{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigkg27n7fot4csnmkjd245vtzfzmad3ifoivpynjhx5w73fov33pa",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mouq22ejjzx2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihgh2errfudwkjylictepjqsmdjwd5navwxuax6ljg7rynfpe2xza"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 61813
  },
  "path": "/node/186448",
  "publishedAt": "2026-06-22T10:43:48.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "فرانس",
    "خیبر پختونخوا",
    "خیبر",
    "اظہار اللہ",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی پولیس نے ایک فرانسیسی خاتون کو بازیاب کرایا ہے جو مبینہ طور پر شوہر کی بدسلوکی کا شکار اور گھر میں محصور تھیں۔**\n\nکیپیٹل سٹی پولیس افیسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ 18 جون کو پولیس کو اطلاع ملی کہ تحصیل باڑہ کے ایک گھر میں غیر ملکی خاتون کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر مذکورہ گھر پر چھاپہ مار کر 54 سالہ فرانسیسی خاتون کو بازیاب کرانے کے بعد خواتین پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا۔\n\nڈاکٹر میاں سعید کے مطابق خاتون نے 2014 میں ایک پاکستانی شہری سے شادی کی تھی اور ان کے چار بچے ہیں۔\n\nان کا کہنا تھا کہ خاتون کو مبینہ طور پر شوہر کی بدسلوکی کا سامنا تھا اور انہیں گھر سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ خاتون واپس فرانس جانا چاہتی ہیں، جس کے لیے فرانسیسی سفارت خانے سے رابطہ کیا گیا ہے جبکہ شوہر کے خلاف مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔\n\nخاتون نے، جن کے چاروں بچے بھی فرانسیسی شہری ہیں، 18 جون کو باڑہ پولیس سٹیشن میں درج مقدمے میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ 2014 سے اپنے بچوں سمیت انتہائی سخت حالات میں زندگی گزار رہی ہیں۔\n\nمقدمے کے مطابق خاتون نے کہا کہ ان کے شوہر نہ تو ان کا اور بچوں کا مناسب خیال رکھتے تھے اور نہ ہی انہیں آزادانہ زندگی گزارنے کی اجازت تھی۔\n\nخاتون نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر انہیں تشدد کا نشانہ بناتے تھے اور ان کے چہرے اور جسم پر تشدد کے نشان موجود ہیں۔\n\nانہوں نے مزید کہا انہیں روزانہ کی بنیاد پر تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔\n\nفرانس\n\nخیبر پختونخوا\n\nخیبر\n\nپولیس کے مطابق خاتون نے 2014 میں ایک پاکستانی شہری سے شادی کی تھی اور ان کے چار بچے ہیں۔\n\nاظہار اللہ\n\nسوموار, جون 22, 2026 - 15:45\n\nMain image:\n\n> <p>باڑہ سے بازیاب کروائی گئی فرانسیسی خاتون (باڑہ پولیس)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nخاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم ’پولیس مقابلے‘ میں مارا گیا\n\nلڑکی پر تشدد کی ویڈیو، کسی نے مقدمہ درج نہیں کرایا: بنوں پولیس\n\nگھریلو تشدد کا نیا قانون محض خانہ پری؟\n\nخواتین گھریلو تشدد کیوں برداشت کرتی ہیں؟\n\nSEO Title:\n\nخیبر میں فرانسیسی خاتون بازیاب، شوہر پر تشدد اور محصور رکھنے کا مقدمہ درج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "خیبر میں فرانسیسی خاتون بازیاب، شوہر پر تشدد اور محصور رکھنے کا مقدمہ"
}