{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibaf2av26qt4tzne6fnlwlxb7km2j2k5o4v7wlev4pqj4mmddy6zi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moy3iytbxba2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihdsiwjys76kh2ipal5jeeizawt6qe5oil5vyutnmmgjozmq5qvj4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 74861
  },
  "path": "/node/186468",
  "publishedAt": "2026-06-23T10:29:03.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "https://t.co/IHVSg1oshr",
    "June 23, 2026",
    "ایران",
    "مسعود پزشکیان",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "video",
    "@GovtofPakistan"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کہا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے کسی قسم کے دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے اور ایران کو بھی دیگر ممالک کی طرح حق حاصل ہے کہ وہ بیلسٹک میزائل رکھے۔**\n\nانہوں نے یہ گفتگو اسلام آباد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں کی جو اعلیٰ سطی وفد کے ہمراہ ایک روزہ مختصر دورے پر آج پاکستان پہنچے۔\n\nفروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل سے شروع ہونے والے تنازعے کے بعد صدر پزشکیان پہلی مرتبہ پاکستان آئے ہیں۔\n\nپاکستان کے صدر اور وزیراعظم سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات نے نور خان ایئربیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔\n\nصدرپزشکیان کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد بھی ہوا۔ بعد ازاں دونوں ملکوں کے وفود میں تفصیلی گفتگو بھی ہوئی۔\n\nوزیراعظم ہاؤس میں صدر پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر نہیں کیونکہ یہ مسئلہ ان مذاکرات میں کبھی ایجنڈے پر شامل ہی نہیں تھا۔\n\n’یہ معاملہ سرے سے زیر بحث ہی نہیں آیا اور نہ ہی مفاہمتی یادداشت میں اس کا کوئی ذکر ہے۔\n\n’اگر آپ اس کی شرائط و ضوابط کا مطالعہ کریں تو آپ کو بیلسٹک میزائل کا کہیں بھی حوالہ نہیں ملے گا لہٰذا میں یہ بات بغیر کسی ابہام کے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ہمارا برادر ملک ایران اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بیلسٹک میزائل رکھتا ہے تو دنیا کے بہت سے دوسرے ممالک کے پاس بھی ایسے میزائل اپنے ذخیرے میں موجود ہیں۔\n\n’پھر ایران کے بیلسٹک میزائلوں پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے؟\n\n’یہ ایک ایسا تنازع کھڑا کرنے کے مترادف ہوگا جو غیر ضروری تاخیر، شکوک و شبہات اور سوالات کو جنم دے گا اور خطرے کی گھنٹی بجائے گا کہ دنیا میں ایسے عناصر کی کوئی کمی نہیں جو اس شاندار جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے سے انتہائی ناخوش، مایوس اور دل گرفتہ ہیں۔‘\n\nانہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا ’یہ معاہدہ دیرپا امن اور خوشحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے لیکن کچھ لوگ اسے سبوتاژ کرنے، الجھنیں پیدا کرنے اور شکوک و شبہات کو ہوا دینے کے درپے ہیں۔\n\n’میرے بھائی، میں خود اور ہمارے تمام برادر اور دوست ممالک اس عزم پر قائم ہیں کہ ہم ایسے تخریب کار عناصر کے مقابلے میں آہنی دیوار ثابت ہوں گے۔‘\n\nشہباز شریف نے پریس کانفرنس کے دوران صدر پزشکیان کو ’ایران جیسے عظیم ملک کے دوراندیش اور دانش مند رہنما‘ قرار دیا۔\n\nانہوں نے کہا ’یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ یہ جنگ ختم ہو گئی، جو پورے خطے بلکہ اس سے بھی آگے تک اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔‘\n\nانہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور ایران ’محض ہمسائے نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہیں‘ اور دونوں ممالک مشترکہ تاریخ، مذہب اور ثقافت کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔\n\nوزیراعظم نے کہا ’ایران کی کامیابی ہماری کامیابی ہے اور ایران کا نقصان ہمارا نقصان ہے۔‘\n\nشہباز شریف نے اعلان کیا کہ وہ ’ایران کی عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے‘ آئندہ ہفتے ایران کا دورہ کری گے۔\n\nشہباز شریف نے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا ثالثی کردار جاری رکھنا چاہتا ہے جب تک دیرپا امن حاصل نہ ہو جائے۔\n\n> براہِ راست:وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی گفتگو https://t.co/IHVSg1oshr\n\n> — Government of Pakistan (@GovtofPakistan) June 23, 2026\n\n’ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنا کردار جاری رکھیں جب تک ایک مستقل اور دیرپا امن قائم نہ ہو جائے۔‘ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو بھی سراہا۔