{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihvlwhz3ibs2kf5yl7zw5sq46baondkezwda62bgobckrn6quglzi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpaaynzhzc32"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiepkcb66j4txvekkmlcur73lm3b6xlyky3s5adsw5t5uj2hhcxhn4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 98140
  },
  "path": "/node/186513",
  "publishedAt": "2026-06-26T13:08:55.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان انڈیا تعلقات",
    "مذاکرات",
    "کولمبو",
    "رمنا سعید، قرۃ العین شیرازی",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**بالاخر پاکستان اور انڈیا برسوں سے باضابطہ مذاکرات معطل ہونے کے باوجود ایک بار پھر خاموشی سے آمنے سامنے آئے ہیں۔ اس بار ملاقات سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہوئی۔**\n\nیہ ایک ’ٹریک 1.5‘ سفارتی مکالمہ تھا۔ سفارت کاری میں ’ٹریک ون‘ سے مراد حکومتوں کے درمیان براہِ راست اور سرکاری مذاکرات ہوتے ہیں جبکہ ’ٹریک ٹو‘ غیر رسمی بات چیت ہوتی ہے، جس میں سابق سفارت کار، ریٹائرڈ فوجی افسران، ماہرین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔\n\n’ٹریک 1.5‘ ان دونوں کے درمیان کی ایک شکل ہے۔ یعنی مکمل طور پر سرکاری بھی نہیں اور مکمل غیر رسمی بھی نہیں۔ اس میں دونوں ممالک کے نمائندے بغیر کسی باضابطہ وعدے کے ایک دوسرے کو پیغام دے سکتے ہیں، تجاویز آزما سکتے ہیں اور رابطے کا سلسلہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ ملاقات اہم سمجھی جا رہی ہے۔\n\nدفترِ خارجہ کے سورسز نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ کولمبو میں ہونے والے مذاکرات میں پانی، فضائی حدود، بحران کے دوران رابطوں کے نظام اور آئندہ کشیدگی سے بچنے کے طریقوں پر بات ہوئی۔\n\n’ساؤتھ ایشیا انڈیکس‘ نے رپورٹ کیا کہ انڈیا نے پاکستان کو بتایا کہ وہ دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے سے متعلق انتظامات بحال کرنے اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ اس کے بدلے میں انڈیا نے مبینہ طور پر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ انڈین فضائی کمپنیوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود دوبارہ بغیر کسی پابندی کے کھولی جائیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، کیونکہ مئی 2025 کی فوجی کشیدگی کے بعد پاکستان نے انڈین فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں، جس کے باعث انہیں طویل فضائی راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ اس غیر رسمی مکالمے میں دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے حاضر سروس حکام نے بھی شرکت کی، جو اس قسم کے انفارمل مذاکرات میں غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو کو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے سینیٹر شیری رحمٰن اور صحافی نسیم زہرہ ان مذاکرات میں شریک تھے جب کہ انڈیا کی نمائندگی حکمران جماعت کے رہنما رام مادھو، سابق آرمی چیف جنرل منوج نرواڻے، سابق سفارت کار روچی گھنشیام اور وویک کاٹجو نے کی۔\n\nیہ مکالمہ کولمبو میں منعقد ہوا، جس میں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ کیا یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کوئی بڑی پیش رفت ہے؟ اس کا جواب ابھی دینا قبل از وقت ہو گا۔ البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جب باضابطہ مذاکرات تقریباً منجمد ہیں، ایسے میں دونوں ممالک نے کم از کم رابطے کا ایک خاموش راستہ کھلا رکھا ہوا ہے۔\n\nپاکستان انڈیا تعلقات\n\nمذاکرات\n\nکولمبو\n\nدفترِ خارجہ کے سورسز نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ کولمبو میں ہونے والے مذاکرات میں پانی، فضائی حدود، بحران کے دوران رابطوں کے نظام اور آئندہ کشیدگی سے بچنے کے طریقوں پر بات ہوئی۔\n\nرمنا سعید، قرۃ العین شیرازی\n\nجمعہ, جون 26, 2026 - 17:45\n\nMain image:\n\nپاکستان\n\njw id:\n\najOeY4os\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپاکستانی حدود میں داخل ہونے پر ایئر انڈیا کے پائلٹ کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا\n\nایئر انڈیا طیارے کے پاکستان میں داخل ہونے کی تحقیقات: انڈیا\n\nچین سے تعلقات معمول پر آ رہے ہیں: انڈیا\n\nلاہور کے لوگ بھی ہماری طرح خوش اخلاق ہیں: انڈین سکھ یاتری\n\nSEO Title:\n\nبرسوں کی باضابطہ معطلی کے بعد پاکستان انڈیا ٹریک 1.5 مذاکرات کولمبو میں\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "برسوں کی باضابطہ معطلی کے بعد پاکستان انڈیا ٹریک 1.5 مذاکرات کولمبو میں"
}