{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiehzif2k54ftjxbzj7jgcq6cslaziuozqlczqx6xyg7usiregdu5u",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mphue4euq7n2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigxk7iiiredwthfarbjhldjt7m3lf5brtq6jz5e4srbqwzrrz5o24"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 199401
},
"path": "/node/186561",
"publishedAt": "2026-06-30T01:08:01.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان",
"پارلیمان",
"عالمی دن",
"قانون سازی",
"آئینی ترامیم",
"آصف محمود",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**آج یعنی 30 جون کو دنیا میں یوم پارلیمان منایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پارلیمانی سفر میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہماری کیا کارکردگی رہی ہے، ہم نے کیا حاصل کیا اور ہماری کامیابیوں اور ناکامیوں کا میزانیہ کیا ہے؟**\n\nلیکن اس سوال کا جواب ملامت اور خود ستائشی کی دو متضاد انتہاؤں سے دور رہ کر تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔\n\nجب ہم پاکستان کی پارلیمانی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اگر زیادہ روشن نہیں تو اتنی تاریک بھی نہیں۔\n\nکہیں کہیں قابل تعریف چیزیں بھی ملتی ہیں اور کہیں کہیں کچھ مقاماتِ آہ و فغاں بھی آتے ہیں۔ ہر دو کا جائزہ لے کر ہی متوازن رائے قائم کی جا سکتی ہے۔\n\nہمارا پارلیمانی سفر جیسا بھی تھا، ایک چیز خوش آئند ہے کہ سماج کے شعور اجتماعی نے غیر پارلیمانی بندوبست کو قبول نہیں کیا۔\n\nآمریتوں کے طویل ادوار بے شک رہے، لیکن سماج کو جب بھی موقع ملا، وہ واپس پارلیمانی نظام کی طرف پلٹ آیا۔\n\nراستہ بے شک ہموار نہیں تھا، لیکن پارلیمانی سفر جیسے تیسے جاری رہا۔ اس کی شکل بھی اکثر اوقات بلا شبہ مثالی نہ رہ لیکن یہ سفر رکا نہیں۔\n\nسارے مسائل کے باوجود بات آگے ہی بڑھی، پیچھے نہیں گئی۔ پہلے عام انتخابات بہت تاخیر سے ہوئے، مگر اس کے بعد جیسے تیسے بھی سہی، انتخابات ہوتے رہے۔\n\nسیاسی تلخیاں بھی رہیں، مگر پھر میثاقِ جمہوریت کی شکل میں ان غلطیوں کا ازالہ بھی ہوا۔ اسی کا نام ارتقا ہے۔\n\nپارلیمانی سفر کی اس دھوپ چھاؤں میں ہماری پارلیمان کا سب سے بڑا کارنامہ ہمارا آئینی ڈھانچہ ہے، جو دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد اور منفرد پارلیمانی تجربہ تھا۔ ہماری پارلیمان کا تذکرہ اس کارنامے کے بغیر ادھورا ہے۔\n\nاس آئینی ڈھانچے کے مطابق پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے، مگر یہ عام مروجہ جمہوریت نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ہے۔ پھر یہ کہ بھلے یہ اسلامی جمہوریہ ہے لیکن یہاں تھیوکریسی یعنی ملائیت نہیں ہے۔\n\nپاکستان میں قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہو گی، لیکن یہ قانون سازی تھیوکریسی کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہو گی۔