{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihq3fbw4orsyvrpo36w7w5gtob55ej4cphlx7iw7igldipyrtzuge",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mphuexref5q2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicrfop3zrxhhe3lrrkldsgebjpcfwdj2motawkb44dy3tguca5fbi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 158889
},
"path": "/node/186550",
"publishedAt": "2026-06-29T06:45:28.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ہیٹ ویو",
"یورپ",
"فرانس",
"گرمی",
"اے ایف پی",
"ماحولیات",
"video"
],
"textContent": "**عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ 21 جون سے یورپ کے بیشتر حصے کو جھلسا دینے والی ہیٹ ویو کے باعث 1300 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔**\n\nیورپ میں کروڑوں افراد نے انتہائی درجہ حرارت والے ویک اینڈ کا سامنا کیا جب کہ جان لیوا ہیٹ ویو مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے ساتھ ہی کچھ ممالک اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد کا اعلان کر رہے ہیں اور صحت کے ادارے گنجائش ختم ہونے کا انتباہ کر رہے ہیں۔\n\nاتوار کی صبح فرانسیسی محکمہ صحت کے حکام نے کہا کہ ملک میں صرف بدھ سے تقریباً 1000 زائد اموات ہوئی ہیں۔\n\nعالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریاسس نے ایکس پوسٹ میں کہا کہ پورے یورپ میں ’21 جون سے یورپ میں زیادہ درجہ حرارت کے باعث 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔‘\n\n27 مئی 2026 کو اطالوی شہر میلان میں ڈوومو سکوائر کے قریب ایک شخص گرمی سے بچنے کے لیے پانی کی پھوار والے پنکھے کے سامنے کھڑا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nانہوں نے کہا کہ ’گرمی کی شدت کو اکثر ’خاموش قاتل‘ کہا جاتا ہے اور یورپی گھر، دفاتر اور سکول اتنے درجہ حرارت کے لیے نہیں بنائے گئے تھے۔‘\n\nاے ایف پی کے اندازوں کے مطابق اتوار کو یورپ میں کم از کم 19 کروڑ 10 لاکھ افراد کو کم از کم 35 درجے سیلسیئس درجہ حرارت کا سامنا کرنے کی پیش گوئی کی گئی جب کہ جرمنی، جمہوریہ چیک، ہنگری اور پولینڈ میں گرمی کی شدت خاصی زیادہ ہوگی۔\n\nجرمن محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں اور جوائنٹ ریسرچ سینٹر کے 2025 کی آبادی کے تخمینوں پر مبنی، آسٹرین این جی او کلائما ڈیش بورڈ کی جانب سے مرتب کیے گئے تجزیے کے مطابق، ترکی کے علاوہ یورپ میں مجموعی طور پر 38 کروڑ 10 لاکھ افراد کو 30 درجے سے زائد درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا۔\n\nٹیڈروس نے خبردار کیا کہ اس وقت پورے براعظم میں کروڑوں افراد ’شدید گرمی میں زندگی گزار رہے ہیں، سینکڑوں جان گنوا چکے ہیں، سکول بند ہیں، اور بجلی کا نظام جواب دے رہا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا، ’موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے باعث ’ایک نسل میں ایک بار‘ آنے والی ہیٹ ویو کا واقعہ اب تقریباً ہر سال پیش آ رہا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یورپ زمین پر سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے، جو عالمی اوسط سے دوگنا تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔‘\n\nعالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کا صحت کا ادارہ ’تیاری، بچاؤ اور صحت کے نظام کے مضبوط ردعمل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے شدید گرمی سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے رکن ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔‘\n\nانہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر صحت کے تحفظ کی کوششوں کے حصے کے طور پر، یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ ’گرمی سے صحت کے تحفظ کے عملی منصوبوں کو عملی شکل دیں۔‘\n\nہیٹ ویو\n\nیورپ\n\nفرانس\n\nگرمی\n\nعالمی صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریاسس نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ اس وقت یورپ میں ہیٹ ویو کی وجہ سے سینکڑوں جان گنوا چکے ہیں، سکول بند ہیں، اور بجلی کا نظام جواب دے رہا ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nسوموار, جون 29, 2026 - 11:45\n\nMain image:\n\n> <p>شمالی انگلینڈ کے شہر لیڈز میں، ایک خاتون 25 جون 2026 کو گرمی کی شدت کم کرنے کے لیے اپنے گھر کے باہر پانی کا چھڑکاؤ کر رہی ہیں۔ (تصویر: اے ایف پی)</p>\n\nماحولیات\n\njw id:\n\nKzi1ttxt\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n40 ڈگری کی ہیٹ ویو میں مردوں کے لباس پر ترس کیوں آنے لگا؟\n\nیورپ گرمی سے بلبلا اٹھا\n\nانڈیا: اپریل سے جون تک طویل ہیٹ ویوز، بجلی کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ\n\nیورپ کے کئی ملکوں میں شدید گرمی، سکول بند اور ٹرین سروس محدود\n\nSEO Title:\n\nیورپ میں شدید گرمی سے 1300 سے زائد اموات ریکارڈ: ڈبلیو ایچ او\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "یورپ میں شدید گرمی سے 1300 سے زائد اموات: عالمی ادارہ صحت"
}