{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifgdy2hmjymihmnus2v6dmsff6wyfrvmkpa5x6lvaxjik5vzfsvfq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moy3h4gjrft2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifcdaaxntxzzs35lfwgcip4tpdfgvs6q4m2mcuf24rp54y3ydwmci"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 41263
},
"path": "/node/186462",
"publishedAt": "2026-06-23T05:44:08.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"خالد عثمان",
"یاد",
"janaz.jpeg",
"کینیڈا",
"بیرون ملک پاکستانی",
"انتقال",
"یادداشت",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"میگزین",
"news"
],
"textContent": "**پاکستانی جہاں بھی ہوں اپنی پہچان ضرور بناتے ہیں۔ کینیڈا میں مقیم خالد عثمان کا گذشتہ دنوں انتقال مارکھم اور پورے کینیڈین مسلم معاشرے میں اسی قسم کا ایک گہرا خلا چھوڑ گیا ہے۔**\n\nایک نمایاں شہری رہنما، مخلص رضاکار، اور نہایت معزز فیلو چارٹرڈ پروفیشنل اکاؤنٹنٹ کے طور پر، عثمان نے دہائیوں تک پل تعمیر کیے، نئے آنے والوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، اور بین الثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔\n\nخالد عثمان کی زندگی یاد دلاتی ہے کہ حقیقی کمیونٹی قیادت ذاتی شہرت کے بارے میں نہیں ہوتی، بلکہ ان مثبت اور ٹھوس اثرات کے بارے میں ہوتی ہے جو ہم دوسروں کی زندگیوں میں چھوڑ کر جاتے ہیں۔\n\nہم ایک ایسی زندگی پر غور کرتے ہیں جو اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ایمان سے جڑی اقدار کو کس طرح عوامی خدمت اور ایک پائیدار، جامع ورثے میں ڈھالا جا سکتا ہے۔\n\nخالد عثمان کے انتقال کے بعد انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرنے والوں میں میئر فرینک سکارپٹی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے عثمان کو کمیونٹی کا ایک ’قدآور‘ فرد اور اپنا دیرینہ دوست قرار دیا۔ سکارپٹی نے سوشل میڈیا پر اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا: ’آج ہماری کمیونٹی ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گئی۔ آج ہم میں سے بہت سے لوگوں نے ایک بہترین دوست کھو دیا۔‘\n\n## janaz.jpeg\n\n**پشاور سے ایک نمایاں سیاسی سفر تک**\n\nپشاور، پاکستان میں پیدا ہونے والے خالد عثمان نے یونیورسٹی آف پشاور سے بیچلرز آف کامرس (آنرز) کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں کینیڈا چلے آئے۔\n\nانہوں نے 1975 میں ٹورنٹو میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے اہلیت حاصل کی اور تین دہائیوں سے زائد عرصے تک کارپوریٹ گورننس اور اعلیٰ انتظامی قیادت میں اپنی مالی مہارتوں سے خدمات انجام دیں۔\n\nان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور اعلیٰ اخلاقی معیارات کے اعتراف میں 2009 میں انہیں انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی جانب سے فیلوشپ (FCPA, FCA) سے نوازا گیا، جو اس شعبے کا اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔\n\nمالیاتی قیادت میں یہ مضبوط بنیاد انہیں عوامی خدمات کے میدان میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لیے قدرتی طور پر تیار کر چکی تھی۔\n\n1998 میں انہوں نے تاریخ رقم کی جب وہ مارکھم ٹاؤن کونسل کے لیے منتخب ہونے والے پہلے کینیڈین پاکستانی بنے اور 2006 تک وارڈ 7 کے کونسلر کے طور پر مسلسل تین مدت تک خدمات انجام دیں۔\n\n2018 میں انہیں دوبارہ کونسل میں تعینات کیا گیا، جو مقامی حکمرانی اور مالی ذمہ داری کے لیے ان کے مستقل عزم کا ثبوت ہے۔ اپنے ادوار کے دوران انہوں نے مالیات، انتظامیہ، ٹرانسپورٹ اور معاشی ترقی سے متعلق اہم کمیٹیوں کی سربراہی کی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاگرچہ ان کا سیاسی کیریئر تاریخی نوعیت کا حامل تھا، لیکن خالد عثمان کی سب سے دیرپا پہچان ان کی انتھک نچلی سطح پر رضاکارانہ خدمات ہیں۔\n\nشہری ذمہ داری کے گہرے احساس کے ساتھ انہوں نے 25 سال سے زائد عرصے تک اہم اداروں کے لیے فنڈز جمع کیے اور محروم طبقات کی مدد کی۔\n\nان کا اشتراکی انداز اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی صلاحیت بین المذاہب مکالمے کے لیے ایک مثال قائم کرتی ہے۔\n\nکینیڈین فیڈریشن آف انٹرکلچرل فرینڈشپ (CFIF) کے بانی ڈائریکٹر کے طور پر انہوں نے مختلف ثقافتی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے افراد کو اکٹھا کیا تاکہ باہمی احترام، امن اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔\n\nوہ ’مینی فیسز آف مارکھم‘ منصوبے کے بھی محرک تھے، جس کا مقصد شہر کی ثقافتی تنوع کو اجاگر کرنا اور مساوات و شمولیت کو فروغ دینا تھا۔\n\n**صحت کے شعبے میں خدمات**\n\nصحت اور فلاح کے شعبے میں بھی ان کی خدمات قابلِ قدر رہیں۔\n\nانہوں نے مارکھم سٹوفول ہسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں ہسپتال فاؤنڈیشن کے چیئرمین کے طور پر اہم فنڈ ریزنگ مہمات کی قیادت کی، جس کے ذریعے مقامی صحت کے ڈھانچے کو وسعت دی گئی۔\n\nمرحوم کی ہمدردی کی کوئی سرحد نہیں تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کا اثر کینیڈا سے باہر بھی پھیلا ہوا ہے۔\n\nانہوں نے بین الاقوامی امدادی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا اور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریلیف فاؤنڈیشن (IDRF) جیسی تنظیموں کے ساتھ مل کر عالمی انسانی بحرانوں کے دوران بڑے پیمانے پر فنڈ ریزنگ کی۔\n\nچاہے 2004 کا بحر ہند سونامی ہو، 2005 کا کشمیر زلزلہ، 2006 کا فلپائن مٹی کا تودہ، یا پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب—خالد عثمان ہر موقع پر کمیونٹی کو متحرک کرنے اور سخاوت کا جذبہ بیدار کرنے میں پیش پیش رہے۔\n\nان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں انہیں کینیڈا اور پاکستان دونوں میں اعلیٰ ترین سول اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کے نمایاں اعزازات میں شامل ہیں:\n\n۔ گورنر جنرل کا ’کیئرنگ کینیڈین ایوارڈ‘ (بعد ازاں سوورین میڈل فار وولیئنٹیرز)\n\n۔ اونٹاریو میڈل فار گڈ سٹیزن شپ\n\n۔ ملکہ الزبتھ دوم ڈائمنڈ جوبلی میڈل\n\n۔ میئرز سینئرز ہال آف فیم ایوارڈ (مارکھم، 2016)\n\n۔ انتھونی رومن ایوارڈ (مارکھم بورڈ آف ٹریڈ، 2025)\n\n۔ تمغۂ خدمت (حکومتِ پاکستان کی جانب سے غیر معمولی عوامی خدمات پر)\n\nکینیڈا\n\nبیرون ملک پاکستانی\n\nانتقال\n\nیادداشت\n\nمرحوم کی ہمدردی کی کوئی سرحد نہیں تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کا اثر کینیڈا سے باہر بھی پھیلا ہوا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, جون 23, 2026 - 10:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">مارکھم، کینیڈا کے طویل عرصے تک کونسلر رہنے والے خالد عثمان جو 2 جون 2026 کو انتقال کر گئے (فیس بک)</p>\n\nمیگزین\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبیرون ملک سے منفی مہم، پاکستان کے امن کردار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے: عطا تارڑ\n\n’میرا گولڈن ویزا بیرون ملک پاکستانیوں کی بہتری کے لیے‘\n\nبیرون ملک پاکستانیوں کو ملک بنانے کی دعوت\n\nامریکہ ہمارا پردیسی چیتا کب واپس کرے گا؟\n\nSEO Title:\n\nخالد عثمان: کینیڈا میں کمیونٹی خدمت کا روشن باب تمام ہوا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "خالد عثمان: کینیڈا میں کمیونٹی خدمت کا روشن باب تمام ہوا"
}