{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidhi6k5i63g6qvblsriccojttdp3u2nx2um5pxewaihdggivepema",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moujdkv6ljc2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifw2lsjojt7446ywwdm5kffiz2rlh23kshd7xuhfvneq5ghgvic5a"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 149759
},
"path": "/node/186440",
"publishedAt": "2026-06-22T06:30:00.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"یوگا",
"صحت",
"ورزش",
"بہتر صحت",
"صالحہ فیروز خان",
"video"
],
"textContent": "**اگرچہ یوگا کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے، لیکن حالیہ برسوں میں دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اس کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ سوشل میڈیا، صحت کے حوالے سے بڑھتی آگاہی اور متبادل طرزِ علاج کی جانب لوگوں کی دلچسپی نے یوگا کو نئی شناخت دی ہے۔**\n\nپاکستان میں یوگا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ایک سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا یہ سرگرمی اب ایک مخصوص طبقے تک محدود ہو کر سٹیٹس سمبل بنتی جا رہی ہے یا وہ واقعی ہر طبقے کے افراد کے لیے یکساں طور پر قابل رسائی ہے؟\n\nاسی سوال کا جواب جاننے کے لیے ہم نے ایک یوگا سینٹر کا دورہ کیا اور وہاں موجود یوگا انسٹرکٹر عمافہ سے گفتگو کی۔\n\n**کیا یوگا صرف مخصوص طبقے کے لیے ہے؟**\n\nیوگا کرنے والی عمافہ اس تاثر کو مسترد کرتی ہیں کہ یوگا کسی مخصوص طبقے کی سرگرمی یا سٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔ان کے مطابق، ’یوگا سب کے لیے ہے۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ رہا ہے۔\n\n’ماضی میں ہمارے بزرگ زمین پر بیٹھتے تھے۔ آلتی پالتی مار کر کھانا کھاتے تھے اور روزمرہ کے کئی معمولات ایسے تھے جو دراصل یوگا کے مختلف پوزز سے مشابہت رکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اُس وقت ان حرکات کو یوگا کا نام نہیں دیا جاتا تھا۔‘\n\nعمافہ کے مطابق یوگا کو صرف جدید طرزِ زندگی یا فٹنس ٹرینڈ کے طور پر دیکھنا درست نہیں، بلکہ یہ ایک ایسیمشق ہے جس کی جڑیں ہماری ثقافتی اور روزمرہ روایات میں بھی ملتی ہیں۔\n\n21 جون، 2025 کو لاہور میں یوگا کے عالمی دن کے موقعے پر شہری یوگا کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**پاکستان میں یوگا کا بڑھتا ہوا رجحان**\n\nاگرچہ یوگا طویل عرصے سے موجود ہے، لیکن گذشتہ چند برسوں میں پاکستان میں اس کی مقبولیت میں واضحاضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس تبدیلی کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے عمافہ نے مزید بتایا کہ ’وقت کے ساتھساتھ پاکستان میں یوگا کا رجحان گزشتہ چند برسوں میں خاصا بڑھا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس حوالے سے اہم کردارادا کیا ہے۔\n\n’مختلف پلیٹ فارمز پر لوگوں نے یوگا کے فوائد دیکھے، سیکھے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا شروعکیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں آج یوگا کہیں زیادہ مقبول اور قابلِ رسائی ہو چکا ہے، جس کی ایک بڑیوجہ نئے سٹوڈیوز، تربیت یافتہ اساتذہ اور بڑھتی ہوئی آگاہی ہے۔‘\n\nتاہم مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ایک اور تاثر بھی جنم لیا ہے کہ یوگا شاید ایک مہنگا مشغلہ بنتا جا رہا ہے۔\n\n**کیا یوگا مہنگا مشغلہ ہے؟**\n\nزیادہ تر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ یوگا سینٹر عموماً بہت فیس وصول کرتے ہیں جس پر عمافہ کا کہنا تھا کہ’اگر کوئی شخص مہنگے سٹوڈیوز کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا تو پارکس، کمیونٹی گروپس، آن لائن کلاسز اوریوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی یوگا سیکھ اور اپنایا جا سکتا ہے۔