{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiajh7wzkfea4r3h5bek5zlwk6tefuopnvlioaqa2knm2b4ioi6uyy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mp5jsyu3auq2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreieabjxoyz2mf7fq5nomtvubdw4c4zpig37n3ebeaytmcupfl3caxm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 90054
  },
  "path": "/node/186493",
  "publishedAt": "2026-06-25T10:16:23.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "June 25, 2026",
    "وینزویلا",
    "زلزلہ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "@CMShehbaz"
  ],
  "textContent": "**وینزویلا کی حکومت نے جمعرات کو کہا ہے کہ ملک میں آنے والے شدید زلزلوں کے نتیجے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 188 ہو گئی جبکہ تقریباً 1500 زخمی اور 200 افراد ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔**\n\nحکام کے مطابق زلزلوں سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، ہسپتالوں اور رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔\n\nاے پی کے مطابق وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز بتایا کہ تعمیرِ نو کے لیے 20 کروڑ ڈالر کا ابتدائی فنڈ قائم کیا جائے گا، جس کے لیے آئی ایم ایف کے وسائل استعمال کیے جائیں گے۔ یہ فنڈ انفراسٹرکچر، ہسپتالوں اور رہائشی منصوبوں کی بحالی پر خرچ کیا جائے گا۔\n\nروڈریگیز نے خبردار کیا کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ ریسکیو ٹیمیں منہدم عمارتوں میں تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایمرجنسی عملہ تباہ شدہ علاقوں تک پہنچ رہا ہے۔\n\n7.2 اور 7.5 شدت کے یہ زلزلے شام چھ بجے کے کچھ دیر بعد آئے۔\n\nامریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلوں کا مرکز مورون نامی قصبے کے مغرب میں تھا، جو ملک کے کیریبین ساحل پر واقع ہے اور کاراکاس سے تقریباً 168 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ زلزلے کی گہرائی 22 کلومیٹر تھی۔\n\nیو ایس جی ایس کے مطابق 7.2 شدت کے زلزلے کے صرف ایک منٹ بعد 7.5 شدت کا ایک اور زیادہ طاقت ور زلزلہ آیا۔\n\nاے ایف پی نے بتایا کہ دوسرے زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز مورون سے 16 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔\n\nپاکستان نے وینزویلا میں بدھ کی شام آنے والے طاقت ور اور یکے بعد دیگرے زلزلوں پر اظہار افسوس کیا ہے۔\n\nپاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ’پاکستان کے عوام کی جانب سے میں وینزویلا کی حکومت اور عوام، خصوصاً متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔\n\n’ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں اور اس مشکل اور کٹھن وقت میں متاثرہ تمام افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔‘\n\n> Deeply saddened by the devastation and loss of life caused by the earthquakes in Venezuela.\n>\n>  On behalf of the people of Pakistan, I convey our heartfelt condolences to the Government and people of Venezuela, especially the families of the victims. We pray for the injured and…\n\n> — Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 25, 2026\n\n**ہنگامی حالت نافذ**\n\nروڈریگیز نے بدھ کی رات قوم سے خطاب میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا زلزلوں سے کئی ریاستوں میں نقصان ہوا۔\n\nجمعرات کی صبح جاری کیے گئے اعداد و شمار میں ریاست لا گوائرا کو شامل نہیں کیا گیا، جسے روڈریگیز نے ’تباہی زدہ‘ اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ قرار دیا۔\n\nانہوں نے کہا ’دارالحکومت کاراکاس سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں واقع اس علاقے میں درجنوں عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں اور ہم اس وقت جانیں بچانے کے لیے بھرپور ریسکیو آپریشن کر رہے ہیں۔‘\n\nان زلزلوں نے، جو ایک صدی سے زائد عرصے میں وینزویلا میں آنے والے طاقت ور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔\n\nکئی شہروں میں عمارتیں خالی کروا لی گئیں جبکہ اس کے اثرات برازیل کے ایمزون کے علاقوں تک محسوس کیے گئے جو کاراکاس سے تقریباً 1700 کلومیٹر دور ہیں۔\n\n24 جون 2026 کو وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں آنے والے زلزلے کے بعد ایک تباہ شدہ عمارت کے سامنے لوگ گزر رہے ہیں جبکہ ایک درخت گرنے سے تباہ ہونے والی گاڑی بھی تصویر میں دیکھی جا سکتی ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nروڈریگیز نے مزید کہا کہ کاراکاس میں میٹرو اور قدرتی گیس کی خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔\n\nانہوں نے وینزویلا کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ حکومتی ایپ کے ذریعے نقصانات کی اطلاع دیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوزیر داخلہ دیوسدادو کابیو نے کہا کہ کاراکاس کے علاقے الٹامیرا میں گھروں اور عمارتوں کے منہدم ہونے کے باعث ’تشویش ناک صورت حال‘ پیدا ہو گئی ہے۔\n\nکئی افراد شدید صدمے کی حالت میں تھے کیونکہ عمارتوں کی پوری دیواریں گر چکی تھیں اور سڑک سے گھروں کا فرنیچر دکھائی دے رہا تھا۔