{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreignxvhqbcjy7cemretngc6j22tgzdlsi5v5kgfamm5gqei7gybcmy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moujddfahcc2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifhioseyhiqezq37765y26zynpvxxkzf5kpux6cjfn7oqpxlhioqa"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 129468
},
"path": "/node/186444",
"publishedAt": "2026-06-22T07:40:23.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"pic.twitter.com/FJ2y6K69uv",
"June 16, 2026",
"View this post on Instagram",
"A post shared by Levi's (@levis)",
"pic.twitter.com/YD0Imk2eOP",
"June 13, 2026",
"فیفا ورلڈ کپ 2026",
"سٹیڈیم",
"نام کی تبدیلی",
"لارنس اوسلر",
"فٹ بال",
"news",
"@kylesheldon",
"@KevinNguyen_89"
],
"textContent": "**ہر سٹیڈیم کے گرد اس ورلڈ کپ میں ایک مخصوص حفاظتی حد قائم کی گئی ہے، اور جیسے ہی آپ اس سے گزرتے ہیں، قواعد و ضوابط لاگو ہو جاتے ہیں۔ فیفا کی دنیا میں خوش آمدید۔**\n\nبڑے بینرز ممنوع ہیں۔ کسی بھی قسم کی سیاسی تصاویر یا علامات کی اجازت نہیں۔ توہین آمیز نشانات، تجارتی مواد، ہوا بھرے کھلونے، 12 سینٹی میٹر سے لمبے موسیقی کے آلات، دوربینیں، کاغذ کی بڑی مقدار (جس کی وضاحت مبہم رکھی گئی ہے)، فریسبی اور یقیناً دھماکہ خیز آلات لے جانے کی اجازت نہیں۔\n\nسٹیڈیم کے اندر منتظمین نے فیفا کی ’کلین سائٹ پالیسی‘ پر عمل درآمد کے لیے غیر سرکاری برانڈنگ کے ہر نشان کو مٹانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ یہ ایک ایسی حد تک صاف ستھرا اور جراثیم سے پاک ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہے جو فیفا کی مجموعی سوچ اور طرزِ عمل کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔\n\nورلڈ کپ کے میزبان سٹیڈیمز کے ساتھ فیفا کے معاہدوں میں واضح طور پر درج ہے کہ فیفا کی تحریری منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کی اشتہاری، تشہیری، تجارتی، مارکیٹنگ، لائسنسنگ یا برانڈ شناخت سٹیڈیم کے اندر، اطراف میں یا اوپر فضائی حدود میں کہیں بھی موجود نہیں ہونی چاہیے، خواہ وہ نشستوں، سکور بورڈز، باڑوں، عملے کی وردیوں، ایکریڈیشن پاسز یا کسی اور مقام پر ہو۔\n\n> The capacity at “Boston Stadium” for the World Cup is 64,146.\n>\n> That means someone had to put 64,146 very small pieces of blue tape over every single Gillette logo on every. single. seat.\n>\n> FIFA doesn’t mess around. pic.twitter.com/FJ2y6K69uv\n>\n> — Kyle Sheldon (@kylesheldon) June 16, 2026\n\nنیوجرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم سے لے کر لاس اینجلس کے سوفائی سٹیڈیم تک، تمام ورلڈ کپ مقامات کو برانڈنگ سے پاک کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے نام بھی تبدیل کر دیے گئے ہیں اور اب انہیں جغرافیائی بنیادوں پر شناخت کیا جا رہا ہے۔\n\nلنکن فنانشل فیلڈ کا نام بدل کر ’فلاڈیلفیا سٹیڈیم‘ رکھ دیا گیا ہے، اور یہ تبدیلی گوگل میپس پر بھی نظر آتی ہے۔ ’لنکن فنانشل فیلڈ‘ کے ہر نشان کو بڑی احتیاط سے ٹیپ یا پردوں کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا ہے۔\n\nاے ٹی اینڈ ٹی سٹیڈیم کو ’ڈلاس سٹیڈیم‘ کا نام دیا گیا ہے، حالانکہ وہ آرلنگٹن میں واقع ہے۔ اسی طرح سانتا کلارا کے لیوائز سٹیڈیم کو ایک غیر واضح اور طویل نام ’سان فرانسسکو بے ایریا سٹیڈیم‘ دیا گیا ہے۔\n\nسب سے زیادہ حیران کن مثال میکسیکو کے مشہور ازتیکا سٹیڈیم کی ہے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ کے عظیم ترین میدانوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پیلے کی برازیل اور ڈیاگو میراڈونا کی ارجنٹائن نے عالمی کپ جیتا تھا۔ لیکن فیفا کے قواعد کے مطابق اس کا نام بھی بدل کر صرف ’میکسیکو سٹی سٹیڈیم‘ رکھ دیا گیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبوسٹن میں 65,878 نشستوں والے سٹیڈیم کی ہر نشست پر موجود ’جلیٹ‘ کا چھوٹا سا لوگو بھی ٹیپ سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ سان فرانسسکو میں تو مصالحہ جات اور چٹنیوں کے برانڈ نام تک چھپا دیے گئے ہیں، گویا وہ کوئی خفیہ سرکاری راز ہوں۔\n\nبرانڈز کے خلاف یہ مہم کھلاڑیوں تک بھی پھیل چکی ہے۔ جرمنی کے جمال موسیالا کو ہیوسٹن میں اپنے پہلے میچ سے قبل ہیڈفون پہنے دیکھا گیا، لیکن ان ہیڈفونز بنانے والی کمپنی کا نام ڈھانپ دیا گیا تھا۔\n\nیہ سب فیفا کے ’وینیو ڈریسنگ پروگرام‘ کا حصہ ہے، جس کے لیے اس نے دی لک کمپنی اور واسرمین لائیو جیسی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ سٹیڈیمز کی پیشکش کو فیفا کے معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔\n\nیہ ایک بہت بڑی تجارتی صنعت ہے۔ میٹ لائف جیسے برانڈز سٹیڈیم کے نام کے حقوق کے لیے سالانہ تقریباً 15 ملین پاؤنڈ تک ادا کرتے ہیں۔ لیکن اپنے سپانسرز کی اجارہ داری کے تحفظ کے بدلے فیفا 2026 کے ورلڈ کپ سے اندازاً 1.8 ارب ڈالر کی مارکیٹنگ آمدنی حاصل کرے گا۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Levi's (@levis)\n\nکچھ متاثرہ برانڈز نے اس صورت حال کو مارکیٹنگ کے موقع میں بدل دیا ہے۔ لیوائز نے سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی جس میں اس نے اپنے ہی لوگو کو چھپا دیا اور مذاقاً یہ دکھایا کہ سٹیڈیم کی بیرونی دیوار پر نصب بڑا لیوائز سائن سفید چادر کے نیچے بھی اپنی منفرد شکل کے باعث آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔\n\nاٹلانٹا میں مرسڈیز بینز کے نام سے منسوب سٹیڈیم کی چھت پر موجود دیوہیکل مرسڈیز لوگو کو ہٹایا نہیں جا سکا، کیونکہ اسے محفوظ انداز میں اتارنا یا ڈھانپنا انتہائی مشکل تھا۔ اس کے آٹھ حصوں میں سے ہر ایک کا وزن تقریباً 500 ٹن ہے۔\n\nدوسری جانب سیئٹل کے لومن سٹیڈیم کے اوپر نصب 300 فٹ لمبے ’لومن‘ حروف کو مکمل طور پر ڈھانپ دیا گیا۔ تاہم کمپنی نے سوشل میڈیا پر مزاحیہ انداز میں ایسی تصاویر شیئر کیں جن میں ملازمین سٹیڈیم کے گرد دوڑتے ہوئے نام چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔\n\nاس تمام برانڈنگ کے خاتمے کا اصل مقصد فیفا کے خصوصی سپانسرز کے لیے جگہ بنانا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ فیفا کو ایک سرکاری ڈیری سپانسر یا ایک سرکاری آٹو موٹیو سروسز پارٹنر کی ضرورت کیوں ہے، لیکن چونکہ یہ کمپنیاں بھاری رقم ادا کرتی ہیں، اس لیے وہ نہیں چاہتیں کہ کوئی حریف برانڈ ورلڈ کپ کی تجارتی کشش سے فائدہ اٹھائے۔\n\n> How far is FIFA going with its brand restrictions? The condiments at the Levi’s Stadium press box have all been taped over pic.twitter.com/YD0Imk2eOP\n>\n> — Kevin V. Nguyen (@KevinNguyen_89) June 13, 2026\n\nکوکا کولا کمپنی کی ملکیت میں موجود پاوریڈ ورلڈ کپ کا سرکاری سپورٹس ڈرنک ہے۔ کمپنی نے سٹیڈیمز میں پانی پینے کے وقفوں اور امریکی نشریاتی ادارے فوکس سپورٹس پر نشر ہونے والے انہی وقفوں کی سپانسرشپ حاصل کر رکھی ہے۔ اگرچہ یہ وقفے شائقین کی جانب سے اکثر ہوٹنگ کا نشانہ بنتے ہیں، لیکن اس تنازع نے پاوریڈ کی تشہیر میں مزید اضافہ کیا ہے۔\n\nشاید فیفا کے شراکت داروں میں سب سے ذہین حکمتِ عملی آسٹریلوی ڈیوڈرنٹ برانڈ ریکسونا نے اختیار کی ہے، جسے برطانیہ میں ’شور‘ اور امریکہ و کینیڈا میں ’ڈگری‘ کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے۔\n\nجب چوتھے آفیشل متبادل کھلاڑیوں یا اضافی وقت کا اعلان کرنے کے لیے الیکٹرانک بورڈ اٹھاتے ہیں تو اس پر ریکسونا کا نام نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی وردی کے بازوؤں کے نیچے بھی ریکسونا کا لوگو موجود ہوتا ہے۔ یوں جب بھی کوئی آفیشل بورڈ سر کے اوپر بلند کرتا ہے، ریکسونا کا اشتہار ایک ساتھ دو جگہوں پر دکھائی دیتا ہے۔\n\nبظاہر کمپنی کو پورا یقین ہے کہ میچ آفیشلز کی ایڈیڈاس جرسیوں پر پسینے کے نشانات نمایاں نہیں ہوں گے۔\n\nفیفا ورلڈ کپ 2026\n\nسٹیڈیم\n\nنام کی تبدیلی\n\nسٹیڈیم کے اندر منتظمین نے فیفا کی ’کلین سائٹ پالیسی‘ پر عمل درآمد کے لیے غیر سرکاری برانڈنگ کے ہر نشان کو مٹانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔\n\nلارنس اوسلر\n\nسوموار, جون 22, 2026 - 12:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">فیفا ورلڈ کپ 2026 میں یوراگوئے اور کیپ وردے کے درمیان میچ سے قبل میامی گارڈنز، فلوریڈا کے ہارڈ راک سٹیڈیم کا منظر(جیسن کورنر/ اے ایف پی)</p>\n\nفٹ بال\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n’گلوبل ساؤتھ‘ کی علامت مراکش کی فٹ بال ٹیم یہاں تک کیسے پہنچی؟\n\n2026 فٹ بال ورلڈ کپ کے اب تک کے تنازعات کون سے ہیں؟\n\nقذافی اور ملتان کرکٹ سٹیڈیمز کے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیسا ہے؟\n\nسٹیڈیم تو بن گئے، ٹیم نہ بن سکی\n\nSEO Title:\n\nفیفا نے خاموشی سے ورلڈ کپ سٹیڈیمز کے لوگوز مٹا دیے\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/sport/football/fifa-world-cup-levis-lumen-mercedes-brands-sponsors-b3000085.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "فیفا نے خاموشی سے ورلڈ کپ سٹیڈیمز کے لوگوز مٹا دیے"
}