{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiftsi34mchrbz6yh7h43rarlz4uxwvmjylxoop5elzql3qong3jsi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moy3hbwv5qq2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihtpnsgmskarirnqc556ypk3f54ddx3x6mcgrnpabh4qxlml7gzz4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 193333
  },
  "path": "/node/186471",
  "publishedAt": "2026-06-23T12:00:09.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاک افغان تعلقات",
    "سرحدی کشیدگی",
    "ٹرک ڈرائیور",
    "مشکلات",
    "تجارت",
    "اظہار اللہ",
    "میری کہانی",
    "news"
  ],
  "textContent": "**نو مہینے جہنم میں گزارے ہیں۔ اوپر سے مارٹر گولے برستے تھے جبکہ ہم ٹرک کے نیچے راتیں گزارتے تھے۔ ایک ماہ گزارنے کے بعد پیسے ختم ہو گئے تو گاڑی سے کبھی ٹائر اور کبھی بیٹری بیچ کر اسی سے کھانا خریدتے تھے۔‘**\n\nیہ کہانی ہے پاکستانی ٹرک ڈرائیور نور احمد کی، جو پاکستان سے کارگو ٹرک لے کر افغانستان گئے تھے اور گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ صورت حال اور سرحدوں کی بندش کے باعث افغانستان میں پھنس گئے تھے، تاہم اب واپس آ گئے ہیں۔\n\nنور احمد گذشتہ روز طورخم بارڈر کراس کر کے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں اور اس وقت ان کی گاڑی طورخم ٹرمینل پر کلیئرنس کے لیے کھڑی ہے۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ سال اکتوبر میں وہ کنٹینر میں چائے کی پتی لاد کر جلال آباد کے لیے روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر کنٹینر خالی کیا۔\n\nنور احمد کو اندازہ نہیں تھا کہ جھڑپیں اس قدر شدت اختیار کر جائیں گی کہ بارڈر بند ہو جائے گا اور انہیں پورے نو مہینے سڑک پر ٹرک کے نیچے گزارنا پڑیں گے۔\n\nانہوں نے بتایا: ’ٹرک خالی کرنے کے بعد جب میں واپس طورخم کی جانب روانہ ہوا تو وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی تھیں اور بارڈر بند کر دیا گیا تھا۔ تب سے ہم نے نو مہینے عذاب میں گزارے۔‘\n\nنور احمد کی گاڑی افغانستان کی جانب طورخم میں کھڑی تھی۔ ان کے مطابق قریب نہ کوئی حجرہ تھا اور نہ ہی ہوٹل، جہاں رہائش کا بندوبست کیا جا سکتا، اسی لیے وہ ٹرک کے نیچے سوتے تھے۔\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ تھے، اس لیے رات کے وقت اوپر سے مارٹر گولے برستے تھے اور وہ ٹرک کے نیچے بیٹھے ہوتے تھے۔ ایک واقعے میں ان کی گاڑی کو مارٹر گولا بھی لگا۔\n\nنور احمد نے بتایا: ’مارٹر گولا لگنے سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اگر میں پانچ سال محنت مزدوری بھی کروں تو اس کا نقصان پورا نہیں کر سکتا۔‘\n\n**سامان بیچ کر کھانے پینے کا بندوبست**\n\nنور احمد سے جب پوچھا گیا کہ نو مہینے وہاں رہتے ہوئے کھانے پینے کا کیا بندوبست تھا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس موجود نقدی ایک ماہ بعد ختم ہو گئی، جس کے بعد کھانے پینے کے پیسے بھی نہیں بچتے تھے۔\n\nانہوں نے کہا کہ کھانے کا بندوبست کرنے کے لیے وہ گاڑی کا سامان ایک ایک کر کے افغانستان میں بیچتے رہے اور اسی رقم سے کھانا خریدتے تھے۔ اس دوران انہوں نے گاڑی کے اضافی ٹائر، بیٹری اور دیگر سامان بھی فروخت کر دیا۔