\n\n**’ہم سب کو اپنے گھروں سے نکلنا پڑا‘**\n\nسورج غروب ہونے کے بعد بھی لوگ کئی گھنٹوں تک سڑکوں پر موجود رہے۔ بعض لوگ اپنے پالتو جانوروں کو گلے لگائے زمین پر بیٹھے رہے۔\n\nمنہدم عمارتوں، گرے ہوئے بجلی کے کھمبوں اور ملبے نے سڑکیں بند کر دیں۔ دارالحکومت کے بعض علاقوں میں بجلی اور موبائل فون سگنل بھی معطل ہو گئے۔\n\nکاراکاس کے رہائشی ہیکٹر رِچی نے کہا ’پہلے ہلکے جھٹکے محسوس ہوئے، پھر شدت آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اور آخرکار ہم سب کو اپنے گھروں سے نکل کر باہر آنا اور ایک جگہ جمع ہونا پڑا۔‘\n\nایک اور رہائشی روبرٹو گاماس نے کہا ’عمارت واقعی ایک طرف سے دوسری طرف ہل رہی تھی۔ یہ ناقابلِ یقین تھا۔ زلزلے کی شدت بہت زیادہ تھی۔\n\n’ہم چل رہے تھے اور جھٹکے ہمیں ادھر اُدھر پھینک رہے تھے۔ اپارٹمنٹ کے اندر ہر چیز گر گئی۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔‘\n\nوینزویلا کے بعض حصوں میں موبائل فون سگنل کی عدم دستیابی نے بہت سے خاندانوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا، خاص طور پر ان خاندانوں کی، جن کے افراد ان 77 لاکھ سے زائد لوگوں میں شامل ہیں جو ملک کے طویل بحران کے دوران وینزویلا چھوڑ چکے ہیں۔\n\nدسمبر میں وینزویلا چھوڑنے کے بعد جلاوطنی اختیار کرنے والی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے وینزویلا کے عوام کے لیے دعا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔\n\nانہوں نے ایکس پر لکھا ’اس مشکل وقت میں ہمارے درمیان طاقت، سکون اور یکجہتی قائم رہے۔‘\n\n24 جون 2026 کو وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں آنے والے زلزلے کے بعد لوگ سڑکوں پر موجود ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**وینزویلا سے اظہارِ یکجہتی**\n\nوینزویلا میں آنے والے شدید زلزلوں کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر فوری ردعمل سامنے آیا اور امریکہ، چلی اور ایل سلواڈور سمیت مختلف حکومتوں نے مدد کی پیشکش کی۔\n\nامریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے ایکس پر کہا ’امریکہ آج شام آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔\n\n’ہم حکام سے رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیوں کو متحرک کر رہے ہیں۔‘\n\nایل سلواڈور کے صدر نایب بوکیلے نے، جو ماضی میں وینزویلا کی حکومت کے سخت مخالف رہے ہیں، بدھ کی رات ایکس پر جاری بیان میں امداد کی پیشکش کی۔\n\nانہوں نے لکھا ’ہم اپنی مکمل یکجہتی اور دعائیں آپ کے ساتھ بھیجتے ہیں۔ مضبوط رہیں، وینزویلا۔‘\n\nایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبوا نے وینزویلا کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا انہوں نے ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوری انسانی امداد بھیجنے کا حکم دیا ہے۔\n\nانہوں نے لکھا ’ایکواڈور اس وقت کے تقاضوں کے مطابق تیزی اور عزم کے ساتھ ردعمل دے گا کیونکہ ہمارے اختلافات کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، انسانیت کو ہمیشہ ایک رہنما کے اقدامات کی رہنمائی کرنی چاہیے۔‘\n\n**زلزلے کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے گئے**\n\nزلزلے کے جھٹکے کولمبیا کے کیریبین اور شمال مشرقی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، تاہم وہاں کسی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔\n\nامریکی پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے زلزلوں کے بعد سونامی سے متعلق کئی انتباہ جاری کیے، جنہیں بعد میں واپس لے لیا گیا۔\n\nوینزویلا میں شدید زلزلے غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں۔\n\nاگرچہ وینزویلا کئی فالٹ لائنوں کے قریب واقع ہے، تاہم جنوبی امریکی اور کیریبین ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان اس کی جغرافیائی پوزیشن کے باعث یہاں لاطینی امریکہ کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زلزلے کم آتے ہیں۔\n\nبحرالکاہل کے ساحلی علاقوں مثلاً میکسیکو اور چلی میں زلزلے کثرت سے آتے ہیں۔\n\nیہ دونوں ممالک ’رِنگ آف فائر‘ کہلانے والی زلزلہ خیز ٹیکٹونک پٹی پر واقع ہیں، جو امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دنیا کے 90 فیصد زلزلوں کی ذمہ دار ہے۔\n\nوینزویلا\n\nزلزلہ\n\nوینزویلا کی عبوری صدرنے مزید بتایا کہ ملک کی تعمیرِ نو کے لیے 20 کروڑ ڈالر کا ابتدائی فنڈ قائم کیا جائے گا، جس کے لیے آئی ایم ایف کے وسائل استعمال کیے جائیں گے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, جون 25, 2026 - 15:15\n\nMain image:\n\n> <p>25 جون 2026 کی صبح وینزویلا کی ریاست لا گوائرا کے شہر کاتیا لا مار میں زلزلے سے متاثرہ عمارتوں کے قریب مقامی رہائشی اور امدادی کارکن موجود ہیں (فیڈریکو پارا / اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nروس: آتش فشاں کا 600 سال بعد پھٹنا زلزلے کی وجہ ہو سکتا ہے\n\nسمارٹ فونز سے اب زلزلے کا قبل از وقت پتہ لگایا جا سکے گا: تحقیق\n\n’راتوں کی نیند اڑ گئی:‘ جاپانی جزیرے پر ایک ہفتے میں 900 زلزلے\n\nافغانستان زلزلہ: اموات کی تعداد 2200 سے متجاوز، امداد جاری\n\nSEO Title:\n\nوینزویلا میں زلزلے سے اموات کی تعداد 188 ہو گئی، 1500 سے زیادہ زخمی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "وینزویلا میں زلزلے سے اموات کی تعداد 188 ہو گئی، 1500 سے زیادہ زخمی"
}