{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigrnoj5gl4kq6clqjmstkoq5tfqg4lgmvoyqn7tmhfgcqofpq7cwy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mp2sntl2zke2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifhj6ryrwgxrl4ep6rhyd3ey45ggrj5xb2y5wbhsf6caaoutbsqsa"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 53412
  },
  "path": "/node/186483",
  "publishedAt": "2026-06-24T08:01:04.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "دفتر خارجہ",
    "صومالیہ",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات میں صرف عارضی وقفہ آیا ہے اور یہ عمل آئندہ ہفتے پیر یا منگل کو دوبارہ شروع ہو گا۔**\n\nپاکستان اور قطر کی طرف سے پیر، 22 جون کو جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ’حوصلہ افزا‘ پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین نے 60 دن کے اندر جنگ کے خاتمے کے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔\n\nاسی اتفاق رائے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔\n\nبدھ کو پاکستانی دفتر خارجہ میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان طاہر اندرابی سے جب اس متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا: ’تکنیکی مذاکرات جاری ہیں جو آئندہ ہفتے، شاید پیر یا منگل کو دوبارہ شروع ہوں گے۔ یہ ایک عارضی وقفہ ہے اور مذاکرات جاری رہیں گے۔‘\n\nانہوں نے کہا: ’ہمارا وفد تکنیکی مذاکرات میں موجود تھا اور جب یہ دوبارہ شروع ہوں گے تو وفد تب بھی وہاں موجود ہو گا۔‘\n\nطاہر اندرابی کے مطابق مذاکراتی عمل ختم نہیں ہوا بلکہ فریقین تکنیکی سطح پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ وقفے کے بعد بات چیت دوبارہ وہیں سے آگے بڑھائی جائے گی جہاں اسے روکا گیا تھا۔\n\nمتعلقہ فریقوں کے درمیان جاری مذاکرات کا مقصد اختلافی امور پر پیش رفت اور قابلِ عمل حل تلاش کرنا ہے، جس کے لیے دونوں جانب سے ماہرین اور نمائندوں پر مشتمل وفود شریک ہیں۔\n\nان مذاکرات کو حتمی سیاسی فیصلوں کی بنیاد تصور کیا جا رہا ہے، اسی لیے تکنیکی نشستوں کو اہمیت حاصل ہے۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n**’افغانستان سے فعال سفارت کاری جاری‘**\n\nدفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ فعال سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ان میں تجارت، تعلیم سمیت متعدد معاملات نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے افغانستان کے دو دوروں میں زیر بحث آئے تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nطاہر اندرابی کے مطابق: ’تاہم پاکستان کے لیے ناممکن ہے کہ وہ فعال سفارت کاری تو جاری رکھے، تاہم اپنے شہریوں کو تحفظ نہ دے سکے۔ ہمارے ایکشن اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ہیں، افغانستان کو یقین دہانی کرانا ہوگی کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔‘\n\nترجمان نے مزید کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان واضح نشاندہی شدہ سرحد موجود ہے جس کا افغانستان کو احترام کرنا ہو گا۔‘\n\nان کے مطابق پاکستان نے ’افغانستان سے متعلق ہر راستہ آزمایا، لیکن اکتوبر 2025 میں ایک ایسی حد عبور ہوئی جس کے بعد سفارت کاری کو جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔‘\n\n**’یرغمال پاکستانی عملے کی رہائی ترجیح‘**\n\nدفتر خارجہ ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ’صومالی بحری قزاقوں کی جانب سے پاکستانی جہاز و عملے کو یرغمال بنانے کا معاملہ ہماری ترجیح ہے۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں سفارت خانے کی تکنیکی ٹیم نے جبوتی کا دورہ کیا۔\n\n’اس پر ہم نے بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد کیا۔ پاکستان مقامی این جی اووز، انصار برنی سمیت متعدد اداروں سے رابطے میں ہے۔‘\n\n21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا تھا، جس پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 پاکستانی شہری بھی شامل تھے، جنہیں قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔\n\nان افراد کی بحفاظت واپسی کے سلسلے میں اہلِ خانہ کراچی میں احتجاج بھی کر چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nدفتر خارجہ\n\nصومالیہ\n\nپاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق: ’ہمارا وفد تکنیکی مذاکرات میں (پہلے بھی) موجود تھا اور بات چیت دوبارہ شروع ہونے پر بھی موجود رہے گا۔‘\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nبدھ, جون 24, 2026 - 13:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی 24 جون 2026 کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران (دفتر خارجہ فیس بک پیج)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران کو دیگر ممالک کی طرح بیلسٹک میزائل رکھنے کا حق ہے: پاکستان\n\nمذاکرات کی کامیابی کا انحصار ذمہ داریوں پر عمل درآمد ہے: ایران\n\nامریکی پابندی ختم، ایران 60 دن کے لیے تیل فروخت کر سکے گا\n\nامریکہ - ایران مذاکرات میں ’حوصلہ افزا پیش رفت‘\n\nSEO Title:\n\nامریکہ - ایران تکنیکی مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ ہوں گے: پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "امریکہ - ایران تکنیکی مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ ہوں گے: پاکستان"
}