\n\n16 جنوری 2024 کو طورخم میں پاکستان افغانستان سرحد کے قریب پھنسے ہوئے ٹرکوں کی تصویر (عبدالمجید/ اے ایف پی)\n\n\n\n\nنور احمد کے مطابق: ’ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حمام میں نہانے کے پیسے بھی ختم ہو گئے تھے، جبکہ دوسری جانب پاکستان میں موجود خاندان کے پاس بھی کھانے پینے کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ زندگی میں کبھی ایسا وقت نہیں آیا جیسا یہ نو مہینے کرب میں گزرے ہیں۔‘\n\n**افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرک**\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ حالات کے باعث تمام تجارتی گزرگاہیں تقریباً نو مہینوں سے بند ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان سے سامان لے کر جانے والے ٹرک وہاں پھنس گئے تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان پھنسے ہوئے ٹرکوں اور ڈرائیوروں کو واپس لانے کے لیے دو ہفتے قبل کمشنر پشاور ریاض محسود کی سربراہی میں ٹرانسپورٹ یونین اور پشاور میں افغان قونصل جنرل کے درمیان ایک اجلاس ہوا تھا۔\n\nاس اجلاس میں پاکستانی گاڑیوں کو واپس لانے پر اتفاق کیا گیا تھا، اور کمشنر پشاور کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق تقریباً 1600 ٹرک افغانستان میں پھنسے ہوئے تھے۔\n\nان ٹرکوں کی واپسی کے لیے 11 جون سے آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم اس میں تاخیر ہوئی، لیکن اب ان کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔\n\nضلع خیبر کی ٹرانسپورٹ یونین کے صدر رحمان زیب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بہت کوششوں کے بعد گذشتہ تین سے چار دنوں سے ٹرکوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے اور روزانہ چند ٹرک واپس آ رہے ہیں۔\n\nکمشنر پشاور کے دفتر کے اعلامیے کے مطابق ٹرکوں کی واپسی کے لیے طریقہ کار یہ طے کیا گیا ہے کہ صبح آٹھ بجے سے دوپہر دو بجے تک ٹرک واپس آئیں گے، جبکہ دوپہر کے بعد پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی ہوگی۔\n\nپاکستان اور افغانستان کے مابین اب بھی تمام تجارتی گزرگاہیں آمد و رفت کے لیے بند ہیں، جس سے دونوں جانب تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔\n\nپاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے مطابق پاکستان کو نو ماہ میں 278 ارب روپے سے زائد جبکہ افغانستان کو 140 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔\n\nدونوں ملکوں کے درمیان کچھ ہفتے قبل چین کی ثالثی میں امن مذاکرات ہوئے تھے، تاہم اس کے بعد سرحدی جھڑپیں تو رک گئی ہیں، لیکن سرحدیں تاحال بند ہیں۔\n\nپاک افغان تعلقات\n\nسرحدی کشیدگی\n\nٹرک ڈرائیور\n\nمشکلات\n\nتجارت\n\nاظہار اللہ\n\nمنگل, جون 23, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p>16 جنوری 2024 کو طورخم میں پاکستان-افغانستان سرحد کے قریب پھنسے ہوئے ٹرکوں کے ڈرائیور آرام کر رہے ہیں (عبدالمجید/ اے ایف پی)</p>\n\nمیری کہانی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافغان سرحد بندش: 8 ماہ میں پاکستان کو 278 ارب روپے کا نقصان\n\nپاکستان سے افغان طالبہ کی ملک بدری کی کہانی\n\nدو صوبوں میں افغان طالبان کے حملے پروپیگنڈا: پاکستان\n\nقازقستان کی افغانستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیش کش\n\nSEO Title:\n\n’ کبھی ٹائر، کبھی بیٹری بیچ کر کھانا کھایا‘: افغانستان سے لوٹنے والے پاکستانی ٹرک ڈرائیور\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "’ کبھی ٹائر، کبھی بیٹری بیچ کر کھانا کھایا‘: افغانستان سے لوٹنے والے پاکستانی ٹرک ڈرائیور"
}