\n\nاور عوام کے منتخب نمائندے فیصلہ ساز تو ہوں گے لیکن ان کا اختیار لامحدود نہیں بلکہ محدود ہو گا اور وہ اس اختیار کو اللہ کی امانت سمجھ کر استعمال کریں گے۔\n\nاسلامی ریاست کے حوالے سے یہ ایک منفرد تجربہ تھا، جس کی تفہیم میں بعض لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر اوقات نظری مباحث اسی وجہ سے الجھ جاتے ہیں۔\n\nکچھ کو لگتا ہے ہم اسلامی ریاست نہیں ہیں اور کچھ کو محسوس ہوتا ہے ہم جمہوری ریاست نہیں ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ ہیں۔\n\nآئینی ڈھانچے اور آئین میں کافی فرق ہے۔ ڈھانچہ تو پارلیمان نے شاندار بنایا، لیکن آئین میں بہت سارے مسائل ہیں۔\n\nپارلیمان نے اس پر اس طرح غور و فکر ہی نہیں کیا جو کیا جانا چاہیے تھا۔\n\nآئینی ترامیم کیں تو کھڑے کھڑے کر دیں۔ پہلا متفقہ آئین بنا تو وہ بھی اس وقت بنا جب قوم مشرقی پاکستان کے سانحے کی وجہ سے صدمے میں تھی اور پارلیمان کی کوشش تھی کہ بس اب کسی نہ کسی طرح قوم کو متفقہ آئین دے دیا جائے۔\n\nیہ اچھا کام تھا، مگر اس میں کچھ چیزیں نظر انداز ہو گئیں، جو آج تک نظر انداز ہو رہی ہیں۔\n\nکہیں کہیں کاپی پیسٹ کا تاثر آتا ہے۔ کہیں کہیں پارلیمانی ہے، کہیں کہیں صدارتی ہے، کہیں کہیں شاہانہ اختیارات بھی ہیں۔\n\nتھوڑا تھوڑا نوآبادیاتی بھی ہے۔ بہت کچھ ایسا ہے جو نظرِ ثانی کا محتاج ہے، لیکن پارلیمان کا المیہ یہ رہا کہ جب جب آئین سازی کی یا ترامیم کیں، اکثر کسی ہیجانی یا وقتی ضرورت کے تحت کیں اور ایک بامعنی مشاورتی عمل کا فقدان رہا۔\n\nپارلیمان کی کارکردگی بھی ایک سوالیہ نشان ہی رہی۔ غیر معمولی مراعات کے باوجود پارلیمان میں عوام کو درپیش سنجیدہ مسائل پر کوئی سنجیدہ گفتگو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔\n\nبالعموم جذباتیت اور سطحیت کا غلبہ رہتا ہے۔ پارلیمان جس سنجیدگی کی طالب ہے، وہ سنجیدگی ہمیشہ نایاب ہی رہی۔ کورم تک پورے نہیں ہوتے۔\n\nپارلیمان پر جب سوال اٹھتا ہے تو اہل سیاست غیر پارلیمانی قوتوں کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں۔\n\nیہ بات جزوی طور پر تو سچ ہو سکتی ہے مگر یہ مکمل سچ نہیں ہے۔ مکمل سچ یہ ہے کہ پارلیمان کی اس بے توقیری میں سب سے بڑا ہاتھ پارلیمان کا اپنا ہے۔\n\nسب سے پہلی پارلیمان کو دیکھ لیجیے، دستور ساز اسمبلی۔ اس کا بنیادی کام ہی آئین بنانا تھا۔\n\n1947 سے 1954 تک اس سے آئین نہیں بنایا گیا۔ اب تو پارلیمان کی مدت پانچ سال ہوتی ہے لیکن اس پارلیمان کی کوئی مدت ہی نہیں تھی۔\n\n29 اپریل، 2014 کی اس تصویر میں اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت نظر آ رہی ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nسات آٹھ سال میں یہ نہ آئین بنا سکی، نہ ہی ازراہِ مروت مستعفی ہو سکی کہ یہ آئین ہمارے بس کی بات نہیں۔ اس اسمبلی کو توڑ دیا گیا اور پھر ایک عدالتی کارروائی چلی، جو تاریخ کا حصہ ہے۔