{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicggrlbm2i4umb2omngiorda5stvwsi5lz4x3rerjerrl5bfv6k4q",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpbegul7xjh2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreie2w5siibe5drbdhbhew3lnpukbug2gkugd2g6fyurglh6nwtpqcy"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 167134
  },
  "path": "/node/186528",
  "publishedAt": "2026-06-27T11:29:42.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "آئی ایس پی آر",
    "بلوچستان",
    "پاکستان",
    "عسکریت پسندی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ہفتے کو کہا ہے کہ بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی دو الگ کارروائیوں کے دوران آٹھ عسکریت پسند جان سے گئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔**\n\nآئی ایس پی آر کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان کے مطابق بلوچستان کے ضلع خاران میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں تین عسکریت پسند جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ مستونگ میں ہونے والی دوسری کارروائی میں ایک خودکش حملہ آور سمیت پانچ عسکریت پسند مارے گئے۔\n\nپاکستان فوج نے کہا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران عسکریت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد (آئی ای ڈیز) اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی گئیں۔\n\nآئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں مزید ’انڈیا کے حمایت یافتہ دہشت گردوں‘ کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔\n\nاس بیان پر انڈیا کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nہفتے کی سہ پہر کو کوئٹہ کے نواحی علاقے میاں غنڈی لنک روڈ پر دشت پولیس تھانے کی گاڑی کے قریب بم دھماکا ہوا، ایس ایچ او دشت اختر محمد نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ دھماکے میں چار اہلکار معمولی زخمی ہو گئے اور پولیس کی گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا جب کہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔\n\nپاکستان کا سب سے بڑا مگر نسبتاً کم ترقی یافتہ صوبہ بلوچستان، جو ایران اور افغانستان سے متصل ہے، کئی برسوں سے علیحدگی پسند شورش کا مرکز رہا ہے، جس میں حالیہ برسوں کے دوران شدت آئی ہے۔\n\nبلوچستان میں حالیہ عرصے میں غیر ملکی شہریوں، ترقیاتی منصوبوں، سیکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔\n\nپاکستان متعدد بار الزام عائد کر چکا ہے کہ انڈیا بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت کرتا ہے، تاہم نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔\n\nآئی ایس پی آر\n\nبلوچستان\n\nپاکستان\n\nعسکریت پسندی\n\nآئی ایس پی آر کے مطابق خاران میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں تین عسکریت پسند جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ مستونگ میں ہونے والی دوسری کارروائی میں ایک خودکش حملہ آور سمیت پانچ عسکریت پسند مارے گئے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, جون 27, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p>بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 30 ستمبر 2025 کو فرنٹیئر کور کے سکیورٹی اہلکار فوجی گاڑی کے قریب پہرہ دے رہے ہیں (بنارس خان / اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان: ماہ رنگ بلوچ کی سزا کے خلاف بی وائے سی کی اپیل پر ہڑتال\n\nبلوچستان بجٹ: نئی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس معاف، 5 ہزار نئی نوکریاں\n\nبلوچستان میں تاجروں، وکلا اور ملازمین کی ’پہیہ جام‘ ہڑتال\n\nکوئٹہ ٹرین دھماکہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کا بدلتا انداز\n\nSEO Title:\n\nبلوچستان میں دو الگ کارروائیاں، آٹھ عسکریت پسندوں کی موت: پاکستان فوج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "بلوچستان میں دو الگ کارروائیاں، آٹھ عسکریت پسندوں کی موت: پاکستان فوج"
}