{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreih5v25ppen6du7fcwlfqv22dsyndd7ux44mzscgxdbbsrconehqeu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpappvgkbbq2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihcm7cvfrk6d5kgza74hqtxllexy4jy64xodo2dij2m7cicg52xfq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 49527
  },
  "path": "/node/186442",
  "publishedAt": "2026-06-27T03:30:16.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "soleus.jpg",
    "صحت",
    "دل",
    "تحقیق",
    "ورزش",
    "ہیری بل مور",
    "news"
  ],
  "textContent": "**طبی ماہرین اور فٹنس کے شعبے سے وابستہ افراد اکثر پٹھوں کو طویل اور صحت مند زندگی کا بنیادی عضو قرار دیتے ہیں۔ آخرکار یہی عضلات ہمیں حرکت کرنے، خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے اور بھرپور زندگی گزارنے کے قابل بناتے ہیں۔**\n\nتاہم ایک چھوٹا سا پٹھا، جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، مستقبل کی صحت کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھ سکتا ہے اور اسے مضبوط بنانا حیرت انگیز طور پر آسان ہے۔\n\nٹانگ کے نچلے حصے کے پچھلے رخ پر موجود سولیئس پٹھا ایک ’دوسرے دل‘ کی طرح کام کرتا ہے۔ کتاب ’Walk: Your Life Depends On It‘ کی مصنفہ ڈاکٹر کورٹنی کونلی کے مطابق جب یہ پٹھا متحرک ہوتا ہے تو پمپ کی طرح کام کرتے ہوئے خون کی گردش اور لمفی نظام (Lymphatic System) دونوں کو بہتر بناتا ہے۔\n\nاس کے نتیجے میں دورانِ خون کا نظام جسم کے مختلف حصوں تک زیادہ غذائی اجزا پہنچاتا ہے، جس سے ہاضمہ، دماغی صحت اور دیگر جسمانی افعال بہتر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لمفی نظام جسم سے فاضل مادوں اور زہریلے اجزا کو خارج کرتا ہے، جس سے انسان خود کو زیادہ توانا اور بہتر محسوس کرتا ہے۔\n\nمتعدد تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سولیئس کو درست انداز میں متحرک کرنے سے میٹابولزم، خون میں شکر کی مقدار کے نظم و ضبط اور ہاضمے میں بہتری آ سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے محققین نے ایک نہایت آسان ورزش استعمال کی جسے ’سولیئس پش اَپ‘ کہا جاتا ہے اور اسے آپ اپنی میز پر بیٹھے بیٹھے باآسانی کر سکتے ہیں۔\n\n## soleus.jpg\n\n**سولیئس پش اَپ کیسے کریں؟**\n\n۔ کرسی پر سیدھے بیٹھ جائیں۔\n\n۔ دونوں پاؤں فرش پر رکھیں اور پنجے سیدھے سامنے کی طرف ہوں۔\n\n۔ جسم اور ٹانگوں کے پٹھوں کو ڈھیلا چھوڑ دیں۔\n\n۔ پنجوں کو زمین پر جمائے رکھتے ہوئے ایڑیاں جتنا ممکن ہو اوپر اٹھائیں۔\n\n۔ پھر پاؤں کو ڈھیلا چھوڑ دیں تاکہ ایڑیاں خود بخود واپس زمین پر آ جائیں۔\n\n۔ یہی عمل بار بار دہرائیں۔\n\nتحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پیدل چلنے سے زندگی میں کئی برس کا اضافہ ہو جاتا ہے (اینواتو)\n\n\n\n\n**تحقیق کیا کہتی ہے؟**\n\n2022 میں امریکی ریاست ٹیکساس کی یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے محققین نے اسے ایک ایسی انقلابی دریافت قرار دیا جو بیٹھے رہنے والے طرزِ زندگی کے بارے میں ہماری سوچ بدل سکتی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتحقیق کے دوران شرکا کو شکر سے بھرپور مشروب پلایا گیا، جس کے بعد انہوں نے سولیئس پش اَپ کیے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ان کے جسم کی خون میں شکر کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت نمایاں طور پر بہتر ہوئی اور اگلے چند گھنٹوں میں انسولین کی ضرورت بھی کم ہو گئی۔