{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihmkpgdf6auvb6ylhai6buivdb2ymhp27ru7gtsi6t2np3s4zo7mq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mp5jtj7kpvi2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidwkmwzcqoqqeisrw3g33aqpordcy3kufiol4rvpdqpf3xp7a5rge"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 80607
  },
  "path": "/node/186495",
  "publishedAt": "2026-06-25T07:19:51.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "کراچی",
    "ڈکیتی",
    "صالحہ فیروز خان",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**کراچی میں 12 جون کی صبح ایک کیش وین سڑک پر معمول کے مطابق روانہ تھی۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اگلے چند منٹوں میں 30 کروڑ روپے ایک ایسے منصوبے کی نذر ہونے والے ہیں، جس کے پیچھے برسوں سے چلنے والا ایک خفیہ نیٹ ورک کھڑا تھا۔**\n\nپولیس کے مطابق کراچی کے علاقے جوہر آباد کی حدود میں پیش آنے والے اس واقعے میں ایک نجی سکیورٹی کمپنی کی کیش وین کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ بینک کی رقم منتقل کر رہی تھی۔ وین میں موجود تقریباً 30 کروڑ روپے مسلح ملزمان نے ایک منظم کارروائی کے ذریعے لوٹ لیے اور موقعے سے فرار ہو گئے۔\n\n23 جون کو اس کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی جب ضلع ویسٹ پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا، جس کی شناخت محمد علی عرف علی لنگڑا کے طور پر ہوئی، جو ایک بین الصوبائی منظم گینگ کا سرغنہ بتایا جا رہا ہے۔\n\nپولیس نے ملزم کی نشاندہی پر کارروائی کرتے ہوئے اب تک تقریباً 20 کروڑ روپے برآمد کر لیے ہیں جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیوں سمیت دیگر سامان بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔\n\nتحقیقات کے دوران سکیورٹی کمپنی کی کیش وین کا چیف کریو آپریٹر سکیورٹی گارڈ واجد ولد میرلالا واردات میں ملوث پایا گیا، جو واقعے کے بعد سے فرار ہے اور پولیس کے مطابق ممکنہ طور پر 10 لاکھ روپے بھی اسی کے پاس ہیں۔\n\nکراچی میں کیش وین میں ڈکیٹی کی واردات کا مرکزی ملزم محمد علی عرف علی لنگڑا پولیس کی حراست میں (ڈی آئی جی ویسٹ پولیس کراچی)\n\n\n\n\nاس ڈکیتی کی واردات نے پورے سکیورٹی سسٹم کو ہلا کر رکھ دیا کہ آخر کیش وین سے ڈکیتی کیسے ہوئی؟\n\nڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عرفان بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں اس ڈکیتی واردات کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسے ’کراچی کی اب تک کی سب سے بڑی واردات‘ قرار دیا۔\n\nانہوں نے بتایا: ’یہ کوئی عام واردات نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا منظم اور بین الصوبائی نیٹ ورک تھا جو برسوں سے بڑے مالی اہداف کو نشانہ بنا کر منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائیاں کرتا رہا ہے۔\n\n’یہ گینگ کسی بھی ہدف پر کارروائی سے پہلے تین سے چار ماہ تک مسلسل ریکی کرتا تھا۔ ٹارگٹ کی نقل و حرکت، سکیورٹی روٹس اور وقت کا مکمل جائزہ لیا جاتا تھا اور اس کے بعد ہی واردات کو عملی شکل دی جاتی تھی۔ ان کا بنیادی ہدف ہمیشہ بڑے کیش ٹرانسفرز اور بینک کیش وینز ہوتی تھیں۔‘\n\n12 جون کی صبح تقریباً 9 بجے تھانہ جوہر آباد کے علاقے میں جس کیش وین کو نشانہ بنایا گیا، اس میں تقریباً 30 کروڑ روپے موجود تھے۔