{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihs442phw7nklcya7df4gocp2va2dbco5vhyz56wmjtylwjxhykq4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpawzl7bn4i2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreia4j2d3o3os7pbom6t5yhqufl5qjvoor4tvjqczjqbxyiacfoq23q"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 175385
  },
  "path": "/node/186522",
  "publishedAt": "2026-06-27T05:23:16.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "خیبر پختونخوا",
    "ریپ متاثرین",
    "جرگہ",
    "لائبہ حُسن",
    "خواتین",
    "news"
  ],
  "textContent": "**خیبر پختونخوا کے ضلع پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں پولیس کے مطابق ایک 15 سالہ مدرسے کی طالبہ کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کا مقدمہ واقعے کے تقریباً پینتیس سے چالیس روز بعد درج کر لیا گیا۔**\n\nمتاثرہ لڑکی کے والد نے 21 جون کو تھانہ بڈھ بیر میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا کہ مقدمہ درج کروانے میں تاخیر مقامی جرگے کی کوششوں کے باعث ہوئی، جو فریقین کے درمیان صلح کروانا چاہتا تھا۔\n\nایف آئی آر کے متن کے مطابق واقعہ تقریباً 35 روز قبل پیش آیا، جب متاثرہ طالبہ معمول کے مطابق مدرسے جا رہی تھی کہ ایک نوجوان جس کی شناخت بعد ازاں عاطف کے نام سے ہوئی، نے مبینہ طور پر اسے کپڑے لینے کے بہانے اپنے گھر بلایا۔\n\nدرخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ گھر کے اندر پہلے سے موجود دو دیگر افراد، جنہیں اقرار اور احمد کے نام سے نامزد کیا گیا، نے بھی طالبہ کا ریپ کیا۔ مزید الزام ہے کہ ملزمان نے واقعے کی ویڈیو بنائی اور طالبہ بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔\n\nوالد نے ایف آئی آر میں یہ بھی کہا کہ واقعے کے بعد انہوں نے فوری طور پر پولیس سے رجوع نہیں کیا کیونکہ مقامی عمائدین نے انہیں یقین دلایا کہ معاملہ جرگے کے ذریعے حل کر دیا جائے گا۔\n\n**جرگہ اور معاہدے کی کوشش**\n\nایس ایچ او بڈھ بیر واجد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق: ’واقعے کے فوری بعد معاملہ مقامی جرگے میں پیش کیا گیا، جہاں مبینہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ نامزد ملزمان میں سے ایک متاثرہ لڑکی سے شادی کرے گا جبکہ متاثرہ لڑکی کے والد کو 20 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے۔‘\n\nایس ایچ او واجد خان کے مطابق: ’ابتدائی طور پر جرگے کے اس فیصلے پر فریقین متفق نظر آئے، تاہم بعد ازاں ملزمان اور متاثرہ لڑکی کے والد کے درمیان رقم کی ادائیگی پر اختلاف پیدا ہوگیا۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ ملزمان نے رقم دینے میں ٹال مٹول کی جس کے بعد متاثرہ لڑکی کے والد نے پولیس سے رجوع کیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایس ایچ او نے مزید کہا کہ جرگے میں شامل بعض عمائدین سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ مقدمہ درج ہونے میں تاخیر کے اسباب اور جرگے کے کردار کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔\n\nپولیس نے ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 376 (ریپ) اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔\n\nایس ایچ او واجد خان نے بتایا کہ پولیس نے تینوں نامزد ملزمان عاطف، اقرار اور احمد کو گرفتار کرلیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور قانونی کارروائی جاری رہے گی۔\n\nبڈھ بیر پشاور کا ایک نواحی علاقہ ہے جہاں دیہی معاشرتی ڈھانچہ اور روایتی قبائلی نظام موجود ہے۔ اس علاقے میں جرگے کا نظام معاملات طے کرنے کا ایک عام طریقہ ہے تاہم حالیہ برسوں میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ریپ اور کم عمری کی شادی جیسے مقدمات میں جرگے کے فیصلوں کو چیلنج کیا ہے۔\n\nبچوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایکٹوسٹ عمران ٹکر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ بڈھ بیر میں ریپ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ماضی میں بھی اسی طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔\n\nعمران ٹکر نے کہا: ’بنیادی طور پر اگر ہم بڈھ بیر کے واقعے کو دیکھیں تو یہ اس علاقے کا پہلا ریپ کا واقعہ نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف خیبر پختونخوا میں بلکہ بڈھ بیر میں بھی ماضی میں ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے لیے حکومتی سطح پر یا معاشرتی اور سماجی طور پر کسی نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔‘\n\nان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریپ کے مقدمات میں خاص طور پر جہاں کم عمری کی شادی کا زبردستی معاملہ ہو، جرگے کے اس قسم کے روایتی فیصلے متاثرہ بچے یا بچی کے بہترین مفاد میں نہیں ہوتے۔ ایسے فیصلے ملزمان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور عدالتی فیصلوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔‘\n\nتاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض دیگر معاملات میں جرگے کے فیصلے مفید بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ریپ اور کم عمری کی شادی کے کیسز میں یہ کسی بھی صورت متاثرین کے مفاد میں نہیں ہوتے۔\n\nعمران ٹکر نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانونی اصلاحات اور معاشرتی شعور کی ضرورت ہے۔ ’جرگے کے فیصلوں کو قانونی حیثیت نہیں دی جانی چاہیے اور متاثرین کو عدالتوں تک رسائی فراہم کرنے میں سہولت دی جانی چاہیے۔‘\n\nخیبر پختونخوا\n\nریپ متاثرین\n\nجرگہ\n\nمتاثرہ لڑکی کے والد نے 21 جون کو تھانہ بڈھ بیر میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا کہ مقدمہ درج کروانے میں تاخیر مقامی جرگے کی کوششوں کے باعث ہوئی، جو فریقین کے درمیان صلح کروانا چاہتا تھا۔\n\nلائبہ حُسن\n\nہفتہ, جون 27, 2026 - 10:15\n\nMain image:\n\n> <p>18 مئی 2016 کو پولیس اہلکار پشاور میں ایک سڑک کنارے گشت کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nخواتین\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسات سالہ بچی کے ریپ، قتل کا ملزم مارا گیا: سرگودھا پولیس\n\nلاہور ہائی کورٹ: موٹروے ریپ کیس کے دونوں مجرموں کی سزائے موت برقرار\n\nاسلام آباد: ’نوکری کے جھانسے‘ پر سنٹورس مال میں ریپ کا مقدمہ درج\n\nریپ، قتل اور خفیہ تدفین: ایک انڈین مندر کے متعلق انکشافات\n\nSEO Title:\n\nپشاور: 15 سالہ طالبہ کے ریپ کیس میں ’جرگے کی ناکامی‘ پر 35 روز بعد مقدمہ درج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "پشاور: 15 سالہ طالبہ کے ریپ کیس میں ’جرگے کی ناکامی‘ پر 35 روز بعد مقدمہ"
}