\n\nقانون کے طالب علم کے طور پر میری رائے بھی یہی ہے کہ اس اسمبلی کو غلط اور غیر قانونی طریقے سے توڑا گیا اور اس پر عدالتی فیصلہ بھی غلط تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ اسمبلی نہ توڑی جاتی تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ اکابرین خود معاملہ مزید کتنے سال اسمبلی میں تشریف فرما رہتے کہ عزیز ہم وطنو، ہم آئین بنا رہے ہیں؟\n\nان کی تو کوئی مدت ہی نہ تھی۔ شاید انہیں لگتا ہو کہ آئین بنا دیا تو ہماری مدت ختم ہو جائے گی، اس لیے بیٹھے رہو اور مزے کرو، آئین بنانے کی کیا ضرورت ہے؟\n\nانڈیا کی پارلیمان اگر بہت جلد ہی آئین بنا سکتی تھی تو ہماری اسمبلی سات سالوں میں آئین کیوں نہ بنا سکی؟\n\nکیا کوئی ضمانت ہے کہ یہ اکابرینِ کرام اگلے دس بیس سال بھی اسمبلی میں نہ بیٹھے رہتے کہ ہم ابھی تک آئین بنا رہے ہیں، اس لیے ہمیں تنگ نہ کیا جائے؟\n\nایک عذر پیش کیا جاتا ہے کہ شروع میں ہی قائدِ اعظم کا انتقال ہو گیا، اس لیے پارلیمان آئین نہ بنا سکی۔ یہ کمزور دلیل ہے کیونکہ قتل تو گاندھی کا بھی ابتدائی دنوں میں ہی ہو گیا تھا۔\n\n1948 میں گاندھی قتل ہوئے اور 1949 میں انڈیا اپنا آئین بنا چکا تھا۔ ہمارے اکابرین 1954 تک آئین نہ بنا سکے۔ وہ آخر اس دوران کرتے کیا رہے؟\n\nیہیں سے پارلیمان کی بے توقیری کا آغاز ہوا۔ ورنہ جو اہل سیاست قیام پاکستان کے بعد اس کی پہلی اسمبلی کا حصہ تھے، وہ اگر کارکردگی دکھا پاتے تو وہ اتنے کمزور تو نہ ہوتے کہ ان پر ایوب خان ایبڈو لگا دیتا۔\n\nیہ ان کا اپنا نامۂ اعمال بھی تھا جس نے انہیں نامعتبر کیا۔ افسوس کہ یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے۔\n\nپارلیمان ہمارے نمائندوں کا اجتماع ہے۔ وہ نہ فرشتے ہیں نہ شیاطین، وہ ہم جیسے ہیں۔\n\nان میں خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی۔ ہم ان کی خوبیوں کے معترف ہیں۔ اب انہیں بھی اپنی خامیوں کو تسلیم کر کے ان کی اصلاح کرنی چاہیے اور اس میں کیا کلام ہے کہ خوبیوں کا پلڑا ہلکا ہے، بہت ہلکا۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nپاکستان\n\nپارلیمان\n\nعالمی دن\n\nقانون سازی\n\nآئینی ترامیم\n\nپاکستان کا پارلیمانی سفر کامیابیوں اور کمزوریوں کا امتزاج ہے جہاں آئینی ڈھانچہ بڑی کامیابی مگر کارکردگی اور قانون سازی پر سوالات برقرار ہیں۔\n\nآصف محمود\n\nمنگل, جون 30, 2026 - 06:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کے 29 فروری 2024 کو ہونے والے اجلاس کا منظر (انڈپینڈنٹ اردو / قرۃ العین شیرازی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاحتجاج، معاشی مشکلات اور قانون سازی: شہباز حکومت کا پہلا سال\n\nپاکستان میں ’ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر‘، تعلیم کی فراہمی کا آئینی وعدہ ناکام؟\n\nآئین میں ترمیم اور قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے: وزیراعظم\n\nنیا آئین، پرانا نظام\n\nSEO Title:\n\nعالمی یوم پارلیمان: ہم کہاں کھڑے ہیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "عالمی یوم پارلیمان: ہم کہاں کھڑے ہیں؟"
}