{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiasmjvqhi2asb7hpe2kfmmlzb7ky6jju5awx7ryf36q4ifbg2come",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpaayuy5nyt2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreih644gkoszdry6mvsicxvvxa7wudhbmtzxjqmkbth34f462pf5na4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 50000
  },
  "path": "/node/186511",
  "publishedAt": "2026-06-26T08:25:55.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "انسانی سمگلنگ",
    "انسانی اعضا",
    "اسلام آباد",
    "ایف آئی اے",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں کارروائی کرتے ہوئے انسانی پلیسینٹا (نال) کو غیر قانونی طور پر پراسیس کرنے کے بعد بیرون ملک سمگل کرنے والے مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگا کر تین چینی شہریوں سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔**\n\nایف آئی اے کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ انسانی اعضا کی غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری کی مصدقہ اطلاع پر جمعرات کی رات سیکٹر ایف-سیون میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں انسانی اعضا، بالخصوص ہیومن پلیسینٹا (بچے کی پیدائش کے بعد خارج ہونے والی نال) کی غیر قانونی پراسیسنگ کے لیے مکمل پلانٹ قائم تھا۔\n\nپلیسینٹا ایک عارضی عضو ہے جو دوران حمل ماں اور بچے کے درمیان آکسیجن اور غذائیت کی فراہمی کا کام کرتا ہے۔\n\nبچے کی پیدائش کے بعد یہ جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ بعض ممالک میں اسے ادویات، کاسمیٹکس اور روایتی علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔\n\nتاہم اس کی خرید و فروخت اور پراسیسنگ کئی ممالک میں سخت قانونی ضوابط کے تابع ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان اس پلانٹ میں پلیسینٹا کو غیر قانونی طور پر صاف، خشک (ڈرائے) اور پراسیس کرنے کے بعد ’شی پلیسینٹا‘ کے نام سے ویتنام برآمد کرتے تھے۔\n\nتحقیقات کے دوران اسی نیٹ ورک کی نشاندہی پر سیکٹر ای-الیون میں واقع ایک اور مقام پر بھی چھاپہ مارا گیا، جہاں اسی نوعیت کا ایک اور مکمل پراسیسنگ سینٹر فعال پایا گیا۔\n\nایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے قبضے سے پراسیسنگ مشینری، آلات اور تیار شدہ مواد برآمد کر لیا گیا۔\n\nملزمان کے خلاف ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ (HOTA) 2010 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔\n\nانسانی سمگلنگ\n\nانسانی اعضا\n\nاسلام آباد\n\nایف آئی اے\n\nایف آئی اے کے مطابق ملزمان اس پلانٹ میں پلیسینٹا کو غیر قانونی طور پر پراسیس کر کے ویتنام برآمد کرتے تھے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, جون 26, 2026 - 13:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ایف آئی اے کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں اسلام آباد میں انسانی اعضاء کی غیر قانونی پراسیسنگ اور ہیومن پلیسینٹا  بیرون ملک سمگل کرنے والے گینگ کے گرفتار ارکان کو دیکھا جا سکتا ہے (ایف آئی اے)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nخاتون کو جنوں نے غائب نہیں کیا، انسانی سمگلنگ کا واقعہ ہے: پولیس\n\nانسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جائے: وزیراعظم\n\nانسانی سمگلنگ کی شکار بنگالی خواتین کدھر جائیں؟\n\nلاہور: انسانی اعضا کی سمگلنگ میں ملوث گروہ بے نقاب\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد: انسانی پلیسینٹا کی سمگلنگ، تین چینیوں سمیت پانچ ملزم گرفتار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "انسانی پلیسینٹا کی سمگلنگ، تین چینیوں سمیت پانچ ملزم گرفتار"
}