{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibkhjpfsclnlh45ubkjxvsnhzuhg6u6uzgemt2p6tfxefbe4ivvmm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpaaypv7z3l2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreib3q7cml5kle2kjjal2obcvxv4ypyxqagvzhn4dp5y5bfjqhe44va"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 83462
},
"path": "/node/186512",
"publishedAt": "2026-06-26T11:43:55.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"June 26, 2026",
"@IMOSecGen",
"https://t.co/UtvKjTtG5N",
"pic.twitter.com/29m2lMkt1V",
"June 25, 2026",
"ایران جنگ",
"آبنائے ہرمز",
"بحری جہاز",
"حملے",
"اقوام متحدہ",
"مشن",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"news",
"@Gharibabadi",
"@IMOHQ"
],
"textContent": "**ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے جمعے کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ جہاز رانی مبہم انتظامات، متوازی راستوں یا ایران جیسے ساحلی ملک کو نظرانداز کرتے ہوئے کیے گئے فیصلوں کے ذریعے یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔**\n\nانہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کسی بھی قابل قبول انتظامی ڈھانچے کی بنیاد ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ میں درج اصولوں پر ہونی چاہیے۔\n\nکاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو طے شدہ متوازی طریقۂ کار معطل ہو جائے گا۔\n\n> عبور ایمن در تنگه هرمز با ترتیبات مبهم، مسیرهای موازی یا تصمیمسازی خارج از ملاحظات ایران، به عنوان دولت ساحلی، تضمین نمیشود. هر چارچوب معتبر باید بر هماهنگی با ایران و مفاد بند پنج یادداشت تفاهم اسلام آباد استوار باشد. در غیر اینصورت، نتیجه، تعلیق مسیر تعیین شده موازی می شود.\n>\n> — Gharibabadi (@Gharibabadi) June 26, 2026\n\nان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، علاقائی سلامتی اور مستقبل کے انتظامات پر مختلف سطحوں پر سفارتی رابطے جاری ہیں۔\n\nدوسری جانب اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم نے آبنائے ہرمز میں ایک جہاز پر حملے کی اطلاع کے بعد جہازوں کی رہنمائی کا آپریشن عارضی طور پر روک دیا۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایک تجارتی جہاز پر حملے کی اطلاع ملی جس نے نہ صرف سمندری سلامتی بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک نئے بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔\n\nاقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سیکرٹری جنرل ارسنيو ڈومینگیز نے کہا کہ سکارٹ مشن کو اس وقت تک روکا گیا ہے جب تک خطے میں جہاز رانی کے لیے مکمل سکیورٹی ضمانتوں کی دوبارہ تصدیق نہیں ہو جاتی۔\n\nیہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تائیوان کی شپنگ کمپنی ایورگرین میرین نے تصدیق کی کہ اس کا سنگاپور کے پرچم بردار جہاز ’ایور لوولی‘ عمان کے قریب ایک ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ سے ٹکرا کر متاثر ہوا۔\n\n> IMO pauses evacuation plan.\n> \"I have been informed of an attack today in the Gulf of Oman. Seafarer safety remains paramount. To ensure coordinated approach & navigational safety, the IMO evacuation plan will be paused until further clarity.\"\n> - @IMOSecGenhttps://t.co/UtvKjTtG5N pic.twitter.com/29m2lMkt1V\n\n> — International Maritime Organization (@IMOHQ) June 25, 2026\n\nکمپنی کے مطابق جہاز کے دائیں حصے کو نقصان پہنچا، تاہم عملہ اور کارگو محفوظ رہے اور جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔\n\nسکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ ممکنہ طور پر ڈرون کے ذریعے کیا گیا۔\n\nبرطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے بھی اس سے قبل ایک جہاز پر پروجیکٹائل حملے کی اطلاع دی تھی، جو ایران کی جانب سے غیر منظور شدہ سمندری راستوں کے استعمال کے خلاف انتباہ کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدو امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں ایران ملوث ہو سکتا ہے، تاہم تہران نے اس حوالے سے براہ راست ذمہ داری قبول نہیں کی۔\n\nایران کے زیر انتظام آبنائے ہرمز اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ صرف اس کے مقرر کردہ راستوں پر چلنے والے جہازوں کو سکیورٹی کی ضمانت حاصل ہوگی۔ اتھارٹی کے مطابق غیر مجاز راستوں سے گزرنے کی صورت میں کسی بھی نقصان کی ذمہ داری جہاز کے مالک اور آپریٹر پر عائد ہوگی۔\n\nدوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق معاہدے کی پاسداری نہ کی تو امریکہ دوبارہ تہران کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔\n\nواضح رہے کہ اقوام متحدہ کا یہ سکارٹ مشن ان سینکڑوں تجارتی جہازوں اور ہزاروں بحری کارکنوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا جو 28 فروری سے جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تھے۔ تاہم حالیہ حملے کے بعد اس آپریشن کی معطلی نے عالمی تجارتی راستوں کی سکیورٹی اور خطے کے مستقبل سے متعلق نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔\n\nایران جنگ\n\nآبنائے ہرمز\n\nبحری جہاز\n\nحملے\n\nاقوام متحدہ\n\nمشن\n\nعمان کے قریب آبنائے ہزمز میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے خطے میں جہاز رانی کے لیے سکیورٹی خدشات بڑھا دیے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, جون 26, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p>آبنائے ہرمز میں 25 جون 2025 عمان کے ساحل کے قریب کنٹینر جہاز کے قریب سے ایک کشتی گزر رہی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآبنائے ہرمز میں جہاز پر حملہ، ملاحوں کا ریسکیو روک دیا گیا\n\nآبنائے ہرمز پھر بند، امریکہ - ایران مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں\n\nکیا آبنائے ہرمز کھلتے ہی سب کچھ فوراً معمول پر آ جائے گا؟\n\nایران سے معاہدے پر دستخط ہو چکے، آبنائے ہرمز جمعے کو مکمل کھل جائے گی: ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nایران کو نظر انداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن نہیں: نائب وزیر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "ایران کو نظر انداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن نہیں: نائب وزیر خارجہ"
}