{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreig743fpazex3g3crhvtenlrhzzf7sdzsnfvcb2x6jwqrckakryamu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mouwqqyegrq2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreia6sg6rpmdthv55h4s7tnf3efprfbku37evblyn75k22yb4pnmkdy"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 99418
  },
  "path": "/node/186449",
  "publishedAt": "2026-06-22T11:58:47.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ماہ رنگ بلوچ",
    "بلوچستان",
    "احتجاج",
    "عمر قید",
    "سزا",
    "گوادر",
    "محمد عیسیٰ",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پیر کو بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) کی رہنما ماہ رنگ بلوچ اور ان کے دیگر تین ساتھیوں کو 25،25 (عمر قید) سال قید کی سزا سنا دی۔**\n\nماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ شاہ، بالاچ قادر اور ابوبکر کلانچی پر الزام تھا کہ فروری 2024 میں عوامی اجتماع اور احتجاج کے دوران فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) اہلکار شبیر بلوچ کو ہجوم نے مبینہ پتھراؤ کا نشانہ بنایا جس سے ان کی جان چلی گئی۔\n\nاستغاثہ کے مطابق یہ واقعہ گوادر میں منعقدہ اجتماع کے دوران پیش آیا۔ حکومت نے قتل کا مقدمہ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے دیگر چار ساتھیوں کے خلاف درج کیا تھا۔\n\nکوئٹہ جیل کے اندر مقدمے کی سماعتوں کے بعد پیر کو عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے چاروں ملزمان کو 25، 25 سال قید یا عمر قید کی سزا کا حکم دیا۔\n\nڈاکٹر ماہ رنگ نے بولان میڈیکل کالج کوئٹہ سے ایم بی بی ایس کیا ہے۔ ان کے والد عبدالغفار لانگو 2011 میں مبینہ طور جبری گمشدگی کے بعد مارے گئے تھے۔\n\nماہ رنگ نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور بلوچ عوام کے حقوق کے لیے تحریک شروع کی۔ وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بی وائے سی کی مرکزی آرگنائزر ہیں۔\n\nانہوں نے 11 دسمبر، 2009 کو والد کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی سرگرمیاں شروع کیا۔\n\n2016 میں بھائی کی گمشدگی پر بھی احتجاج کیا جو تین ماہ بعد بازیاب ہو گئے۔\n\n2023-2024 میں انہوں نے ’بلوچ لانگ مارچ‘ کی قیادت کی وجہ سے زیادہ شہرت پائی۔\n\nچھ جنوری، 2026 کوئٹہ سی ٹی ڈی تھانے میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی جن میں الزام عائد کیا گیا کہ 23 اکتوبر، 2024 کو ان کا نام اے ٹی اے کے ’فورتھ شیڈول‘ میں ڈالنے کے بعد وہ پیشیوں پر حاضر نہیں ہوئیں اور انہوں نے احتجاج/دھرنوں میں شرکت جاری رکھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nساتھ ہی ماہ رنگ پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کی سہولت کاری کر رہی تھیں۔\n\nدفعات ATA 11-EE اور 11F(1)(2) کے تحت درج اس کیس میں ضمانت مسترد ہونے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔\n\n21 اگست، 2025 کو اسی کیس میں انہیں باقاعدہ گرفتار کیا گیا۔\n\n11 اکتوبر، 2024 کو کراچی کے تھانہ قائدآباد میں ایک شہری نے ایف آئی آر درج کرائی اور الزام عائد کیا کہ سوشل میڈیا پر ماہ رنگ ریاستی اداروں پر الزامات لگا کر نفرت پھیلا رہی ہیں اور احتجاج میں دہشت گردوں کو کور دیتی ہیں۔\n\nکراچی کی انسداد دہشت گری عدالت نے دسمبر 2025 میں شواہد نہ ہونے پر انہیں بری کر دیا تھا۔\n\n22 مارچ، 2025 کوئٹہ میں ایک اور دھرنے کے بعد انہیں ایم پی او قانون کے تحت 30 دن کے لیے گرفتار کیا گیا۔\n\nبعد میں یہ نظربندی دو بار 30، 30 دنوں تک بڑھائی گئی۔ ان پر ’دہشت گردی، بغاوت اور قتل‘ کے الزامات بھی لگائے گئے۔\n\nماہ رنگ اور بی وائے سی کے دیگر رہنما کوئٹہ کی ہڈہ جیل میں قید ہیں اور ’فیس لیس ٹرائل‘ کے خلاف جیل میں دھرنا دے رہے ہیں۔\n\nان کے وکیل کے مطابق 30 سے زیادہ کیسز ابھی التوا کا شکار ہیں۔\n\nماہ رنگ بلوچ\n\nبلوچستان\n\nاحتجاج\n\nعمر قید\n\nسزا\n\nگوادر\n\nگوادر میں سکیورٹی اہلکار کے قتل کے مقدمے کے علاوہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھیوں کو دیگر کیسز کا بھی سامنا ہے۔\n\nمحمد عیسیٰ\n\nسوموار, جون 22, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p>ماہ رنگ بلوچ آٹھ اکتوبر، 2024 کو کراچی میں کراچی پریس کلب میں خطاب کر رہی ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری پر حکومت کو نوٹس، صوبے میں ہڑتال\n\nبااثر خواتین: حدیقہ ٹھیک، ماہ رنگ پر اعتراض کیوں؟\n\nبلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہ رنگ بلوچ زیر حراست: پولیس حکام\n\nکراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی احتجاج منتشر، اختر مینگل کا مارچ کا اعلان\n\nSEO Title:\n\nکوئٹہ: بی وائے سی رہنما ماہ رنگ بلوچ اور تین ساتھیوں کو عمر قید کی سزا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "کوئٹہ: بی وائے سی رہنما ماہ رنگ بلوچ اور تین ساتھیوں کو عمر قید کی سزا"
}