{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifudpjzzwlade6ivcqkpoyaemwrgokro5oam5iy2fe2lr5npi72qy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mphuefjg2ma2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifwi4qr3b23hngv6v7fkcuhbcmyv2vaoggbkqlqfcqe25oh257y5m"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 111389
},
"path": "/node/186558",
"publishedAt": "2026-06-29T12:33:02.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"سندھ طاس معاہدہ",
"پاکستان",
"انڈیا",
"پانی",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"news"
],
"textContent": "**وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے پیر کو واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔**\n\nاسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک سے دو ماہ کے دوران سندھ طاس معاہدے کو بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھایا گیا ہے اور پاکستان آئندہ عالمی کانفرنس میں بھی اس معاملے کو بھرپور طریقے سے پیش کرے گا۔\n\nڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 40 سے 50 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے جبکہ قومی معیشت کا 20 سے 25 فیصد حصہ بھی اسی شعبے سے وابستہ ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ملک کی سو فیصد غذائی ضروریات کا دارومدار زرعی پیداوار پر ہے، جو براہ راست پانی سے جڑی ہوئی ہے۔\n\nانہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کے پانی پر کوئی قدغن لگائی گئی تو اس کے اثرات معیشت، روزگار اور فوڈ سکیورٹی پر براہ راست مرتب ہوں گے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ صرف اپنے موقف کا اعلان کر چکا ہے بلکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں دو مرتبہ عملی طور پر اپنے قومی مفادات کے دفاع کی صلاحیت بھی ثابت کر چکا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے ان تمام ممالک کا ہے جو دریاؤں کے زیریں حصوں میں واقع ہیں۔\n\nانہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عالمی برادری یہ اصول تسلیم کرے گی کہ بالائی ممالک زیریں علاقوں کا پانی روک سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہوا تو اربوں افراد کے بنیادی حقوق خطرے میں پڑ جائیں گے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ برسلز ملاقاتوں میں بھی پاکستان نے یہی موقف پیش کیا ہے اور آئندہ بین الاقوامی کانفرنس میں انڈس واٹر ٹریٹی، بین الاقوامی قوانین اور زیریں ممالک کے حقوق کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے گا۔\n\nانہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر دریاؤں پر پانی کی تقسیم کسی معاہدے کے بجائے بین الاقوامی اصولوں کے تحت ہوتی ہے، اور بہتے پانی کو روکنا فطرت کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق یہ کانفرنس دراصل انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ایک اہم آزمائش ہوگی۔\n\nڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ جس طرح دنیا نسل کشی کو قبول نہیں کر سکتی، اسی طرح کسی قوم کو پانی جیسے بنیادی حق سے محروم کرنا بھی ناقابل قبول ہونا چاہیے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس معاملے کو مختلف عالمی فورمز پر اٹھا چکا ہے اور اب تک اس موقف کا کوئی مؤثر جواب سامنے نہیں آیا۔\n\nانہوں نے بتایا کہ کل (منگل کو) اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر ایک کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جہاں اس معاملے کے قانونی، تکنیکی اور بین الاقوامی پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔\n\nسندھ طاس معاہدہ\n\nپاکستان\n\nانڈیا\n\nپانی\n\nمنگل کو اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر ایک کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جہاں سندھ طاس معاہدے معاملے کے قانونی، تکنیکی اور بین الاقوامی پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, جون 29, 2026 - 17:30\n\nMain image:\n\n> <p>چھ مئی 2025 کو لی گئی تصویر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں چناب دریا پر واقع بگلیہار ڈیم کا منظر (روئٹرز)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ’قانونی و سیاسی جرم‘: پاکستان\n\nہیگ ثالثی ٹریبیونل کا فیصلہ اور سندھ طاس معاہدہ\n\nسندھ طاس معاہدے پر انڈیا کا اقدام آبی سلامتی کے لیے خطرہ: پاکستان\n\nپاکستان کا سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم\n\nSEO Title:\n\nاپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: پاکستان"
}