\n\nاس ورزش نے کئی گھنٹوں تک آکسیڈیٹو میٹابولزم کو فعال رکھا، کھانوں کے درمیان چربی جلانے کی شرح تقریباً دوگنی کر دی اور خون میں موجود مخصوص چکنائی (VLDL Triglycerides) کی مقدار کو بھی کم کیا۔\n\nسولیئس پٹھا توانائی کے لیے زیادہ تر خون میں موجود گلوکوز اور چکنائی استعمال کرتا ہے، جبکہ دوسرے عضلات نسبتاً زیادہ گلائیکوجن استعمال کرتے ہیں، اسی لیے اسے بار بار متحرک کرنے کے باوجود تھکن کم محسوس ہوتی ہے۔\n\nسادہ الفاظ میں، اگر آپ دن میں مختلف اوقات، خصوصاً کھانے کے بعد، چند سولیئس پش اَپ کر لیں تو اس سے وزن کے انتظام، خون میں شکر کے توازن اور ذیابیطس سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔\n\n**کیا سولیئس واقعی جسم کا ’دوسرا دل‘ ہے؟**\n\nسولیئس پش اَپ اس پٹھے کو چلنے پھرنے سے مختلف انداز میں متحرک کرتا ہے۔ تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر مارک ہیملٹن کے مطابق چلتے وقت جسم توانائی کی بچت کرتا ہے، جبکہ سولیئس پش اَپ اس پٹھا سے زیادہ سے زیادہ توانائی استعمال کرواتا ہے۔\n\nاس کا مطلب یہ نہیں کہ چلنے کے دوران سولیئس غیر فعال رہتا ہے۔ درحقیقت پیدل چلنے کے بے شمار فوائد ہیں۔\n\nڈاکٹر کورٹنی کونلی کے مطابق: ’چلنا جسم کے تقریباً ہر نظام کو متحرک کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ میٹابولک نظام کو بہتر بناتا ہے، خون میں گلوکوز کی سطح کو متوازن رکھتا ہے اور انسولین حساسیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اسی لیے کھانے کے فوراً بعد چہل قدمی کرنا بہترین عادتوں میں سے ایک ہے۔‘\n\nتیز چلنے کے دوران سولیئس عضلہ دورانِ خون اور لمفی نظام دونوں کو مؤثر انداز میں پمپ کرتا ہے، جس سے جسمانی بافتوں، اعصابی نظام اور دماغی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے۔\n\nلمفی نظام جسم کا دوسرا گردشی نظام ہے جو فاضل مادوں کو خارج کرنے کا کام کرتا ہے۔ چونکہ اس کے پاس دل جیسا کوئی پمپ نہیں ہوتا، اس لیے یہ عضلاتی حرکات پر انحصار کرتا ہے۔ اور اس عمل میں سولیئس ایک انتہائی مؤثر پمپ ثابت ہوتا ہے۔\n\n**طویل عمر کے لیے سولیئس کیوں اہم ہے؟**\n\nسولیئس کے فوائد صرف جسم کے اندرونی نظام تک محدود نہیں۔ مضبوط پنڈلیاں بیرونی طور پر بھی صحت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔\n\nڈاکٹر کونلی کے مطابق: ’بہت سی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ چلنے کی رفتار انسان کی چھٹی اہم حیاتیاتی علامت (Vital Sign) سمجھی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص آہستہ چلتا ہے تو یہ مستقبل میں ذہنی صحت کے مسائل کی پیش گوئی بھی کر سکتا ہے، بعض تحقیقات کے مطابق سات سال پہلے تک۔‘\n\nنو مختلف مطالعات کے مشترکہ تجزیے ’Gait Speed and Survival in Older Adults‘ میں بھی یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ چلنے کی رفتار مجموعی صحت اور جسمانی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔\n\nسست رفتار سے چلنا توازن، پاؤں یا پنڈلی کے عضلات کی کمزوری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ تیزی سے چلنے کے لیے پاؤں اور ٹخنے میں زیادہ طاقت پیدا کرنا ضروری ہے اور اس طاقت کا بڑا حصہ سولیئس پٹھا فراہم کرتا ہے۔\n\n**عمر بڑھنے کے ساتھ طاقت کیوں ضروری ہے؟**\n\nڈاکٹر کونلی کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ انسان طاقت (Power) کو قوت (Strength) سے زیادہ تیزی سے کھوتا ہے۔