{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigoufbxkuvs4yhgu725fbu4qtx2jfc2owqylyt6fef55j66sh6n24",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moy3je5scvz2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihf6dmagjfmzdavwn7q22zl6ouf6v53tq7ojezzudjzqwu243ksbu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 65731
  },
  "path": "/node/186465",
  "publishedAt": "2026-06-23T07:08:09.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "امریکہ",
    "ایران",
    "اسحاق ڈار",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کو تقریباً ناکام بنا دیا تھا۔**\n\nانہوں نے یہ بات العربیہ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ اس انٹرویو میں انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت اور مذاکرات میں آنے والی رکاوٹوں پر تفصیلی گفتگو کی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاسحاق ڈار نے کہا کہ اب امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں شروع ہو گئے ہیں، جن کا مقصد حال ہی میں طے پانے والے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔\n\nپاکستانی نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مختلف ورکنگ گروپس جوہری امور، پابندیوں، منجمد اثاثوں اور لبنان سے متعلق معاملات پر کام کر رہے ہیں۔\n\nبقول اسحاق ڈار: ’سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن سٹاک میں جو بات چیت اب شروع ہو رہی ہے، وہ چند دن پہلے شروع ہو سکتی تھی، لیکن لبنان پر اسرائیلی حملے نے سب کچھ متاثر کیا اور روک دیا۔‘\n\nانہوں نے حالیہ امریکی، ایرانی مفاہمتی یادداشت کو مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک قابلِ اعتماد فریم ورک قرار دیتے ہوئے کہا: ’یہ ایک بہت سوچی سمجھی دستاویز ہے، جو دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہے۔ کسی کو بھی اس پر دستخط کرنے والے فریقین کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nوزیر خارجہ نے بتایا کہ مذاکرات کاروں کو بعض معاملات پر 30 دن میں نتیجہ اخذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ مجموعی معاہدہ 60 دن میں مکمل ہونے کی توقع ہے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ہو سکتی ہے۔\n\nبقول اسحاق ڈار: ’ہم نے پہلے ہی اس امن کے فوائد دیکھے ہیں۔ توانائی کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اور جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔‘\n\nوزیر خارجہ نے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو 28 فروری سے پہلے کی حالت میں بحال کیا جائے، یعنی کوئی فیس یا ٹول نہ ہو۔‘\n\nامریکہ\n\nایران\n\nاسحاق ڈار\n\nالعربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستانی نائب وزیراعظم نے حالیہ امریکی، ایرانی مفاہمتی یادداشت کو مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک قابلِ اعتماد فریم ورک قرار دیا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, جون 23, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار 22 جون 2026 کو العربیہ ٹی وی کو انٹرویو کے دوران (العربیہ)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nvL2QEpYt\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nمذاکرات کی کامیابی کا انحصار ذمہ داریوں پر عمل درآمد ہے: ایران\n\nامریکہ - ایران مذاکرات میں ’حوصلہ افزا پیش رفت‘\n\nامریکی پابندی ختم، ایران 60 دن کے لیے تیل فروخت کر سکے گا\n\nامریکہ-ایران معاہدہ اور پاکستان کا اصل کردار\n\nSEO Title:\n\nلبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکہ، ایران مذاکرات کو تقریباً ناکام بنا دیا تھا: اسحاق ڈار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکہ، ایران مذاکرات کو تقریباً ناکام بنا دیا تھا: اسحاق ڈار"
}