{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreialfghrnq2jdjocvrs2l4tnw4uyho5mbob6doss4uzb72huwwgb4e",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpf56kgqfr42"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreias34pbqyjzuzrcgdetxep4arsqtthndy4gouixw3rwuq4sl4yqf4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 173488
},
"path": "/node/186538",
"publishedAt": "2026-06-28T12:33:07.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان کے زیر انتظام کشمیر",
"کمیٹی",
"احتجاج",
"سیاحت",
"ندیم شاہ",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے جاری احتجاج کے باعث پاکستان زیر انتظام کشمیر میں گرمائی سیاحت کا سیزن ایک بار پھر شدید متاثر ہوا ہے۔ مسلسل تیسرے سال پیک سیزن کے دوران احتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کے باعث سیاحتی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہیں، جبکہ ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور سیاحت سے وابستہ کاروبار کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔**\n\nمظفرآباد، جسے کشمیر کی سیاحت کا گیٹ وے کہا جاتا ہے، اس وقت مکمل طور پر سنسان دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں سے وادی نیلم، جہلم ویلی، لیپہ، پیر چناسی اور دیگر سیاحتی مقامات کا سفر شروع ہوتا ہے، تاہم سات جون کے بعد سے شہر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام جاری ہے۔\n\nاحتجاج کے باعث انٹرنیٹ، پیٹرول پمپس اور بینک بھی دو ہفتوں سے زائد عرصے سے بند ہیں، جبکہ حکومت نے احتجاج شروع ہونے سے قبل ہی سیاحوں کو کشمیر چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی تھی، جس کے بعد سیاحتی علاقے تقریباً خالی ہو گئے۔\n\nسال 2024 میں بھی گرمائی سیاحت کے عروج کے دوران اس وقت کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مہاجرین کی نشستوں، بجلی اور دیگر مطالبات کے حق میں احتجاج کیا گیا تھا، جس کے باعث مختلف اضلاع اور بالخصوص مظفرآباد کی جانب آنے والے راستے بند رہے۔\n\nمحکمہ سیاحت کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2024 میں مجموعی طور پر 29 لاکھ سیاح کشمیر آئے، تاہم جون اور جولائی میں گرمائی سیاحت معمول سے کہیں کم رہی، جس کی ایک بڑی وجہ احتجاج اور ٹرانسپورٹ کی بندش قرار دی گئی۔\n\n2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی میں ہونے والی کشیدگی اور مختصر جنگ کے باعث لائن آف کنٹرول سے ملحقہ علاقوں، خصوصاً وادی نیلم، جہلم ویلی اور پونچھ ڈویژن میں سیاحتی سرگرمیاں مکمل طور پر رک گئیں۔ محکمہ سیاحت کے مطابق اس سال صرف 21 لاکھ سیاح کشمیر کا رخ کر سکے، جو گذشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں کمی تھی۔\n\nرواں سال 2026 میں سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کو بہتر کاروبار کی امید تھی، تاہم مئی کے آخر میں حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد حالات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔ حکومت نے سیاحوں کی حفاظت کے پیش نظر انہیں کشمیر سے نکل جانے کی ہدایت جاری کی، جبکہ چھ جون کو حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس کے بعد مختلف علاقوں میں احتجاج اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں اب تک چار سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 22 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔\n\nمحکمہ سیاحت کے مطابق رواں سال عید کے موقع پر صرف 65 ہزار سیاح کشمیر پہنچے، جبکہ اس کے بعد پیک سیزن میں متوقع سیاحوں کی آمد بھی احتجاج کے باعث نہ ہو سکی۔\n\nاس وقت وادی نیلم کے شاردہ، کیل، رتی گلی، تاوبٹ، اپر نیلم اور اڑنگ کیل، وادی جہلم کے لیپہ اور قاضی ناگ، جبکہ پونچھ ڈویژن کے تولی پیر، بنجوسہ، حویلی، باغ اور لس ڈنہ سمیت متعدد سیاحتی مقامات پر ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز خالی پڑے ہیں۔\n\nوادی نیلم سے تعلق رکھنے والے سیاحتی وی لاگر اور صحافی امیر الدین مغل نے بتایا کہ گذشتہ تین برسوں سے وادی نیلم کی گرمائی سیاحت مسلسل زوال کا شکار ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ دو برس سے جاری احتجاج، ملکی حالات اور حالیہ موسمی واقعات، خصوصاً کلاؤڈ برسٹ جیسے حادثات نے بھی سیاحت کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے ہوٹل مالکان اور سیاحت پر انحصار کرنے والے ہزاروں خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔\n\nمظفرآباد سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنما محفوظ انقلابی کے مطابق چند برس قبل پیک سیزن میں ہزاروں سیاح مظفرآباد سے وادی نیلم، جہلم ویلی اور دیگر علاقوں کا رخ کرتے تھے، لیکن حالیہ برسوں میں احتجاج کے باعث سیاحوں کی آمد تقریباً ختم ہو چکی ہے، جس سے ہوٹل انڈسٹری اور مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر\n\nکمیٹی\n\nاحتجاج\n\nسیاحت\n\nمحکمہ سیاحت کے مطابق 2024 میں 29 لاکھ سیاح کشمیر آئے،2025 میں 21 لاکھ سیاح کشمیر کا رخ کر سکے جبکہ رواں سال 2026 میں عید کے پر صرف 65 ہزار سیاح کشمیر پہنچے، اس کے بعد پیک سیزن میں متوقع سیاحوں کی آمد بھی احتجاج کے باعث نہ ہو سکی۔\n\nندیم شاہ\n\nاتوار, جون 28, 2026 - 17:30\n\nMain image:\n\n> <p>مظفرآباد میں 16 جون، 2026 کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے خلاف احتجاجی کال کے دوران لوگ بند دکانوں کے قریب جمع ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nMdVG1tt8\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپرتشدد احتجاج کے باعث پاکستانی کشمیر میں خوراک کا بحران\n\nکالعدم کشمیر کمیٹی کے ساتھ بات چیت نہیں ہو رہی: طارق فضل\n\nپاکستانی کشمیر میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ: فوج\n\nکالعدم کشمیر کمیٹی کے 4 رہنماؤں کی گرفتاری پر انعام کا اعلان\n\nSEO Title:\n\nعوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور انڈیا سے جنگ، پاکستانی کشمیر کی سیاحت تیسرے سال بھی متاثر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور انڈیا سے جنگ، پاکستانی کشمیر کی سیاحت تیسرے سال بھی متاثر"
}