{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiaxla6yem6o5xxs2zslzrfznfd5zha635nlfj67bjdux6pzcc3znu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mphuebwdita2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreih2vlxvinjjp5gasrixizk53ks5tfokqchtmh3e6uerao2zvdtgbm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 65262
},
"path": "/node/186559",
"publishedAt": "2026-06-29T13:17:00.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پی آئی اے",
"نجکاری",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"معیشت",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان کی سرکاری فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی ملکیت باضابطہ طور پر نئے مالکان کو منتقل کر دی گئی، جس کے بعد نئی انتظامیہ نے 29 جون 2026 سے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔**\n\nدسمبر 2025 میں بولی کے مرحلے کے بعد منتقلی کا یہ عمل عالمی ریگولیٹری تقاضوں کے باعث کئی ماہ تاخیر کا شکار رہا۔\n\nوزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کے مطابق پی آئی اے کے مختلف ممالک میں آپریٹنگ حقوق کو نئے نجی آپریٹر کے نام منتقل کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر متعدد ریگولیٹری منظوریوں کی ضرورت تھی، جو اب مکمل ہو چکی ہیں۔\n\nاس کے علاوہ پی آئی اے کو پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے سے متعلق مقامی قوانین میں بھی ترامیم کی گئی ہیں۔\n\nنجکاری کے معاہدے کے تحت اگرچہ باضابطہ منتقلی سے قبل فیصلہ سازی کا اختیار حکومتی دائرے میں رہا، تاہم نجی خریداروں کو آپریشنل اور مالی معاملات میں مکمل شمولیت حاصل رہی۔\n\nعارف حبیب کنسورشیم کے ذیلی ادارے پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ نے 180 ارب روپے کے معاہدے کے تحت پی آئی اے کی ملکیت حاصل کی ہے۔\n\nاس رقم میں سے 55 ارب روپے حکومت پاکستان کو ادا کیے جائیں گے جبکہ 125 ارب روپے ایئرلائن کی بہتری اور سرمایہ کاری پر خرچ کیے جائیں گے۔\n\nپی آئی اے سی ایل کی جانب سے پیر کو جاری اعلامیے کے مطابق نئی سرمایہ کاری کو آپریشنل اصلاحات، بیڑے کی جدید کاری، نئے روٹس کے آغاز، ادارے کی ڈیجیٹلائزیشن اور سروس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔\n\nپی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کے چیئرمین نے اس موقع پر کہا کہ اگرچہ ملکیت کی منتقلی ایک اہم مرحلہ ہے، تاہم قوم کا اعتماد محض دستاویزات کی تبدیلی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔\n\nانہوں نے کہا کہ یہ اعتماد ہر پرواز، ہر خدمت اور وقت کے ساتھ مسلسل کارکردگی کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ نئی انتظامیہ اس ذمہ داری کا مکمل ادراک رکھتی ہے اور قومی اعتماد کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ملکیت تبدیل ہو چکی ہے لیکن پاکستان کی خدمت کا جذبہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔\n\nچیئرمین نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پی آئی اے کے شاندار ماضی اور ورثے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک جدید اور عالمی معیار کی ایئرلائن میں تبدیل کیا جائے گا۔\n\nنجکاری کے معاہدے کے تحت اگرچہ باضابطہ منتقلی سے قبل فیصلہ سازی کا اختیار حکومتی دائرے میں رہا، تاہم نجی خریداروں کو آپریشنل اور مالی معاملات میں مکمل شمولیت حاصل رہی۔\n\n23 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں پی آئی اے کی نجکاری کا عمل جاری ہے (شکیل احمد)\n\n\n\n\nحکومت نے نجکاری کے عمل کو سہولت دینے کے لیے اہم مالی مراعات بھی فراہم کیں، جن میں طیاروں کی خرید و لیز، آلات اور دیگر سازوسامان پر 15 سال کے لیے ٹیکس چھوٹ شامل ہے۔\n\nاس اقدام کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری بھی حاصل ہوئی اور اسے فنانس بل 2026-27 میں قانونی تحفظ دیا گیا۔ تاہم یہ رعایت دیگر ایئرلائنز کو حاصل نہیں، جس پر پارلیمانی حلقوں اور صنعت کے دیگر سٹیک ہولڈرز نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nنجکاری کے تحت عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کیے، بعد ازاں فوجی فرٹیلائزر کمپنی بھی اس میں شامل ہو گئی اور کنسورشیم نے 100 فیصد کنٹرول حاصل کر لیا۔\n\nنئی شیئرہولڈنگ کے مطابق فاطمہ فرٹیلائزر 34.1 فیصد، فوجی فرٹیلائزر 33.9 فیصد، لیک سٹی 16 فیصد جبکہ سٹی سکولز اور اے کے ڈی گروپ مشترکہ طور پر 16 فیصد حصص کے مالک ہیں۔\n\nحکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران مزید نجکاری منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے، جن میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، زرعی ترقیاتی بینک اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن شامل ہیں۔\n\nکراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے بھی مالیاتی مشیروں کی تقرری کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔\n\nیہ نجکاری پروگرام وسیع تر اقتصادی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معیشت میں مسابقتی ماحول پیدا کرنا ہے۔\n\nپی آئی اے\n\nنجکاری\n\nدسمبر 2025 میں بولی کے مرحلے کے بعد منتقلی کا یہ عمل عالمی ریگولیٹری تقاضوں کے باعث کئی ماہ تاخیر کا شکار رہا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, جون 29, 2026 - 18:15\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کا طیارہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر 10 جنوری 2025 کو پیرس کے لیے پرواز بھرنے کی تیاری کر رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپی آئی اے کے اثاثے، واجبات اور کنٹرول منتقل کرنے کے بل منظور\n\nپی آئی اے کا لندن روٹ سے 71 سال پرانا رشتہ دوبارہ بحال\n\nپی آئی اے کی 30 مارچ سے لندن کے لیے براہ راست پروازیں بحال\n\nپی آئی اے: عارف حبیب کا بقیہ 25 فیصد حصص خریدنے کا ارادہ\n\nSEO Title:\n\nکئی ماہ تاخیر کے بعد پی آئی اے نئے مالکان کے حوالے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "کئی ماہ تاخیر کے بعد پی آئی اے نئے مالکان کے حوالے"
}