\n\nوزیراعظم نے ایرانی عوام کے اتحاد اور حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے اسے قابل تحسین قرار دیا۔\n\n**’علاقائی امن اور استحکام صرف مخلصانہ مذاکرات سے ممکن‘**\n\nصدر پزشکیان نے پریس کانفرنس سے گفتگو میں کہا ’ایران کے میزائل مفاہمتی یادداشت کا حصہ تھے اور نہ ہی کبھی ہوں گے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’ایران کبھی بھی کسی ملک کے ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مذاکرات نہیں کرے گا اور اس کا پختہ یقین ہے کہ علاقائی امن اور استحکام صرف مخلصانہ مذاکرات اور خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران ’محض ایک دوسرے کے ہمسائے نہیں بلکہ اپنی بیشتر خواہشات، خدشات اور امیدوں میں ایک مشترکہ تقدیر رکھتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ یہ تعلقات ہمیشہ باہمی احترام، خیرسگالی اور تاریخی اعتماد کی بنیاد پر مضبوط ہوئے ہیں اور حالیہ پیش رفت نے اس قیمتی اثاثے کو ایک بار پھر مزید مستحکم کیا ہے۔\n\n’ایک نازک تاریخی موڑ پر جب خطہ متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، پاکستان کا مذاکرات اور بات چیت کی حمایت میں ذمہ دارانہ اور دوراندیش کردار علاقائی کشیدگی میں کمی اور استحکام کو مضبوط بنانے کی ایک واضح مثال ہے، جو اس کے خطے کے بارے میں برادرانہ اور مستقبل بین سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔‘\n\nانہوں نے امن کے عمل میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کے علاوہ قطر، ترکی، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔\n\nمسعود پزشکیان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے پر پاکستان نے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کیں، جسے وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔\n\n23 جون 2026 کو فیلڈ مارشل عاصم منیر اسلام آباد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (آئی ایس پی آر)\n\n\n\n\n**فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات**\n\nایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں علاقائی صورت حال اور امن اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔\n\nپاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے خطے میں مکالمے، کشیدگی میں کمی اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔\n\nانہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشکل جغرافیائی و سیاسی حالات میں تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی ہم آہنگی کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔\n\nاس موقعے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔\n\nبیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔\n\nانہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔\n\n23 جون 2026 کو صدر آصف علی زرداری اسلام آباد میں اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (ایوان صدر)\n\n\n\n\n**صدر زرداری سے ملاقات**\n\nصدر آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے موقعے پر کہا کہ پاکستان ایران کے امن کے اصولی حمایت کرتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nملاقات کے حوالے سے ایوان صدر نے ایک بیان جاری کیا جس کے مطابق ’دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن و سلامتی، دوطرفہ اور علاقائی روابط، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا۔‘\n\nصدر زرداری نے کہا یہ دورہ ’دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور خوشی و غم میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا مظہر ہے۔‘\n\nانہوں نے زور دیا کہ پاکستان ’ہمیشہ یک طرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا رہا ہے اور علاقائی و عالمی چیلنجز کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔‘\n\nایران\n\nمسعود پزشکیان\n\nشہباز شریف نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر نہیں ہے کیونکہ یہ مسئلہ ان مذاکرات میں کبھی ایجنڈے پر شامل ہی نہیں تھا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, جون 23, 2026 - 22:15\n\nMain image:\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nuQGF8dKd\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nایرانی صدر کا دورہ پاکستان، گیس پائپ لائن پر پیش رفت ممکن؟\n\nامریکہ - ایران مذاکرات میں ’حوصلہ افزا پیش رفت‘\n\nپاکستان، ایران کو پزشکیان کے دورے سے کیا حاصل ہوا؟\n\nامریکی پابندی ختم، ایران 60 دن کے لیے تیل فروخت کر سکے گا\n\nSEO Title:\n\nایران کو دیگر ممالک کی طرح بیلسٹک میزائل رکھنے کا حق ہے: پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ایران کو دیگر ممالک کی طرح بیلسٹک میزائل رکھنے کا حق ہے: پاکستان"
}