{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreief4t6xh7565rf4neewrkvlwrziffrgcadukgnq2hiwlljybihuym",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpahqacuk332"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifpq5bfzhwab36ni67d3adpgypxlf7uqylnzli2hcqp3qfhpsghpe"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 75733
  },
  "path": "/node/186519",
  "publishedAt": "2026-06-27T01:30:59.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران",
    "ایران جنگ",
    "امریکہ",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "جے ڈی وینس",
    "میزائل",
    "امریکی حملہ",
    "اے ایف پی",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**واشنگٹن کی جانب سے جمعے کو تہران پر مال بردار بحری جہاز پر حملے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر فوجی حملے کیے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ کی جنگ کو محدود کرنے کی سفارت کاروں کی کوششوں کے دوران نازک جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔**\n\nامریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ساحلی ریڈار ٹھکانوں پر امریکی حملے ’ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف بلا جواز جارحیت‘ کا جواب ہیں جو ’جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی‘ ہے۔\n\nامریکی سینٹ کام نے اس آپریشن کو ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر گذشتہ کل ہونے والے حملے کا ایک طاقتور جواب‘ قرار دیا۔\n\nمشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر 17 جون، 2526 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط کیے۔ بعد ازاں 18 جون کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث اس دستاویز پر دستخط کیے۔\n\nڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقعے پر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جب کہ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے کردہ تصویر میں صدر مسعود پزشکیان کو مفاہمت کی یادداشت کی دستخط شدہ دستاویز تھامے ہوئے دکھایا گیا۔\n\nسیرک میں ایک رپورٹر کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ جمعے کی رات گئے جنوبی ساحلی شہر میں طاہرویہ کے گھاٹ پر ایک دھماکا سنا گیا۔ ٹی وی نے باخبر فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ دھماکہ علاقے میں کسی گولے کے گرنے سے ہوا۔\n\nچند منٹ بعد، ایرانی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح، سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی کہ پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔\n\n19 دسمبر 2025 کو جاری کی گئی اور 18 دسمبر 2025 کو ایک نامعلوم مقام پر لی گئی تصویر میں امریکی فضائیہ کے اہلکار کو ایف 15 ای سٹرائیک ایگل کے ساتھ جی بی یو31 گولہ بارود نظام منسلک کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nٹیلی گرام پر سرکاری ٹی وی کی ایک پوسٹ کے مطابق، پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’اگر جارحیت کو دہرایا گیا تو ہمارا جواب اس سے زیادہ وسیع ہو گا۔‘\n\nان حملوں کے تبادلے نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی کوششوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واشنگٹن اور تہران اس جنگ کے حتمی حل کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں جس کا آغاز 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوا تھا۔\n\nایران نے بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بغیر اجازت آبنائے کے راستے خلیج میں داخل نہ ہوں اور نہ ہی وہاں سے نکلیں، لیکن جہازوں کی نقل و حرکت جاری ہے، اور کچھ تہران کی جانب سے غیر منظور شدہ راستہ بھی استعمال کر رہے ہیں۔\n\nٹریکنگ پلیٹ فارم کپلر کے مطابق، جمعرات کو وہاں سے گزرنے والے 42 بحری جہازوں میں سے تقریباً آدھے جہازوں نے عمان کے ساحل کے ساتھ ایک غیر منظور شدہ جنوبی راستہ استعمال کیا۔\n\nاقوام متحدہ کی بحری ایجنسی نے کہا کہ حملے کی وجہ سے معطل ہونے سے قبل، انخلا کے ایک آپریشن نے تنازعے میں پھنسے 115 بحری جہازوں اور 2500 ملاحوں کو نکال لیا گیا تھا۔\n\n**’تشدد کا جواب تشدد سے‘: جے ڈی وینس**\n\nامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعے کو ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے مزید کوئی حملہ کیا تو اسے ’تشدد‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔\n\nوینس نے ایکس پر مفاہمت کی اس یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے، جس کا مقصد تقریباً چار ماہ پر محیط تنازعے کو روکنا تھا، سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ’ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ہم نے اس کی پاسداری کی ہے۔ اگر انہیں مفاہمت کی یادداشت پر عمل\n\nدرآمد کے حوالے سے کوئی اختلاف ہے تو وہ فون کر سکتے ہیں۔ لیکن تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**ایرانی ڈرون حملہ جنگ کی احمقانہ خلاف ورزی: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو آبنائے ہرمز میں ڈرون حملہ کرنے پر ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے مشرق وسطی کی جنگ میں جنگ بندی کی ’احمقانہ‘ خلاف ورزی قرار دیا۔\n\nٹرمپ نے بظاہر گذشتہ روز ایک بحری جہاز پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا کہ ’ایک ڈرون ایک بڑے اور انتہائی مہنگے مال بردار بحری جہاز کے اوپری عرشے پر زور سے ٹکرایا‘ جب کہ تین دیگر کو مار گرایا گیا۔\n\nٹرمپ نے مزید کہا کہ ‘ظاہر ہے، یہ ہمارے جنگ بندی کے معاہدے کی ایک احمقانہ خلاف ورزی ہے۔‘\n\nایران\n\nایران جنگ\n\nامریکہ\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nجے ڈی وینس\n\nمیزائل\n\nامریکی حملہ\n\nامریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کےایرانی مقامات پر حملے بحری جہاز پر ڈرون حملے کا جواب ہیں۔ پاسداران انقلاب کے مطابق خلیجی خطے میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔\n\nاے ایف پی\n\nہفتہ, جون 27, 2026 - 06:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی سینٹرل کمانڈ  کی جانب سے 15 مارچ 2025 کو شیئر کی گئی فوٹیج سے لی گئی تصویر میں ایف اے 18 سپر ہارنیٹ  لڑاکا طیارہ بحیرہ احمر میں طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین سے اڑان بھر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران کو نظر انداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن نہیں: نائب وزیر خارجہ\n\nامریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی معاہدے پر دستخط\n\nایران نے ’اچھا رویہ‘ نہ اپنایا تو دوبارہ بم برسائیں گے، ٹرمپ کی وارننگ\n\nکشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کا ایک، ایک نمائندہ دوحہ میں\n\nSEO Title:\n\nامریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر نئے حملے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر نئے حملے"
}