{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiadlsfkntrpsvespuyq3bqtkksmafquxtcaionxjcuhjtgli2rzlq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moujdgl7tlz2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifsxgfu5imqqnfdmss5n2ihvsbtrjioh7ai6hmionew5cbvbtlw5a"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 29399
},
"path": "/node/186441",
"publishedAt": "2026-06-22T07:00:31.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"روس",
"یوکرین",
"روس یوکرین جنگ",
"ڈرون",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**روس کے دارالحکومت ماسکو میں حکام کے مطابق پیر کی صبح ابتدائی گھنٹوں میں درجنوں ڈرون مار گرائے گئے، جس کے بعد شہر کے بڑے ہوائی اڈوں پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔**\n\nیہ صورت حال اس وقت پیش آئی جب یوکرین کی جانب سے روس کے ایک آئل ریفائنری پر دوبارہ حملے کی اطلاعات سامنے آئیں۔\n\nماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن کے مطابق تقریباً 60 ڈرون شہر کی طرف آ رہے تھے جنہیں فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ڈرون گرے وہاں ایمرجنسی سروسز روانہ کر دی گئیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔\n\nحکام کے مطابق ماسکو کے تین بڑے ایئرپورٹس، شیرمیٹیوو، ڈومودیدوو اور ونوکووو، کے ساتھ ساتھ ژوکووسکی ایئرپورٹ پر بھی پروازیں کچھ وقت کے لیے روک دی گئیں، بعد میں معمول کے مطابق بحال کر دی گئیں۔\n\nرپورٹس کے مطابق روسی فضائی دفاعی نظام نے مجموعی طور پر رات بھر میں 300 سے زائد ڈرون مار گرائے، جن میں کچھ یوکرین کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں بھی شامل تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدوسری جانب یوکرین حکام کا کہنا ہے کہ روسی ڈرون حملوں میں شہری بحری جہاز بھی نشانہ بنے، جن میں ایک مصری عملے کا رکن کی موت ہوئی۔ یوکرین کے شہر سومی میں ایک ڈرون حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد سمیت کم از کم پانچ افراد مارے گئے۔\n\nیوکرین کے جنوب مشرقی شہر زاپوریزھیا میں بھی ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک اور تین افراد زخمی ہوئے۔\n\nادھر روس نے بھی یوکرین کے جنوبی علاقے اوڈیسا میں میزائل حملہ کیا، جس میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد زرعی تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔\n\nکرائمیا میں بھی صورت حال کشیدہ رہی جہاں حکام نے عوامی تقریبات محدود کر دیں اور توانائی کی بچت کے اقدامات شروع کر دیے۔\n\nدونوں ممالک کے درمیان ڈرون اور میزائل حملوں کا یہ سلسلہ جنگ کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ اور اس کے شہری و معاشی اثرات کو مزید نمایاں کر رہا ہے، خاص طور پر توانائی، ٹرانسپورٹ اور بحری تجارت کے شعبوں میں۔\n\nروس\n\nیوکرین\n\nروس یوکرین جنگ\n\nڈرون\n\nماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن کے مطابق تقریباً 60 ڈرون شہر کی طرف آ رہے تھے جنہیں فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, جون 22, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">16 مئی 2026 کو یوکرین کے کسی نامعلوم مقام سے لانچ کیا گیا طویل فاصلے کا ڈرون (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nروس امریکہ سمیت شراکت داروں سے تعاون پر تیار ہے: پوتن\n\nیوکرین کے اے آئی ’ٹرمینیٹر‘ ڈرونز\n\nامریکہ، یوکرین سے مذاکرات تعمیری مگر بڑے مسائل برقرار: روس\n\nامریکی امن منصوبہ: روس اور یوکرین میں پہلے براہ راست مذاکرات\n\nSEO Title:\n\nیوکرین سے آنے والے 60 ڈرون مارے گرائے: روس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "یوکرین سے آنے والے 60 ڈرون مارے گرائے: روس"
}