\n\nپولیس کے مطابق ملزمان نے ایسی جگہ وین کو روکا جہاں فوری طور پر سکیورٹی یا مدد پہنچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے اور اس منصوبہ بندی کے تحت ڈاکو رقم لوٹ کر فرار ہو گئے۔\n\nاب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیش وین کو لوٹنا اتنا آسان ہے؟\n\nڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق یہ کیش وین ایک انتہائی حساس اور پروٹیکٹڈ گاڑی تھی، جس میں باقاعدہ ایس او پیز کے تحت چیف کریو آفیسر، دو گارڈز اور ایک ڈرائیور موجود تھے۔\n\nاصول کے مطابق اس گاڑی کے دروازے بند رہنے چاہییں اور کوئی بھی غیر متعلقہ شخص اس میں مداخلت نہیں کرسکتا۔\n\nڈی آئی جی ویسٹ پولیس عرفان بلوچ 24 جون 2026 کو انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے (صالحہ فیروز خان/ انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\n**تو واردات کیسے کامیاب ہوئی؟**\n\nڈی آئی جی عرفان بلوچ نے اس حوالے سے بتایا: ’جب ہم نے آس پاس کے سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لیا تو اس میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ کیش وین کے دروازے کھلے ہوئے تھے جبکہ ڈرائیور بھی موقع پر موجود نہیں تھا۔ اسی دوران ڈاکو آئے تو انہیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ براہِ راست کھلے دروازوں کے ذریعے وین کے اندر داخل ہو گئے۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ’تفتیش کے دوران کیش وین کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی جو خوش قسمتی سے بند نہیں ہوسکی تھی۔ اس میں چیف کریو آپریٹر واجد، جو اس وین میں بطور ملزم سامنے آیا ہے، واضح طور پر نظر آتا ہے، جو نہ صرف موقع پر موجود تھا بلکہ چابی بھی ڈاکوؤں کے حوالے کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جس سے اس واردات میں اندرونی ملی بھگت کے شواہد مزید مضبوط ہو گئے۔‘\n\nعرفان بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ یہ گروہ صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل بین الصوبائی نیٹ ورک ہے، جو مختلف شہروں میں وارداتیں کرتا رہا ہے اور تحقیقات کے مطابق انہوں نے کوئٹہ اور پشاور سمیت متعدد شہروں میں بھی اسی نوعیت کی وارداتیں کی ہیں، جبکہ کراچی میں بھی ان کے کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں۔\n\nپولیس کے مطابق کیش وین سے لوٹے گئے 20 لاکھ روپے برآمد کر لیے گئے (ڈی آئی جی ویسٹ پولیس کراچی)\n\n\n\n\n**ملزمان کا سکیورٹی سسٹم میں داخل ہونے کا طریقہ کار**\n\nڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق: ’محمد علی عرف علی لنگڑا کا یہ گروہ واردات سے پہلے سکیورٹی نظام میں اپنے افراد شامل کرتا تھا۔ خاص طور پر بینکوں اور کیش ہینڈلنگ سے وابستہ پرائیویٹ سکیورٹی اہلکاروں میں اپنے بندے بھرتی کیے جاتے تھے، جن سے اندرونی معلومات حاصل کی جاتیں اور پھر مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ واردات کو عملی جامہ پہنایا جاتا۔\n\nعرفان بلوچ کے مطابق: ’اس خاص کیس میں بھی کیش وین کا چیف کریو آپریٹر واجد اس نیٹ ورک کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ وہ وین کی نگرانی اور آپریشن کا ذمہ دار تھا اور اسی کے ذریعے ملزمان کو اندرونی معلومات فراہم کی گئیں، جس کے بعد واردات کوانجام دیا گیا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ گینگ فلم سے متاثر ہو کر ڈکیتی نہیں کرتا تھا بلکہ اس طرح کی پروفیشنل ڈکیتیاں دیکھ کر فلمیں بنتی ہیں، لیکن انجام ان کا برا ہی ہوتا ہے، یا تو یہ گرفتار ہو جاتے ہیں یا مارے جاتے ہیں۔