\n\n’طاقت صرف کھلاڑیوں کے لیے ضروری نہیں۔ کرسی سے اٹھنا، اچانک خطرے کی صورت میں فوری ردعمل دینا یا سڑک عبور کرتے وقت تیزی سے حرکت کرنا بھی طاقت کا تقاضا کرتا ہے۔‘\n\nاس طاقت کو جمپنگ، اچھلنے، ایک طرف سے دوسری طرف حرکت کرنے اور دیگر دھماکہ خیز ورزشوں سے بہتر بنایا جا سکتا ہے، لیکن باقاعدہ چہل قدمی بھی سولیئس عضلے کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے۔\n\n**اس علم کو اپنی صحت کے لیے کیسے استعمال کریں؟**\n\nبطور فٹنس صحافی اور کوچ، میں ہر اس دعوے پر احتیاط سے غور کرتا ہوں جو حد سے زیادہ اچھا معلوم ہو۔ سوشل میڈیا اور تجارتی مفادات کے باعث ورزش کے میدان میں غلط دعوے عام ہیں۔\n\nاسی لیے کسی ایک ورزش کو مکمل علاج یا معجزاتی حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ خود یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے محققین نے بھی واضح کیا ہے کہ سولیئس پش اَپ کوئی جادوئی فٹنس نسخہ نہیں بلکہ ایک مخصوص تکنیک ہے جسے تجربہ گاہ کے ماحول میں خاص شرائط کے تحت آزمایا گیا۔\n\nتاہم اس ورزش کا بنیادی تصور نہایت سادہ اور قابلِ عمل ہے۔ آپ دفتر میں، ٹرین میں سفر کے دوران یا کھانے کے بعد کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی اسے انجام دے سکتے ہیں۔ آپ کو صرف اپنی ایڑیاں اوپر اٹھانی ہیں۔\n\nمیں نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران روزانہ مختلف اوقات میں 30 سے 60 بار یہ ورزش کی، خصوصاً کھانے کے بعد اور دفتر میں طویل وقت بیٹھنے کے دوران۔ اگرچہ یہ ایک ذاتی مشاہدہ ہے اور اس میں نفسیاتی اثرات کا امکان بھی موجود ہے، لیکن مجھے محسوس ہوا کہ کھانے کے بعد میری توانائی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم رہتی ہے۔\n\nاسی لیے میں آپ کو بھی یہ تجربہ آزمانے کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر فائدہ نہ ہوا تو آپ نے بہت کم وقت صرف کیا ہوگا اور اگر فائدہ ہوا تو کم محنت سے بہتر صحت کے کئی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔\n\nسولیئس پش اَپ پیدل چلنے یا باقاعدہ ورزش کا متبادل نہیں ہیں، لیکن یہ ایک ایسی سادہ عادت ضرور ہو سکتی ہے جسے آزمانا فائدہ مند ثابت ہو۔\n\nصحت\n\nدل\n\nتحقیق\n\nورزش\n\nایک چھوٹا سا پٹھا، جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، مستقبل کی صحت کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھ سکتا ہے اور اسے مضبوط بنانے کی ورزش حیرت انگیز طور پر آسان ہے۔\n\nہیری بل مور\n\nہفتہ, جون 27, 2026 - 08:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">یہ ورزش دفتر کی کرسی پر سیدھے بیٹھ کر بھی کی جاسکتی ہے (اینواتو)</p>\n\nصحت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nروزانہ دس ہزار قدم یا صرف 500، سائنس صحت مند رہنے کے لیے کیا بتاتی ہے؟\n\n’لوگ پہلے اپنی روٹی خریدیں گے یا ہمارے آم؟‘\n\nسینے کی ہڈی کاٹے بغیر بچوں کے دل کا آپریشن: ’جلد صحت یابی بڑا فائدہ‘\n\nہلکی پھلکی گپ شپ انسانی صحت کے لیے فائدہ مند: تحقیق\n\nSEO Title:\n\nکیا سولیئس پٹھا واقعی جسم کا ’دوسرا دل‘ ہے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/health-and-fitness/muscle-soleus-strength-exercise-longevity-b2998979.html\n\nTranslator name:\n\nہارون رشید\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "کیا سولیئس پٹھا واقعی جسم کا ’دوسرا دل‘ ہے؟"
}