{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibhue2swwh4fdslxesyxhl5yjf7vw2ki46i6jpx3yv2kic47pcroa",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpaayo5qb7q2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidzzdgfj37nbxyj7ukedfdd7foaxfnmqjrv67dybiq25ukpxihjyu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 129939
  },
  "path": "/node/186514",
  "publishedAt": "2026-06-26T13:39:19.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "انڈیا",
    "معرکہ حق",
    "بنیان مرصوص",
    "اموات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**انڈین حکومت نے مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ چار روزہ جنگ کے دوران جان سے جانے والے چھ فوجی اہلکاروں کے نام پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر جاری کر دیے ہیں۔**\n\nانڈین ویب سائٹ دی ہندو نے رپورٹ کیا ہے ان اہلکاروں کے نام نئی دہلی میں قائم نیشنل وار میموریل پر سنہ 2025 کے ’رول آف آنر‘ میں کندہ کر دیے گئے ہیں جبکہ انہیں یاد گار کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی شامل کیا گیا ہے۔\n\nانڈین حکومت کا کہنا ہے کہ آپریشن ’سندور‘ میں جان گنوانے والے اہلکاروں میں ہیڈکوارٹر 10 انفنٹری بریگیڈ کے صوبیدار میجر پون کمار، فور جموں و کشمیر لائٹ انفنٹری کے رائفل مین سنیل کمار، فائیو فیلڈ رجمنٹ کے لانس نائیک دنیش کمار، 851 لائٹ رجمنٹ کے ایوی ایشن ٹیکنیشن موڈ مورالی نائک، 237 فیلڈ ورکشاپ کمپنی کے حوالدار سنیل کمار سنگھ اور 39 ونگ کے سارجنٹ سریندر کمار شامل ہیں۔\n\nگذشتہ سال مئی میں انڈیا کے حملے کے جواب میں پاکستان فوج نے اپنے آپریشن کو ’معرکہ حق‘ اور ’آپریشن بنیان المرصوص‘ کا نام دیا۔\n\nانڈیا اور پاکستان کے درمیان شدید کشیدگی اپریل 2025 میں اس وقت شروع ہوئی جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر ایک مہلک حملے کا الزام نئی دہلی نے بغیر ثبوت کے اسلام آباد پر لگایا گیا تھا، جب کہ پاکستان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتاہم انڈیا نے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ پنجاب کے کئی علاقوں میں حملے کرنا شروع کر دیے۔\n\nانڈیا نے اس کارروئی کو آپریشن سندور کا نام دیا تھا۔ انڈیا کی اس کارروائی میں پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں درجنوں اموات ہوئی تھیں۔\n\nجس کے جواب میں پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے نام سے کارروائی کرتے ہوئے انڈین ایئربیسز، انڈیا کے جنگی طیاروں سمیت ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا تھا۔\n\nپاکستان کی جانب سے ابتدا میں رفال سمیت انڈیا کے سات طیارے گرائے جانے کا بیان سامنے آیا تھا تاہم بنیان المرصوص کے ایک سال مکمل ہونے پر جاری تفصیلات میں یہ تعداد آٹھ بتائی گئی ہے۔\n\nپاکستان\n\nانڈیا\n\nمعرکہ حق\n\nبنیان مرصوص\n\nاموات\n\nانڈین حکومت نے مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ چار روزہ جنگ کے دوران جان سے جانے والے اپنے چھ فوجی اہلکاروں کے نام پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر جاری کر دیے ہیں۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, جون 26, 2026 - 18:30\n\nMain image:\n\n> <p>سات مئی 2025 کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر کے قریب وویان میں لوگ پاکستان کے ساتھ جنگ کے دوران ایک تباہ شدہ طیارے کے ایک حصے کو دیکھ رہے ہیں (توصیف مصطفیٰ/ اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n’معرکہ حق‘ کی پہلی سالگرہ: سیاسی و عسکری قیادت کی قوم کو مبارک باد\n\nپاکستان نے انڈیا کے خلاف فوجی آپریشن کا نام ’بنیان مرصوص‘ کیوں رکھا؟\n\nآپریشن سندور 2 کی تیاری کر رہے ہیں:انڈین آرمی چیف\n\nآپریشن سندور پر انڈین پارلیمان میں دعوے جھوٹے ہیں: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nانڈین حکومت نے پہلی بار ’آپریشن سندور‘ میں مرنے والے چھ فوجیوں کے نام جاری کر دیے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "انڈین حکومت نے پہلی بار ’آپریشن سندور‘ میں مرنے والے چھ فوجیوں کے نام جاری کر دیے"
}