{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiesnn3v5du7famskkiwn7ys75r3jrjrgmrhoixvzx2cdbdwkeypvu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpb5qnmgmfq2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihw27q4wng2tpceawddf7elmsmt4txflbwvobnc2cwip65ok7oxla"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 151046
  },
  "path": "/node/186524",
  "publishedAt": "2026-06-27T07:00:22.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "وینزویلا",
    "زلزلہ",
    "اموات",
    "ریسکیو مشن",
    "اے ایف پی",
    "دنیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**وینزویلا میں حالیہ شدید زلزلوں کے نتیجے میں اموات کی تعداد جمعے کو بڑھ کر 920 ہو گئی ہے اور ہزاروں افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔**\n\nبین الاقوامی امدادی ٹیموں نے زندہ بچ جانے والوں کی سرتوڑ مگر سست رفتار تلاش تیز کر دی ہے۔\n\nدارالحکومت کراکس کے رہائشیوں نے ایک تباہ حال محلے کے دورے کے دوران عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز پر آوازیں کسیں، کیوں کہ سرکاری سطح پر امدادی کارروائیوں کے فقدان کے تاثر پر غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔\n\nاقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے بتایا کہ بدھ کی شام ایک منٹ کے وقفے سے آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد 50 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں اورملک کے شمالی حصے میں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔\n\nدارالحکومت کراکس کے قریب لا گوئیرا کا ساحلی علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلوں سے ایک کے بعد ایک عمارت زمین بوس ہو گئی۔\n\nوینزویلا کی ریاست لا گوئیرا میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nوزیر داخلہ دیوسدادو کابیلو نے ٹیلی ویژن پر اپنے ایک خطاب میں اعلان کیا کہ جمعے کی رات آٹھ بجے (ہفتہ 0000 جی ایم ٹی) سے آفت زدہ علاقے تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔\n\nچلی کی ایک امدادی ٹیم لا گوئیرا میں ایک ایسے رہائشی کمپلیکس پہنچی جو چار بلند عمارتوں پر مشتمل تھا، جن میں سینکڑوں اپارٹمنٹس تھے اور وہ زیادہ تر ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔\n\nٹیم لیڈر نادیومار پولانکو نے اس مقام پر، جو شہر کے کئی دیگر مقامات جیسا منظر پیش کر رہا تھا، کہا: ’بدقسمتی سے، عمارتیں مکمل طور پر گر چکی ہیں اور زندہ بچ جانے والوں کے ملنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اب تمام تر کوششیں مرنے والوں کی لاشیں نکالنے پر مرکوز ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدیگر مقامات پر، خاندان کے افراد، پڑوسیوں اور رضاکاروں نے ملبے تلے زندہ دبے لوگوں کو بچانے کے لیے بھاری مشینری یا سرکاری مدد نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے، اپنے خالی ہاتھوں سے ہی زندہ بچ جانے والوں کو کھود کر نکالنے کی کوشش کی۔\n\n40 سالہ غم زدہ مارجوسلی سالازار، جن کی 16 سالہ بیٹی زلزلے میں جان سے گئیں، نے کہا: ’میں اپنے ننھے گیل کو تلاش کر رہی ہوں۔ وہ صرف پانچ ماہ کا تھا۔‘ بچہ اور سالازار کے کزن دونوں لاپتہ ہیں۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’خدارا، ہمیں یہاں مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں ستون ہٹانے کے لیے مشینری چاہیے۔ ہم نے یہاں کوئی سرکاری اہلکار نہیں دیکھا، بالکل نہیں۔‘\n\nکراکس کے ایک پوش علاقے میں، عبوری رہنما روڈریگز کا استقبال ایسے لوگوں کے ہجوم نے غصے بھرے نعروں سے کیا، جن کے پیارے ملبے تلے دبے ہوئے تھے۔\n\nایک زمین بوس عمارت کے قریب لگی رکاوٹوں کے پیچھے سے وہ چلائے کہ ’حکومت عوام کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔‘\n\n**’انتہائی مشکل آپریشن‘**\n\nاے ایف پی نے امدادی کارکنوں کو ملبہ توڑنے کے لیے بھاری ہتھوڑے استعمال کرتے اور ’مکمل خاموشی‘ کی اپیل کرتے دیکھا، تاکہ زندہ بچ جانے والوں کی پکار سنی جا سکے۔\n\nاقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے بتایا کہ ’یہ ہنگامی امداد کی ایک انتہائی پیچیدہ کارروائی ہے۔‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اموات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔\n\nاقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے اوچا نے کہا کہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مدد کے لیے کم از کم 17 ممالک کی تلاش کے عمل اور بچاؤ کی ٹیموں کو متحرک کیا جا رہا ہے۔\n\nوینزویلا\n\nزلزلہ\n\nاموات\n\nریسکیو مشن\n\nاقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے بتایا کہ ایک منٹ کے وقفے سے آنے والے دو زلزلوں سے ملک کے شمال میں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔\n\nاے ایف پی\n\nہفتہ, جون 27, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">وینزویلا کی ریاست لا گوئیرا کے علاقے کارابالیدا میں 26 جون 2026 کو زلزلوں کے بعد رضاکار ایک زمین بوس عمارت کے ملبے میں ممکنہ متاثرین تلاش کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nwF5fhdO8\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nوینزویلا آپریشن: امریکی فوجی پر شرط لگا کر لاکھوں ڈالر کمانے کا الزام\n\nکیا ایران اپنے ’وینزویلا لمحے‘ کی طرف بڑھ رہا ہے؟\n\nوینزویلا پر امریکی حملے کی دیکھا دیکھی چین کی تائیوان پر ’کاری ضرب‘ کی دھمکی\n\nوینزویلا کے بعد گرین لینڈ؟ وائٹ ہاؤس کا فوجی کارروائی کا عندیہ\n\nSEO Title:\n\nوینزویلا: زلزلے میں اموات کی تعداد 900 سے زیادہ، ہزاروں لاپتہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "وینزویلا: زلزلے میں اموات کی تعداد 900 سے زیادہ، ہزاروں لاپتہ"
}