{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreif3gbbn5gvtf4cd23vkjbzzk7vi7vdrm3ycka3hs3lucasi76rkii",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpaazg4cn6w2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibs3rtwbpmlz2hrxtk3bbb5vy36v4ntfmyskludkfruh2grre27a4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 102836
  },
  "path": "/node/186506",
  "publishedAt": "2026-06-26T04:31:53.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "انسداد منشیات کا عالمی دن",
    "منشیات",
    "افغانستان",
    "لائبہ حُسن",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**افغانستان طویل عرصے تک دنیا میں افیون پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا رہا جبکہ پاکستان کو ان راستوں میں شمار کیا جاتا رہا جن کے ذریعے مختلف اقسام کی منشیات علاقائی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔**\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع سرحد گذشتہ کئی دہائیوں سے صرف تجارت، نقل و حرکت اور سیاسی کشیدگی کا موضوع نہیں رہی بلکہ منشیات کی غیر قانونی تجارت کے حوالے سے بھی مسلسل زیرِ بحث رہی ہے۔\n\nافغانستان طویل عرصے تک دنیا میں افیون پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا رہا جبکہ پاکستان کو ان راستوں میں شمار کیا جاتا رہا جن کے ذریعے مختلف اقسام کی منشیات علاقائی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔\n\nتاہم گذشتہ چند برسوں میں اس منظرنامے میں کئی تبدیلیاں آئیں۔ اپریل 2022 میں افغانستان کی طالبان حکومت نے پوست کی کاشت پر پابندی کا اعلان کیا جبکہ اکتوبر 2025 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سمیت مختلف سرحدی گزرگاہوں پر وقفے وقفے سے بندش اور سخت نگرانی کا سلسلہ جاری رہا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان اقدامات کے باوجود منشیات کی غیر قانونی تجارت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ البتہ اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور ضبط ہونے والی منشیات کے اعداد و شمار ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔\n\nانڈیپنڈنٹ اردو کو خیبر پختونخوا ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے نارکوٹکس سیل کے انچارج سب انسپیکٹر کامران علی عظیمی کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے دوران صوبے بھر میں منشیات سے متعلق 95 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 81 افراد گرفتار ہوئے۔\n\nاس عرصے میں مجموعی طور پر 2505.447 کلوگرام چرس، 23.745 کلوگرام ہیروئن، 33.7 کلوگرام افیون اور 82.165 کلوگرام آئس ضبط کی گئی۔\n\nصرف جنوری میں 1178.735 کلوگرام چرس برآمد ہوئی جبکہ فروری میں مزید 809.714 کلوگرام چرس ضبط کی گئی۔ مارچ میں 18 کلوگرام ہیروئن پکڑی گئی جبکہ فروری اور اپریل کے دوران افیون کی مجموعی 33.7 کلوگرام مقدار قبضے میں لی گئی۔\n\nاعداد و شمار کے مطابق رواں سال ضبط ہونے والی منشیات میں سب سے نمایاں اضافہ آئس کی برآمدگی میں دیکھا گیا، جس کی مجموعی مقدار پانچ ماہ میں 82 کلوگرام سے تجاوز کر گئی۔\n\n26 جون 2026 کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس سنگین سماجی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا۔\n\nاپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان منشیات سے متعلق تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے، جن میں نئی اقسام کی منشیات کا ظہور، غیر قانونی سمگلنگ کے نیٹ ورکس اور بالخصوص نوجوانوں تک منشیات کی رسائی شامل ہیں۔\n\n29 دسمبر 2021 کو کراچی میں ضبط شدہ غیر قانونی الکوحل اور سمگل کی جانے والی منشیات کو تلف کرنے کے لیے منعقدہ تقریب کے دوران ایک کسٹم اہلکار پہرہ دے رہا ہے ( رضوان تبسم/ اے ایف پی)\n\n\n\n\n**افغانستان سے پاکستان تک منشیات کا بدلتا منظرنامہ**\n\nخطے میں منشیات کا مسئلہ صرف افیون یا ہیروئن تک محدود نہیں رہا۔\n\nافغانستان تاریخی طور پر پوست اور افیون کی پیداوار کے لیے جانا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں آئس یا میتھامفیٹامین نے بھی علاقائی منشیات کی تجارت میں نمایاں جگہ بنائی ہے۔