‘\n\n**مرکزی ملزم کا شاہانہ لائف سٹائل اور طویل مجرمانہ سرگرمیاں**\n\nڈی آئی جی عرفان بلوچ نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے مرکزی گینگ لیڈر محمد علی عرف لنگڑا کی تین شادیاں ہیں اور کراچی میں اس کے تین سے چار بنگلے بھی موجود ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے بتایا کہ ’وہ ایک ایسی شاہانہ اور پرتعیش زندگی گزار رہا تھا جیسے وہ کسی ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتا ہو۔ وہ بظاہر گذشتہ 10 سے 12 سال سے اسی نوعیت کی منظم اور پیشہ ور ڈکیتیوں میں ملوث رہا ہے۔‘\n\nدوسری جانب ڈی آئی جی کے مطابق: ’واجد، جو سکیورٹی کمپنی میں ملازم اور اس کیش وین کا چیف کریو آپریٹر بھی تھا، کا تعلق پاراچنار سے ہے۔ اس واردات میں حاصل ہونے والی رقم کے استعمال اور اس کی ممکنہ منتقلی کے مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیایہ رقم کسی غیر قانونی مالی سرگرمی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے یا نہیں۔‘\n\nابتدائی معلومات کے مطابق تقریباً 10 کروڑ روپے واجد اور اس کی ٹیم کے پاس موجود تھے، جو موقع ملتے ہی رقم لےکر فرار ہو گئے۔\n\nعرفان بلوچ کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات میں دو اہم پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جن میں سب سے پہلے یہ شامل ہے کہ آیا لوٹی گئی رقم کسی غیر قانونی مالیاتی سرگرمی یا منی ٹریل کے ذریعے منتقل یا استعمال کی جارہی ہیں۔\n\n’دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اس گروہ کو قانونی سطح پر کون لوگ معاونت فراہم کرتے ہیں۔ اس بات کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے کہ گرفتار افراد کو عدالتوں میں ضمانتیں کیسے ملتی ہیں، کون ان کے لیے سکیورٹی یا یقین دہانی فراہم کرتا ہے، کون وکالت اور قانونی مشاورت کا انتظام کرتا ہے اور آیا کسی منظم طریقے سے ان کے کیسز کو سہولت فراہم کی جاتی ہے یا نہیں۔‘\n\nڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق: ’یہ تمام پہلو تفتیش کا حصہ ہیں تاکہ اس پورے نیٹ ورک کی مکمل ساخت اور معاونت کے نظام کو بے نقاب کیا جا سکے۔‘\n\nکراچی\n\nڈکیتی\n\nڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق یہ واردات کراچی کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتیوں میں شمار کی جا سکتی ہے، جس میں بھاری رقم منظم انداز میں لوٹی گئی۔\n\nصالحہ فیروز خان\n\nجمعرات, جون 25, 2026 - 12:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">12 جون 2026 کو کراچی کے علاقے جوہر آباد کی حدود میں ایک نجی سکیورٹی کمپنی کی کیش وین میں ڈکیتی کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے لیا گیا سکرین گریب (ڈی آئی جی ویسٹ پولیس کراچی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n6YEwXT0F\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکراچی پولیس افسر کے گھر ڈکیتی میں ڈالر، نقدی، زیورات لوٹ لیے\n\nپشاور: بینک کی گاڑی سے کروڑوں کی ڈکیتی، ملزمان چند گھنٹوں میں کیسے گرفتار ہوئے؟\n\nکراچی: 100 سے زائد ڈکیتیوں کا ملزم پولیس حراست سے فرار\n\nنوشہرہ: سرکاری بینک سے 572 تولے سونے کی ڈکیتی کیسے ہوئی؟\n\nSEO Title:\n\nکراچی: تین بنگلوں کے مالک نے کیش وین سے 30 کروڑ کی واردات کیسے کروائی؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "کراچی: تین بنگلوں کے مالک نے کیش وین سے 30 کروڑ کی واردات کیسے کروائی؟"
}