{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreif4o4k34zzezurzktyz7zivnq32legmcpf6qo2kuplfvjv5gmhfha",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mouarnfhghu2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreie2uektfvlazcqko4wjzd73uscc77mr3r4costgyndpff7sw6n6eq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 104265
  },
  "path": "/node/186437",
  "publishedAt": "2026-06-22T03:50:53.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "مچھلی",
    "فش فارمنگ",
    "فش فارم",
    "فیصل آباد",
    "پاکستانی معیشت",
    "نعیم احمد",
    "معیشت",
    "video"
  ],
  "textContent": "**زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے شہری علاقوں میں ماہی پروری کو فروغ دینے کے لیے جدید ’روف ٹاپ بایئو فلوک سسٹم‘ متعارف کرایا ہے۔ یہ نظام کم پانی اور محدود جگہ میں زیادہ مچھلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔**\n\nاس منصوبے کے سربراہ اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈپارٹمنٹ آف زوالوجی، وائلڈ لائف اینڈ فشریز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالمتین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو پاکستان میں زیادہ مؤثر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔\n\nان کے مطابق: ’ہم نے بایئو فلوک ایکوا کلچر تلپیا مچھلی کے لیے لگایا ہے۔ یہ باقاعدہ ایک شوکیس ہے تاکہ ہم کسانوں کو کم خرچ، ماحول دوست اور پائیدار ایکوا کلچر سسٹم دے سکیں۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں بایئو فلوک ایکوا کلچر کے تحت 10 فٹ قطر کے دو ٹینک لگائے گئے ہیں۔ ان دو ٹینکوں سے چھ ماہ میں اتنی مچھلی حاصل ہو گی جتنی عام طور پر آدھے ایکڑ پر بنائے گئے تالاب سے حاصل ہوتی ہے۔\n\nڈاکٹر عبدالمتین کے مطابق: ’اسے آپ اپنے گھر، لان یا چھت پر کہیں بھی بنا سکتے ہیں۔ اس طرح کے دو ٹینک بنانے پر ابتدائی طور پر تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے خرچ آتا ہے اور یہ سیٹ اپ کم از کم 10 سال تک چل سکتا ہے۔‘\n\nروف ٹاپ بایئو فلوک سسٹم متعارف کم پانی اور محدود جگہ میں زیادہ مچھلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے (نعیم احمد/انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nان کا کہنا تھا کہ بایئو فلوک کلچر پر آنے والے اخراجات اس سے حاصل ہونے والی آمدن کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔\n\nانہوں نے کہا: ’اس طرح کے ایک ٹینک سے ایک سیزن میں کم از کم 200 کلوگرام مچھلی آسانی سے حاصل ہو جاتی ہے۔ ہمارے پاس دو ٹینک ہیں، اس لیے یہ پیداوار 400 کلوگرام تک پہنچ سکتی ہے۔ اس طرح لاگت پہلے ہی سیزن میں پوری ہو جاتی ہے اور پھر اگلے نو سال تک یہ نظام بہت کم خرچ پر چلتا رہتا ہے۔‘\n\nڈاکٹر عبدالمتین کا کہنا ہے کہ بایئو فلوک کلچر کو چلانے کی لاگت نہایت کم ہے۔ اسے لگانے کے بعد اصل خرچ صرف مچھلیوں کی خوراک پر آتا ہے، لیکن روایتی ماہی پروری کے مقابلے میں یہ خرچ بھی تقریباً آدھا رہ جاتا ہے۔\n\nان کے مطابق اس نظام میں قدرتی طور پر بننے والے بیکٹیریا یا بایئو فلوک کو بھی مچھلیاں خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔\n\nانہوں نے بتایا: ’ہم ہر کسان کے لیے دستیاب ہیں۔ میرے پاس روزانہ دو، تین کسان یا شہری آتے ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ خود جا کر ان کا کام دیکھتے ہیں اور تکنیکی مشاورت بھی فراہم کرتے ہیں۔‘\n\nزرعی یونیورسٹی فیصل آباد اس ٹیکنالوجی کو پاکستان میں زیادہ مؤثر بنانے پر کام کر رہی ہے (نعیم احمد/انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nڈاکٹر عبدالمتین نے بتایا کہ فیصل آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں کے کئی جدت پسند کاشت کار اور شہری ان سے یہ طریقہ سیکھ کر اچھی آمدن حاصل کر رہے ہیں۔\n\nان کے بقول: ’شاہ کوٹ میں عمران صاحب نامی ایک ترقی پسند کسان ہیں جو یہ نظام بہت اچھے انداز میں چلا رہے ہیں۔ وہ اس میں مہاشیر مچھلی کلچر کر رہے ہیں۔\n\n’انہوں نے پامفرٹ مچھلی بھی کلچر کی تھی اور اب وہ تلپیا فش کلچر کر رہے ہیں۔ وہ اپنی مچھلی منڈی میں نہیں بیچتے بلکہ انہوں نے اپنا سیل پوائنٹ بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح ڈجکوٹ میں بھی کئی کسان یہ کام کر رہے ہیں۔ بے شمار کسان اس طرف آ رہے ہیں اور یہ شعبہ مزید ترقی کرے گا۔‘\n\nڈاکٹر عبدالمتین نے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں بایئو فلوک ایکوا کلچر کی اہمیت بھی واضح کی۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ایک ایکڑ رقبے میں عموماً تین سے ساڑھے تین ہزار تلپیا مچھلی ڈالی جاتی ہے۔\n\nان کے مطابق: ’ایک ایکڑ میں تقریباً 4048 مربع میٹر جگہ ہوتی ہے اور اس میں تقریباً 60 لاکھ لیٹر پانی ہوتا ہے۔ اس پانی کی سطح مسلسل برقرار رکھنی پڑتی ہے۔ اگر یہی تین سے ساڑھے تین ہزار مچھلی ہم بایو فلوک میں کلچر کرنا چاہیں تو ہمیں صرف 30 سے 40 فٹ جگہ درکار ہو گی۔‘\n\nانہوں نے لیبر لاگت کے حوالے سے بھی دونوں طریقوں کا موازنہ کیا۔\n\nان کے مطابق 60 لاکھ لیٹر پانی کے لیے تقریباً پانچ دن تک ٹیوب ویل چلانا پڑتا ہے، جب کہ 40 ہزار لیٹر پانی عام پمپ کے ذریعے آدھے سے ایک گھنٹے میں حاصل ہو جاتا ہے۔\n\nڈاکٹر عبدالمتین کہتے ہیں کہ ’بایو فلوک ٹینک میں پانی کی سطح برقرار رہتی ہے کیونکہ اس میں رساؤ نہیں ہوتا۔ ہاں، بخارات بننے سے تھوڑا پانی کم ہو سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عام تالاب میں رساؤ بھی ہوتا ہے اور پانی بخارات بن کر اڑتا بھی ہے، اس لیے روزانہ پانی پورا کرنا پڑتا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ایک ایکڑ کے تالاب کی دیکھ بھال پر لیبر لاگت بھی زیادہ آتی ہے اور اسے سنبھالنا بھی مشکل ہوتا ہے۔\n\nان کے مطابق: ’جتنی بڑی واٹر باڈی ہو گی، اسے سنبھالنا اتنا ہی مشکل ہو گا۔ اس کے برعکس، جتنا چھوٹا یونٹ ہو گا، اسے سنبھالنا اتنا ہی آسان ہو گا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nڈاکٹر عبدالمتین نے مزید بتایا کہ بایو فلوک ایکوا کلچر اس لحاظ سے بھی مؤثر ہے کہ اس پر بجلی کا خرچ بہت کم، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’یہ دو ٹینک ہیں اور ان کے لیے تقریباً 100 واٹ کا پمپ لگا ہوا ہے، جو ایک بلب جتنی بجلی لیتا ہے۔ ہم نے اس کے لیے سولر سسٹم لگا رکھا ہے۔ نہ ہمیں بجلی کا مسئلہ ہے اور نہ جگہ کا۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ وسائل اور موسم دونوں کے لحاظ سے یہ طریقہ زیادہ مفید ہے۔\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ اس کا درجہ حرارت ہمارے کنٹرول میں ہے اور اس کی آکسیجن بھی ہمارے کنٹرول میں ہے۔ موسمیاتی تبدیلی ہو رہی ہے۔\n\nکئی مرتبہ درجہ حرارت بہت زیادہ ہو جاتا ہے جس سے تالابوں میں بڑی تعداد میں مچھلیاں مر جاتی ہیں، لیکن اس نظام میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ یہ کنٹرولڈ کنڈیشنز میں چلتا ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ تالاب میں باہر سے کئی چیزیں شامل ہو سکتی ہیں۔ نہری پانی آ سکتا ہے۔ کوئی جڑی بوٹی داخل ہو سکتی ہے۔ کوئی گوشت خور مچھلی آ سکتی ہے۔ کوئی جرثومہ داخل ہو سکتا ہے یا کوئی پرندہ اوپر سے گزرتے ہوئے کوئی چیز تالاب میں گرا سکتا ہے۔ اس سے تالاب کا پانی زہریلا ہو سکتا ہے۔\n\nان کے مطابق بایئو فلوک نظام ان خطرات سے بڑی حد تک محفوظ ہے۔ یہ نظام مؤثر، محفوظ، با کفایت اور پائیدار ہے۔\n\nمچھلی\n\nفش فارمنگ\n\nفش فارم\n\nفیصل آباد\n\nپاکستانی معیشت\n\nزرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالمتین کہتے ہیں کہ ’روف ٹاپ بایئو فلوک سسٹم‘ کم پانی اور محدود جگہ میں زیادہ مچھلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔\n\nنعیم احمد\n\nسوموار, جون 22, 2026 - 08:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">فیصل آباد میں فش فارمنگ کے لیے ’روف ٹاپ بایو فلوک سسٹم‘ کا تجربہ (نعیم احمد/انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nمعیشت\n\njw id:\n\nbAVjOlrk\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپنجاب: سیلاب فش فارمز کی مچھلیاں بہا لے گیا، کروڑوں کا نقصان\n\nچارسدہ: جدید فش فارمنگ سے زیادہ مچھلیاں حاصل کرنے والے نوجوان\n\nسانگھڑ: مچھلی کا وہ حلوہ جسے آپ ’کھائیں گے تو بار بار آئیں گے‘\n\nسیلاب زدہ تھائی ریسٹورنٹ جہاں لوگ تیرتی مچھلیوں کے بیچ کھانا کھاتے ہیں\n\nSEO Title:\n\nچھت پر فش فارم: فیصل آباد میں شہری ماہی پروری کا نیا تجربہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "چھت پر فش فارم: فیصل آباد میں شہری ماہی پروری کا نیا تجربہ"
}