شریف مسلسل یہ موقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ پانی پاکستان کی شہ رگ بھی ہے اور سرخ لکیر بھی، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ہر فورم پر یہی پیغام دیا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے عوام کو ایک ایسے قابلِ نفاذ معاہدے کے تحت پانی حاصل کرنے کا قانونی حق حاصل ہے، جسے دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور جو آج بھی نافذ العمل ہے۔ معاہدے کے حوالے سے انڈیا کو متعدد بین الاقوامی فورمز پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کا موقف کسی بھی فورم پر قبول نہیں کیا گیا۔‘\n\nانہوں نے کہا ’جب اس معاملے پر غیرجانبدارانہ انداز میں بات کی جاتی ہے تو بین الاقوامی ماہرین پاکستان کے حقوق کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ بیانیے کے محاذ پر پاکستان کی کامیابی ہے کیونکہ معاہدہ سندھ کے حوالے سے پاکستان کا موقف عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔‘\n\nاسی حوالے سے آبی امور کے ماہر کاشف سالک کہتے ہیں ’انڈیا کی جانب سے دریاوں کے لیے سرنگیں بنائے جانا ایک بنیادی تنازع بن رہا ہے۔‘\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’انڈیا کا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا ایک سیاسی پہلو تو رکھتا ہی ہے لیکن اس میں موسمیاتی تبدیلی کا پہلو بھی کافی مضبوط ہے۔‘\n\nیہ تصویر 27 اگست 2022 کو لی گئی تھی جس میں چند مقامی رہائشیوں کو صوبہ سندھ میں سکھر بیراج پر دریائے سندھ کے بہاؤ کا معائنہ کرتے دیکھا جاسکتا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nانہوں نے معاملہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا اس میں خاص طور پر جو مشرقی ہمالیائی خطہ ہے، جو دریائے بیاس، ستلج اور راوی اور کچھ حد تک دریائے چناب کو پانی فراہم کرتا ہے، وہ بہت تیزی سے پگھل رہا ہے۔\n\n’اس کی وجہ سے انڈیا کو یہ ادراک ہے کہ گلیشیر پگھلنے کے باعث مستقبل قریب میں گلیشیرز سے آنے والے دریاوں کے قدرتی بہاو میں کمی ہو جائے گی۔‘\n\nان کے مطابق ’سیلاب کی صورت حال ایک الگ معاملہ ہے لیکن قدرتی بہاو، جو گلیشیرز کے پگھلنے سے پیدا ہوتا ہے، اس میں کمی آئے گی۔‘\n\nکاشف کے مطابق خوش قسمتی سے مغربی ہمالیہ اور قراقرم کے سلسلوں میں گلیشیر پگھلنے کی صورت حال پاکستان کے لیے بہت کم ہے، یا نہ ہونے کے برابر ہے۔\n\n’اس لیے ہمارے دریائے سندھ، جہلم اور چناب میں پانی کا بہاو پائیدار ہے، یعنی وہ اتنی تیزی سے کم نہیں ہو رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان کے آبی بجٹ میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’چونکہ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہے، اس لیے یہی اصل دباو ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت جو مغربی دریا ہیں، جن پر ہمیں حق دیا گیا ہے۔‘\n\nان کے مطابق ’ان میں موجود تقریبا 20 فیصد دریائی پانی قدرتی بہاو کے تناظر میں انڈیا استعمال کر سکتا ہے لیکن وہ اب تک صرف پانچ فیصد ہی استعمال کر سکا ہے، ابھی تک 20 فیصد تک بھی نہیں پہنچا۔‘\n\nآبی ماہر کے مطابق ’بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا ہونا جن میں دریاؤں کے لیے سرنگیں بننا ایک اہم معاملہ ہے، جس کی وجہ سے یہ مسلہ سیاسی رخ اختیار کر گیا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’اب انڈیا سمجھتا ہے کہ آنے والی سالوں میں اسے پانی کی قلت کا سامنا ہوگا، اس لیے وہ مغربی دریاوں پر بھی ڈیم اور دیگر منصوبے بنا کر پانی کو اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کر رہا ہے جو بنیادی طور پر تنازع ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nکاشف کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان کے لیے آبی وسائل کے انتظام کا بھی مسلہ ہے۔\n\n’ہمیں اپنے پانی کو بہتر انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔ ایک طرف گلیشیرز کے پگھلنے اور معمول کی بارشوں سے آنے والا سیلابی پانی ہے، جس کی رفتار بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کے ساتھ مٹی اور گاد بھی ہوتی ہے، اس لیے وہ ذخیرہ کرنے یا موثر استعمال کے لیے زیادہ موزوں نہیں ہوتا۔ اس پانی کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے بہت سے انجینرنگ حل درکار ہیں۔‘\n\nان کے مطابق ’میرا خیال ہے کہ اگر ان انجینرنگ حلوں کو موسمیاتی تبدیلی کے زاویے سے دیکھا جائے تو ہمیں بہتر انداز میں سمجھ آئے گی کہ انڈیا کیا کر رہا ہے اور پاکستان کے لیے مستقبل میں پانی کے کیا منظرنامے بن رہے ہیں۔‘\n\nکاشف کے مطابق اس منظرنامے میں انجینرنگ حل، سندھ طاس معاہدے پر سنجیدہ گفتگو، تحقیق اور اعداد و شمار کا تجزیہ انتہائی ضروری ہے۔ اس کے بعد زیر زمین پانی کا جائزہ بھی ضروری ہے، کیونکہ پاکستان کے مجموعی آبی بجٹ میں زیر زمین پانی کا بھی خاصا حصہ شامل ہے۔\n\nان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اپنے تمام آبی وسائل کی دستیابی کو بہتر انداز میں منظم کرنا ہوگا، تاکہ ہم ایک مضبوط پوزیشن میں ہوں اور اپنے موقف کو مؤثر طریقے سے پیش کر سکیں۔‘\n\nپاکستان\n\nانڈیا\n\nسندھ طاس معاہدہ\n\nپانی\n\nدریا\n\nاسلام آباد میں آج سندھ طاس معاہدے پر اپنی نوعیت کی پہلی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوگی، وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق اس کا مقصد ’پاکستان کے قانونی حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔‘\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nمنگل, جون 30, 2026 - 07:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">23 مارچ، 2021 کو سکھر کے قریب دریائے سندھ کا ایک منظر (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ’قانونی و سیاسی جرم‘: پاکستان\n\nہیگ ثالثی ٹریبیونل کا فیصلہ اور سندھ طاس معاہدہ\n\nسندھ طاس معاہدے پر انڈیا کا اقدام آبی سلامتی کے لیے خطرہ: پاکستان\n\nسندھ طاس معاہدے کے تحت جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں گے: پاکستان\n\nSEO Title:\n\n’علاقائی امن اور استحکام کا ضامن‘ سندھ طاس معاہدے پر کانفرس آج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "’علاقائی امن اور استحکام کا ضامن‘ سندھ طاس معاہدے پر کانفرس آج"
}