{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiaq5dcvrh64v7hn64qlw3il6i6bszmukfecw3djfeu6iiprnnmbue",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mp2snvo5m6g2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihdgczt4ohd2zxxxx4zjqnrq5wj27nelck3hq3vcm6drslqrxbf2q"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 129628
  },
  "path": "/node/186482",
  "publishedAt": "2026-06-24T07:48:34.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "افغان پناہ گزین",
    "نادرا",
    "خیبر پختونخوا",
    "پشاور ہائی کورٹ",
    "اظہار اللہ",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**محمد سلیم (فرضی نام) پاکستانی شہری ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کے لیے افغان پناہ گزین کارڈ بنوایا تھا، کیونکہ جس وقت یہ کارڈز بن رہے تھے، اس وقت اقوام متحدہ کی جانب سے فی کارڈ 400 ڈالرز دیے جاتے تھے۔**\n\nکارڈ تو بن گیا اور وقت گزرتا گیا لیکن 2023 میں جب پاکستانی حکومت نے افغان پناہ گزینوں کو پاکستان سے نکالنے کا فیصلہ کیا اور اس مہم میں پہلے بغیر دستاویزات والے پناہ گزینوں کو وطن واپسی کا کہا گیا اور بعد میں نادرا کی جانب سے جاری کیے گئے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ اور افغان سیٹیزن کارڈ کو بھی منسوخ کر کے تمام افغان شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کا کہا گیا۔\n\nتب ہی سلیم کو خیال آگیا کہ ان سے بڑی غلطی سرزد ہوگئی ہے کیونکہ اب ان کی اہلیہ کو حکام کی جانب سے افغانستان جانے کا کہا جا رہا ہے جبکہ سلیم کے بچوں اور والدین کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں اور ان کا پورا خاندان پاکستان کا شہری ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمحمد سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ ایک سال سے ان کا پشاور ہائی کورٹ میں مقدمہ چل رہا تھا لیکن عدالت کی جانب سے وزارت داخلہ سے رجوع کرنے کو کہا گیا اور مقدمہ لڑنے پر بھی ان کے لاکھوں روپے خرچ ہوگئے۔\n\nانہوں نے بتایا: ’مجھے کارڈ بنواتے وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس سے اتنا بڑا مسئلہ بن جائے گا کیونکہ نادرا کی جانب سے ابھی ہمیں کہا جا رہا ہے کہ نادرا سسٹم میں آپ کی اہلیہ افغان شہری ہیں اور انہیں افغانستان جا کر پہلے افغان شہریت چھوڑنی پڑے گی اور اس کے بعد پاکستانی شہریت دینے کا فیصلہ ہوگا۔ ‘\n\nاسی طرز کا ایک مقدمہ 2025 میں ایک دوسرے درخواست گزار نے عدالت میں جمع کروایا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کا قبیلہ ضلع کرم کی سرحد کے قریب گاؤں میں واقع ہے اور گرمیوں میں کچھ مہینے وہ افغانستان کے صوبہ لوگر میں رہتے ہیں اور سردیوں میں واپس اپنے علاقے آجاتے ہیں۔\n\nدرخواست میں موقف تھا کہ ان کے خاندان میں بعض افراد نے مالی فائدے کے لیے افغان سٹیزن کارڈ بنایا ہوا تھا، جسے اب وہ منسوخ کروانا چاہتے ہیں لیکن نادرا کی جانب سے افغان کارڈ کینسل نہیں کیا جا رہا جبکہ ہمارے آباؤاجداد پاکستانی ہیں اور ہم یہیں پر پیدا ہوئے ہیں۔\n\nنادرا کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں محمد سلیم اور دیگر کی طرح ایسی 26 ہزار سے زائد درخواستوں کا انکشاف کیا گیا، جس میں مختلف نوعیت کے مقدمات موجود ہیں اور زیادہ تر میں پاکستانی شہریوں نے افغان پناہ گزین کارڈ حاصل کر رکھے ہیں اور اب ان کی منسوخی چاہتے ہیں۔\n\n10 فروری 2015 کو راولپنڈی میں افغان پناہ گزین، رجسٹریشن کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے دفتر کے باہر جمع ہیں (فاروق نعیم/اے ایف پی)\n\n\n\n\n**نادرا میں کس نوعیت کی درخواستیں جمع ہوئیں؟**\n\nسیف اللہ محب کاکاخیل پشاور ہائی کورٹ کے وکیل ہیں اور ایسے سینکڑوں مقدمات کی پیروی کر چکے ہیں۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بعض پاکستانی شہریوں نے تو مالی معاونت کے لیے افغان کارڈ بنائے تھے، جنہیں اب مسائل درپیش ہیں جبکہ اس کے علاوہ بھی مختلف نوعیت کے کیسز موجود ہیں۔\n\nمحب اللہ کے مطابق: ’بعض افراد کے والد یا والدہ افغان شہری ہیں اور اسی بنا پر انہوں نے مالی معاونت کے لیے افغان پناہ گزین کارڈ بنا رکھا تھا اور اب اس کی منسوخی چاہتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ’بعض نے بیرون ممالک پناہ لینے کے لیے افغان پناہ گزین کارڈ بنائے، جن کا مقصد دوسرے ملکوں میں پناہ لینا تھا اور وہ بھی اب ان کی منسوخی چاہتے ہیں۔ ‘\n\nمحب کاکاخیل نے بتایا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت سے اس لیے رجوع کیا گیا تھا کہ یا تو انہیں نادرا کے طریقہ کار کا پتہ نہیں تھا اور یا وہاں جا کر ان کو درست طریقے سے ڈیل نہیں کیا جاتا تھا۔ اسی سلسلے میں اب پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔\n\n**پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں کیا ہے؟**\n\nپشاور ہائی کورٹ نے گذشتہ روز 127 درخواست گزاروں کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کی درخواستیں منسوخ کر کے انہیں نادرا سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔\n\nعدالتی حکم نامہ، جو 21 صفحات پر مشتمل ہے اور جسٹس وقار احمد نے تحریر کیا ہے، میں تمام درخواست گزاروں کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے لیے نادرا سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔\n\nفیصلے میں لکھا گیا کہ نادرا درخواست گزاروں کی جانب سے درخواست دینے کے بعد چار ماہ میں ان کے کیسز کا فیصلہ کرے جبکہ فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں نے متعلقہ فورم (نادرا) سے رجوع کیے بغیر ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی ہیں۔\n\nفیصلے کے مطابق: ’متعلقہ فورم موجود ہونے کی وجہ سے ان کی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔‘\n\nدرخواست گزاروں کے مطابق وہ پیدائشی پاکستانی ہیں اور غلطی سے نادرا نے ان کے نام پر پی او آر اور اے سی سی کارڈ جاری کیے ہیں۔\n\nدرخواست گزاروں کے مطابق نادرا میں انہوں نے درخواستیں دی ہیں لیکن نادرا نے انہیں سروسز دینے سے انکار کیا ہے۔\n\nنادرا کے ڈائریکٹر آپریشنز نے عدالت میں پیش ہوکر درخواست گزاروں کے موقف کی تردید کی، جن کا کہنا تھا کہ اتھارٹی کو 26 ہزار ایسی درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔\n\nاتھارٹی کے مطابق: ’نادرا نے 17 ہزار 884 کیسز کو مسترد کیا ہے کیونکہ یہ درخواست گزار خود کو پاکستانی شہری ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ دو ہزار 200 درخواست گزاروں کو تصدیق کے بعد پاکستانی شہری کے طور پر کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کیے جاچکے ہیں۔ ‘\n\nنادرا کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں لکھا گیا کہ چھ ہزار 637 درخواست گزار تصدیق کے عمل کے لیے حاضر نہیں ہوئے، ان کے کیسز اب بھی زیرالتوا ہیں۔\n\nعدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی سیکشن 19 کے مطابق کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار نادرا چیئرمین کو تفویض کیا گیا ہے اور ایسے تمام کیسز کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار موجود ہے اور ایک جامع پالیسی بھی وضع کی گئی ہے۔\n\nفیصلے کے مطابق درخواست گزار نادرا سے رجوع کریں اور نادرا ان کے کیسز کا چار ماہ میں فیصلہ کرے جبکہ رجسٹریشن سینٹرز پر آنے والے تمام درخواست گزاروں کو کسی رکاوٹ کے بغیر سننے اور ان کو باقاعدہ ٹوکن جاری کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔\n\nاسی طرح فیصلے میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ نادرا درخواست گزاروں کو مطلوبہ دستاویزات جمع کروانے کے لیے تحریری طور پر رسید جاری کرے اور اگر درخواست گزاروں کی دستاویزات مکمل ہوں تو سپیشل ویریفکیشن بورڈ بھیجا جائے۔\n\nفیصلے میں مزید کہا گیا کہ ’چار ماہ میں نادرا درخواست گزاروں کی درخواست پر فیصلہ نہیں کرتا اور تاخیر ہو تو عدالت کے سامنے ریکارڈ پیش کرنے کی درخواست دائر کریں۔ ‘\n\nافغان پناہ گزین\n\nنادرا\n\nخیبر پختونخوا\n\nپشاور ہائی کورٹ\n\nنادرا کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں ایسی 26 ہزار سے زائد درخواستوں کا انکشاف کیا گیا، جن میں سے زیادہ تر میں پاکستانی شہریوں نے افغان پناہ گزین کارڈ حاصل کر رکھے ہیں اور اب ان کی منسوخی چاہتے ہیں۔\n\nاظہار اللہ\n\nبدھ, جون 24, 2026 - 12:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">8 نومبر 2023 کو کراچی کے ایک پولیس تھانے میں افغان پناہ گزین خواتین نادرا کی وین سے اتر رہی ہیں، جہاں ان کے کوائف کی تصدیق کی گئی (آصف حسن/اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافغان کارڈ ہولڈرز آج سے غیرقانونی، ملک بدری شروع: پاکستان\n\nتین سال میں 50 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی، ملک کو پانی کا شدید بحران\n\nافغان پناہ گزین کیمپوں کی بندش: ’واپسی کا کبھی ارادہ بھی نہیں کیا تھا‘\n\n’پاکستان گاڑیوں کی کلیئرنس میں تیزی لائے:‘ افغان پناہ گزینوں کی عید پر اپیل\n\nSEO Title:\n\nافغان کارڈ منسوخی کے لیے نادرا میں 26 ہزار سے زائد درخواستوں کی کہانی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "افغان کارڈ منسوخی کے لیے نادرا میں 26 ہزار سے زائد درخواستوں کی کہانی"
}