{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiciwshf7vbfmblot6qwafm7s7ufn5dwospbso6mbfjidsmmmlftue",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mp5jtehmz7d2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreieq32ewfgolx2b6sfh3lthvn33tibcekjqmdoilatcvl3xdxrwsqq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 60461
  },
  "path": "/node/186496",
  "publishedAt": "2026-06-25T07:47:03.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "نیٹو",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "اے ایف پی",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**تہران نے جمعرات کو نیٹو پر ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں ’شراکت داری‘ کا الزام عائد کیا ہے۔**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک پر جنگ کی حمایت نہ کرنے پر تنقید کے جواب میں نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ اٹلی میں موجود امریکی اڈوں سے سینکڑوں امریکی طیاروں نے پروازیں کیں۔\n\nٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں نیٹو اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی دیکھی گئی ہے کیونکہ کئی اتحادی مشرق وسطیٰ میں اس جنگ کی ضرورت پر شکوک و شبہات کا اظہار کر چکے ہیں۔\n\nروٹے نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ملک در ملک، اتحادی در اتحادی، سب نے آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے لیے اپنے فوجی اڈے امریکہ کے استعمال کے لیے فراہم کیے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’ایران کے خلاف آپریشن ’ایپک فیوری‘ کی حمایت کے لیے اٹلی میں موجود امریکی اڈوں سے 500 امریکی طیاروں نے پرواز کی۔‘\n\nبدھ کو ٹرمپ نے روٹے سے کہا تھا کہ وہ نیٹو کے ان رکن ممالک سے ’مایوس‘ ہیں جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ نہیں دیا۔\n\nروٹے نے فاکس نیوز کو یہ بھی بتایا کہ رومانیہ نے ایران جنگ کے دوران ’تجارتی پروازوں میں کمی کر دی تھی کیونکہ ہوائی اڈوں کو فضائی ایندھن بردار طیاروں (ٹینکرز) کی سہولت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیٹو سربراہ کے بیان کو ’غیر قانونی جنگ‘ میں ’فعال شراکت داری‘ کا اعتراف قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔\n\nبقائی نے ایکس پر لکھا ’یہ ایک خودمختار اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کے خلاف غیر قانونی جارحانہ جنگ میں نیٹو کی فعال شراکت داری کا واضح اور شرمناک اعتراف ہے۔‘\n\nانہوں نے نیٹو پر الزام لگایا کہ اس نے ’بین الاقوامی قانون کے لازمی اصولوں اور اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی‘ کی ہے۔\n\nاٹلی نے فوری طور پر روٹے کے بیان سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ نے ’مجاز پروازوں کی نوعیت کو غلط انداز میں پیش کر کے مکمل طور پر گمراہ کن تاثر دیا۔‘\n\nاٹلی کی وزارت دفاع کے مطابق موجودہ امریکی۔اطالوی معاہدوں کے تحت اٹلی نے آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے دوران صرف ’تکنیکی اور لاجسٹک‘ نوعیت کی امریکی پروازوں کی اجازت دی تھی۔\n\nنیٹو\n\nایران\n\nامریکہ\n\nنیٹو کے سربراہ نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ اٹلی میں موجود امریکی اڈوں سے آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے لیے سینکڑوں امریکی طیاروں نے پروازیں کیں۔\n\nاے ایف پی\n\nجمعرات, جون 25, 2026 - 12:30\n\nMain image:\n\n> <p>11 مارچ، 2026 کو جنوبی مغربی انگلینڈ میں رائل ایئر فورس فیرفورڈ کے رن وے پر امریکی فضائیہ کے B-1 لینسر بمبار طیارے میں عملہ جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک منیشنز لوڈ کر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nصدر ٹرمپ نے نیٹو کو ’بزدل‘ اور ’کاغذی شیر‘ قرار دے دیا\n\nبرگن سٹاک مذاکرات: سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کی فون پر بات چیت\n\nایران ڈیل سے خلیجی ممالک کی سکیورٹی متاثر نہیں ہونے دیں گے: مارکو روبیو\n\nامریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف کارروائی روکنے کی قرارداد منظور\n\nSEO Title:\n\nایران کا نیٹو پر امریکی اسرائیلی جنگ میں ساتھ دینے کا الزام\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ایران کا نیٹو پر امریکی اسرائیلی جنگ میں ساتھ دینے کا الزام"
}