‘\n\nان کے نزدیک یوگا کی اصل روح رسائی اور شمولیت میں ہے، نہ کہ مہنگی ممبرشپس یا مخصوص طرزِ زندگی میں۔\n\n**یوگا سے ذاتی وابستگی کا سفر**\n\nیوگا کے بارے میں یہ سوچ عمافہ کے اپنے تجربے سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ عمافہ اپنی یوگا جرنی کو شیئر کرتے ہوئےکہتی ہیں کہ ’میں نے تقریباً پندرہ سال پہلے کالج کے زمانے میں یوگا شروع کیا تھا۔\n\n’اس وقت میں تعلیمی دباؤ اورمستقبل کی فکروں کا شکار تھی۔ یوگا نے مجھے ذہنی سکون، توازن اور خود کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع دیا۔بعد ازاں میں نے باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور 2015 میں یوگا انسٹرکٹر بن گئی۔ تب سے میں ہزاروں افراد کو یوگاسکھا چکی ہوں اور اس کے فوائد کے بارے میں آگاہی فراہم کر رہی ہوں۔‘\n\nان کے مطابق یوگا کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کے وہ فوائد ہیں جو لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں محسوسکرتے ہیں۔\n\n**یوگا کے آسن اور صحت پر اثرات**\n\nعمافہ نے یوگا کے آسن اور فوائد بھی بتائے کہ ’مثال کے طور پر جسم کو موڑنے والی مشقیں ریڑھ کی ہڈی کی حرکتکو بہتر بنانے اور نظامِ ہاضمہ کو فعال رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔\n\n’مزید یہ کہ یوگا کا سب سے بڑا فائدہیہ ہے کہ یہ جسم کی لچک اور طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔ مختلف آسن پٹھوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ جوڑوں کیحرکت کو بہتر کرتے ہیں اور جسمانی توازن پیدا کرتے ہیں۔ باقاعدگی سے یوگا کرنے والے افراد عموماً کمر درد، گردن کے درد اور جسمانی اکڑاؤ جیسے مسائل میں کمی محسوس کرتے ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**صحت عامہ اور یوگا**\n\nیوگا کرنے والی عمافہ کے مطابق یوگا محض جسمانی ورزش نہیں بلکہ خود شناسی، ذہنی سکون اور جذباتی توازن کا ایکمکمل نظام ہے۔ یوگا انسان کو اپنے جسم، ذہن اور دل کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد دیتا ہے، اور یہی شعورروزمرہ زندگی میں زیادہ اطمینان اور توازن پیدا کرتا ہے۔\n\nوہ بتاتی ہیں کہ بعض اوقات صحت کے ماہرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جدید طرزِ زندگی میں بڑھتےہوئے ذہنی دباؤ، بے چینی اور جسمانی مسائل کے پیشِ نظر یوگا لوگوں کو متوازن زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔\n\nیہی وجہ ہے کہ پاکستان میں یوگا سینٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھبزرگ افراد بھی اس سرگرمی کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔\n\n**پاکستان میں یوگا کا مستقبل**\n\nعمافہ کے نزدیک یوگا ایک سفر ہے، منزل نہیں۔ یہ ایک ایسی مشق ہے جو انسان کو اپنے اندر جھانکنے، اپنی رفتار کو متوازن کرنے اور زندگی کو زیادہ شعوری انداز میں جینے کا ہنر سکھاتی ہے۔\n\nیوگا\n\nصحت\n\nورزش\n\nبہتر صحت\n\nحالیہ برسوں میں دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یوگا کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا ہے۔\n\nصالحہ فیروز خان\n\nسوموار, جون 22, 2026 - 11:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">21 جون، 2025 کو لاہور میں لوگ یوگا کا عالمی دن منانے کے لیے ایک یوگا سیشن میں حصہ لے رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nصحت\n\njw id:\n\nNrHucIcB\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nیوگا مرگی کے دوروں میں کمی کی وجہ بن سکتا ہے: سائنس دان\n\nسعودی سکولوں میں یوگا کو بطور کھیل متعارف کروایا جائے گا\n\nلاڑکانہ میں ’عجیب آوازوں‘ والا یوگا\n\nپاکستان میں ایریئل یوگا متعارف کروانے والی کہکشاں\n\nSEO Title:\n\nکیا پاکستان میں یوگا سٹیٹس سمبل بن رہا ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "کیا پاکستان میں یوگا سٹیٹس سمبل بن رہا ہے؟"
}