{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicqrbnluka4vg3fn7t4ryo7m6jowex2re3qgq4j3ddem7bqhdrkaa",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mp5jsip5lc72"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicorlcvog4zhucdvbomz5hfilp45fxv4on5pdfmnsje5w33272jpm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 79791
  },
  "path": "/node/186500",
  "publishedAt": "2026-06-25T15:15:24.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "June 25, 2026",
    "ایران جنگ",
    "امریکہ",
    "اسلام آباد امن معاہدہ",
    "مذاکرات",
    "بیرون ملک اثاثے",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "news",
    "@mb_ghalibaf"
  ],
  "textContent": "**ایران کے پارلیمانی سپیکر اور امریکہ سے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکہ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ایران اپنے غیر منجمد اثاثے امریکی زرعی مصنوعات خریدنے پر خرچ کرے گا۔**\n\nانہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا ہے کہ ’دلچسپ بات ہے کہ ہم دراصل وہی فصل کاٹ رہے ہیں جو آپ نے بوئی یعنی دہائیوں پر محیط عدم اعتماد۔ یہ قدرتی، وافر اور مقامی پیداوار ہے جبکہ بظاہر امریکہ صرف جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم او) سویا بین، ٹوٹے ہوئے وعدے اور فضول بیانات برآمد کرتا ہے۔‘\n\nایرانی مذاکرات کار باقر قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ معاہدے کے تحت ایران کے جاری کیے گئے اربوں ڈالر بالآخر امریکی خوراک، خصوصاً مکئی، گندم اور سویا بین کی خریداری کے ذریعے واپس امریکہ آئیں گے۔\n\n> America falsely claims our unfrozen assets will buy their agriculture. Interesting. The only crop we're harvesting is what you planted: decades of mistrust. It's organic, abundant, and homegrown. But apparently the US only exports GMO soybeans, broken promises and trash talks.\n\n> — محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) June 25, 2026\n\nاسی تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ اگر ایرانی اثاثے غیر منجمد کیے گئے تو انہیں امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بدھ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے غیر منجمد اثاثوں کا بڑا حصہ امریکی خوراک اور ادویات کی خریداری پر خرچ ہوگا۔\n\nایک ’دشمن ملک‘ کو مالی معاونت فراہم کرنے پر ہونے والی تنقید کے جواب میں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کے اربوں ڈالر درحقیقت کبھی بھی تہران کے ہاتھ میں نہیں لگیں گے۔\n\nایک سینیئر امریکی عہدیدار نے نیویارک پوسٹ کو بتایا: ’اس رقم کا کوئی حصہ بھی ایران تک نہیں پہنچے گا۔‘\n\nحکام کے مطابق یہ فنڈز ایک طرح کے امانتی (ایسکرو) اکاؤنٹ کی صورت میں کام کریں گے، جہاں ادائیگیاں براہ راست ان منظور شدہ سپلائرز کو کی جائیں گی جو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایران کو اشیا فراہم کریں گے، نہ کہ یہ رقم براہ راست ایرانی حکومت کو جائے گی۔\n\nایران کے اثاثوں پر ان امریکی بیانات کے رد میں باقر قالیباف کے حالیہ بیان سے قبل کئی دیگر ایرانی رہنما بھی اسی موقف کا اظہار کر چکے ہیں۔\n\nجنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے سفیر علی بحرینی نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے تحت غیر منجمد کیے گئے اثاثوں کے استعمال کا فیصلہ صرف ایران خود کرے گا جب کہ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ زرعی اجناس کی کسی بھی خریداری کا فیصلہ ’قیمت اور معیار‘ کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ واشنگٹن کی عائد کردہ شرائط کے مطابق۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان کا کہنا تھا کہ ’یہ دلچسپ بات ہے کہ جنگ کا فلسفہ اور مقصد، جو ایرانی تہذیب کو تباہ کرنا اور ایران کو منہدم کرنا تھا، اب امریکی کسانوں کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔‘\n\nوائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز کانگریس سے 87.6 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کی منظوری کی درخواست کی ہے، جس میں ایران جنگ کے اخراجات شامل ہیں۔\n\nدرخواست میں محکمہ دفاع کے لیے 21 ارب ڈالر اور محکمہ توانائی کے لیے 768 ملین ڈالر طلب کیے گئے ہیں جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بحرین میں واضح کیا ہے کہ ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ پر خلیجی ممالک کے ساتھ کوئی بات نہیں ہوئی۔\n\nانہوں نے منامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعمیر نو کا معاملہ ابھی بہت دور کی بات ہے۔\n\nایران جنگ\n\nامریکہ\n\nاسلام آباد امن معاہدہ\n\nمذاکرات\n\nبیرون ملک اثاثے\n\nامریکہ ایران عبوری معاہدے کے بعد ایرانی منجمد اثاثوں پر واضح اختلاف موجود ہے۔ امریکہ کہتا ہے کہ فنڈز کا بڑا حصہ امریکی خوراک و زرعی مصنوعات کی خریداری پر خرچ ہو گا، جبکہ ایران اسے مسترد کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ اثاثوں کے استعمال کا فیصلہ صرف ایران کرے گا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, جون 25, 2026 - 20:15\n\nMain image:\n\n> <p>ایران کی پارلیمان کے میڈیا ونگ کی جانب سے 14 اپریل 2026 کو  سپیکر محمد باقر قالیباف  کی تصویر جاری کی گئی (ایرانی پارلیمان)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران کا نیٹو پر امریکی اسرائیلی جنگ میں ساتھ دینے کا الزام\n\nایران ڈیل سے خلیجی ممالک کی سکیورٹی متاثر نہیں ہونے دیں گے: مارکو روبیو\n\nامریکہ - ایران تکنیکی مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ ہوں گے: پاکستان\n\nمذاکرات کی کامیابی کا انحصار ذمہ داریوں پر عمل درآمد ہے: ایران\n\nSEO Title:\n\nایرانی غیر منجمد اثاثے امریکی زرعی مصنوعات پر خرچ نہیں ہوں گے: باقر قالیباف\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ایرانی غیر منجمد اثاثے امریکی زرعی مصنوعات پر خرچ نہیں ہوں گے: باقر قالیباف"
}