\n\nدوسری جانب پاکستان میں چرس سب سے زیادہ ضبط ہونے والی منشیات میں شامل رہی ہے جبکہ آئس کے استعمال اور ترسیل کے رجحان میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔\n\nماہرین کے مطابق منشیات کی تجارت کسی ایک ملک یا ایک راستے تک محدود نہیں ہوتی۔ پیداوار ایک جگہ، پراسیسنگ دوسری جگہ اور ترسیل تیسرے ملک کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدی پابندیوں کے باوجود منشیات کے نیٹ ورکس متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔\n\nخیبر پختونخوا کے اسسٹنٹ کلیکٹر کسٹمز امن صادق نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان افغانستان سرحد پر منشیات کی روک تھام کے لیے مختلف ادارے مشترکہ طور پر کام کرتے ہیں۔\n\nان کے مطابق سرحدی گزرگاہوں پر نگرانی کے جدید نظام، انٹیلی جنس معلومات اور مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے منشیات سمگل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جاتا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ منشیات کی روک تھام صرف سرحدی کراسنگ پوائنٹس تک محدود نہیں بلکہ اندرونِ ملک نگرانی بھی اس کا اہم حصہ ہے۔\n\n13 جون2025, افغان کسان صوبہ بدخشاں کے ضلع آرگو میں ایک غیر قانونی پوست کے کھیت میں کام کر رہے ہیں (عمر ابرار/ اے ایف پی)\n\n\n\n\n**تعلیمی اداروں سے چیک پوسٹوں تک**\n\nایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کارروائیاں صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہیں۔\n\nتعلیمی اداروں کے اطراف کی گئی خصوصی کارروائیوں میں 32 مقدمات درج کیے گئے اور 39 افراد گرفتار ہوئے۔ ان کارروائیوں کے دوران 26.619 کلوگرام چرس، 2.65 کلوگرام ہیروئن، 23.093 کلوگرام آئس اور 349 نشہ آور گولیاں برآمد ہوئیں۔\n\nاسی طرح مشترکہ چیک پوسٹوں پر کی گئی کارروائیوں میں 49 مقدمات درج ہوئے اور 60 افراد گرفتار کیے گئے۔\n\nان کارروائیوں کے دوران 229.06 کلوگرام چرس، 7.96 کلوگرام ہیروئن، 58.065 کلوگرام آئس اور 1.2 کلوگرام افیون قبضے میں لی گئی۔\n\nاس کے علاوہ 66.15 ملین روپے سے زائد نارکو منی، مختلف غیر ملکی کرنسیاں، اسلحہ، 14.5 کلوگرام چاندی اور دیگر سمگل شدہ اشیا بھی برآمد کی گئیں۔\n\nسرحدی بندشوں، طالبان حکومت کی جانب سے پوست کی کاشت پر پابندی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں نے خطے میں منشیات کے منظرنامے کو ضرور متاثر کیا ہے، تاہم خیبر پختونخوا کے تازہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف سرحد پار ترسیل تک محدود نہیں۔\n\nمنشیات کی برآمدگیوں سے لے کر تعلیمی اداروں کے اطراف ہونے والی کارروائیوں تک اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ چیلنج سرحد کے دونوں جانب موجود ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے صرف سرحدی نگرانی ہی نہیں بلکہ مقامی سطح پر بھی مسلسل اقدامات کی ضرورت برقرار ہے۔\n\nانسداد منشیات کا عالمی دن\n\nمنشیات\n\nافغانستان\n\nماہرین کے مطابق منشیات کی تجارت کسی ایک ملک یا ایک راستے تک محدود نہیں ہوتی۔ پیداوار ایک جگہ، پراسیسنگ دوسری جگہ اور ترسیل تیسرے ملک کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدی پابندیوں کے باوجود منشیات کےنیٹ ورکس متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔\n\nلائبہ حُسن\n\nجمعہ, جون 26, 2026 - 09:30\n\nMain image:\n\n> <p>چھ اپریل 2020 کی اس تصویر میں راولپنڈی میں منشیات کے عادی افراد سڑک کے کنارے موجود ہیں (عامر قریشی/ اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nIEYrrPKD\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nمنشیات اور معاشرتی ’گیپ‘\n\nمنشیات، پاکستانی نوجوان اور خلیجی ترسیلاتِ زر\n\nکراچی میں منشیات کی آن لائن فروخت کیسے ہوتی ہے؟\n\nانسداد منشیات میں ناکام پانچ ممالک کے خلاف امریکی پابندیاں متوقع، افغانستان بھی شامل\n\nSEO Title:\n\nطورخم کی بندش اور منشیات کی تجارت، سرحد کے دونوں جانب کیا بدلا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "طورخم کی بندش اور منشیات کی تجارت، سرحد کے دونوں جانب کیا بدلا؟"
}