{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicfl7xxwkokksvw3cushyojro6hf2o2cj4uxxxenifrfjper7coom",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moy3ikhjpd32"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiao7mmjgrxv4ti6t4hzyjq3c5x6u2xztllukcuiddvjzsfwsoynzu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 214998
},
"path": "/node/186463",
"publishedAt": "2026-06-23T05:51:02.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"اے آئی",
"مصنوعی ذہانت",
"اینتھنی کتھبرٹسن",
"ٹیکنالوجی",
"news"
],
"textContent": "**اعلیٰ درجے کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماڈلز کے بارے میں فائیو آئیز انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ چند ماہ کے اندر کاروباروں اور حکومتوں کو تباہ کن نقصان پہنچانے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔**\n\nآسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ پر مشتمل اس انٹیلی جنس اتحاد نے کہا ہے کہ پرانے اور غیر معاونت یافتہ سافٹ ویئر پر چلنے والے اہم نظام، نئے اے آئی ماڈلز کے باعث شدید خطرے میں ہیں کیونکہ یہ ماڈلز برے عناصر کے لیے سائبر حملے کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیں گے۔\n\nپیر کو جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں فائیو آئیز ایجنسیوں نے کہا کہ رہنماؤں کو اس تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ’فوری طور پر اقدامات‘ کرنے چاہییں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبیان میں کہا گیا: ’فرنٹیئر اے آئی ماڈلز موجودہ صنعتی توقعات سے آگے نکل سکتے ہیں، جو حملہ آور اور دفاعی دونوں قسم کی سائبر صلاحیتوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیں گے۔ اس کی ٹائم لائن سال نہیں بلکہ مہینے ہے۔‘\n\nمزید کہا گیا کہ ’ (اس سلسلے میں) پورے ادارے اور پورے معاشرے کی سطح پر ردعمل درکار ہے۔ سائبر خطرے کو اب صرف تکنیکی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ایک بنیادی کاروباری خطرہ اور قیادت کی ذمہ داری ہے۔‘\n\nانٹیلی جنس ایجنسیوں نے حکومتوں اور تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے سائبر سکیورٹی آپریشنز میں اے آئی ٹولز کو شامل کریں۔\n\nانہوں نے خبردار کیا کہ جو ایسا نہیں کریں گے وہ تباہ کن نتائج کا سامنا کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ ہیکرز اور دیگر بدنیت عناصر کے لیے نئے اور زیادہ آسان طریقوں کے ذریعے حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔\n\nبیان میں کسی مخصوص اے آئی ماڈلز کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم کمپنی انتھروپک کے جدید ترین نظاموں نے حال ہی میں سائبر سکیورٹی ماہرین کی تشویش کو جنم دیا ہے۔\n\nاس ماہ کے آغاز میں، امریکی حکومت کی پابندیوں کے بعد اے آئی کمپنی کو اپنے ’فیبل 5‘ اور ’مائتھوس 5‘ ماڈلز تک تمام صارفین کی رسائی روکنی پڑی۔\n\nسائبر سکیورٹی کمپنی اِلومی نیٹ کے پبلک سیکٹر چیف ٹیکنالوجی آفیسر گیری بیارلیٹ نے دی انڈپینڈنٹ سے گفتگو میں کہا: ’مصنوعی ذہانت سائبر حملوں کی رفتار، وسعت اور پیچیدگی کو غیر معمولی طور پر بڑھا دے گی، جس سے حملہ آوروں کی رکاوٹیں کم ہو جائیں گی اور انہیں وہ صلاحیتیں مل جائیں گی جو پہلے صرف انتہائی ماہر افراد کے پاس تھیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’مجھے تشویش یہ ہے کہ بہت سی تنظیمیں اب بھی سمجھتی ہیں کہ وہ صرف سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹ سکتی ہیں۔ ہم اے آئی سے پہلے بھی رفتار برقرار نہیں رکھ سکے تھے اور اب تو بالکل بھی نہیں رکھ سکیں گے۔‘\n\nبقول گیری بیارلیٹ: ’حملہ آور ہمیشہ برتری میں رہے ہیں کیونکہ وہ دفاع کرنے والوں کی طرح پابندیوں کے تحت کام نہیں کرتے، اور یہ بات اے آئی کے دور میں اور بھی زیادہ سچ ہے۔ اب وقت ہے کہ تنظیمیں خلاف ورزی کو ایک امکان کے طور پر نہیں بلکہ ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر دیکھنا شروع کریں۔‘\n\nاے آئی\n\nمصنوعی ذہانت\n\nآسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ پر مشتمل اس انٹیلی جنس اتحاد کے مطابق اے آئی ماڈلز ’حملہ آور اور دفاعی دونوں قسم کی سائبر صلاحیتوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیں گے۔ اس کی ٹائم لائن سال نہیں بلکہ مہینے ہے۔‘\n\nاینتھنی کتھبرٹسن\n\nمنگل, جون 23, 2026 - 10:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تحقیق اب ایسے مقام پر آ گئی ہے کہ اسے کوئی کنٹرول نہیں کر سکتا (پکسا بے)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n’20 منٹ کا خوفناک تجربہ‘: اے آئی کی مدد سے آواز کی نقل پر مبنی فراڈز میں اضافہ\n\nچین: ملازم کی جگہ اے آئی سسٹم لگانے پر کمپنی کو جرمانہ\n\nہیکرز کو جرائم میں اے آئی استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا: تحقیق\n\nسرکاری اداروں میں محفوظ اے آئی کے نفاذ کی تجویز\n\nSEO Title:\n\nاے آئی ’چند ماہ میں‘ تباہ کن سائبر خطرہ بن سکتی ہے: فائیو آئیز کی وارننگ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "اے آئی ’چند ماہ میں‘ تباہ کن سائبر خطرہ بن سکتی ہے: فائیو آئیز"
}