{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreianaarcode37kko7fjmsfbphe54apuybqftbv3tutwobggv7375h4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3motxi2wogbj2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifwqcloqv22xakx47k7r5etcnmwqg4trmjurbf5gexgcqamioe7fa"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 88446
},
"path": "/node/186435",
"publishedAt": "2026-06-22T02:45:09.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"June 22, 2026",
"ایران",
"امریکہ",
"امن مذاکرات",
"شہباز شریف",
"عباس عراقچی",
"سوئٹزرلینڈ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news",
"@ForeignOfficePk"
],
"textContent": "**پاکستان اور قطر کی طرف سے پیر کو جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ’حوصلہ افزا‘ پیش رفت ہوئی ہے جبکہ ایران اور امریکہ نے 60 دن کے اندر جنگ کے خاتمے کے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔**\n\nایران اور امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام پر ثالث ممالک پاکستان اور قطر نے پیر کو مشترکہ اعلامیے جاری کیا ہے۔\n\nاعلامیے کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطح مذاکرات کا پہلا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات میں میں ایران، امریکہ اور دو ثالث فریقوں قطر اور پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔\n\nایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشترکہ اعلامیے سے متعلق ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پاکستان اور قطر کی انتھک ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں لبنان کی جنگ کے خاتمے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔\n\n’تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر پابندیوں میں نرمی دی گئی، ناکہ بندی ختم کر دی گئی، ایران کے کچھ منجمد اثاثے جاری کر دیے گئے، اور ایران کے لیے ایک بڑے تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ ‘\n\nانہوں نے کہا کہ پہلا حقیقی امتحان: لبنان کے لیے ’ڈی کنفلکشن سیل‘ (تنازعے سے بچاؤ اور فوجی رابطہ کاری کا مشترکہ سیل) ہے۔\n\n>\n>\n> — Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) June 22, 2026\n\nمشترکہ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ لیک لوسرن سربراہ اجلاس ایک مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوا جب کہ مزید تکنیکی مذاکرات کے لیے میکانزم کے قیام سمیت حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔\n\nاعلامیے کے مطابق: ’مفاہمت کی یادداشت کو بنیاد بناتے ہوئے، فریقین نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا جو اس ثالثی کی سیاسی نگرانی کرے گی۔\n\n’مذاکراتی ٹیموں کے سربراہ کار باقاعدگی سے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کو رپورٹ کریں گے اور مفاہمت کی یادداشت پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایٹمی امور، پابندیوں، اور نگرانی اور تنازعات کے حل کے گروپ کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات پر مرکوز ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے۔‘\n\nاعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ ’اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا جس سے مزید تکنیکی مذاکرات کے فوری آغاز کی بنیاد رکھی گئی ہے۔\n\n’اس کے علاوہ، مفاہمت کی یادداشت کے پیراگراف پانچ میں بتائی گئی مدت کے لیے فریقین کے درمیان ایک رابطہ لائن قائم کی گئی ہے تاکہ حادثات اور غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کا محفوظ راستہ یقینی بنانا ہے۔‘\n\nفریقین (ایران اور امریکہ) نے مفاہمت کی یادداشت کے مطابق لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے، فریقین اور لبنان کے درمیان ثالثوں کی سہولت کاری سے تصادم سے بچاؤ کا, ایک سیل قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام امور پر تکنیکی مذاکرات ہفتے کے باقی دنوں میں برگن سٹاک ریزورٹ میں جاری رہیں گے۔\n\nاس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ثالث فریقین اس بات کو یقینی بنانے کی اپنی پوری کوشش جاری رکھیں گے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے مذاکرات تعمیری ماحول میں جاری رہیں۔\n\nاعلامیے کے مطابق: ’قطر اور پاکستان سفارت کاری اور تنازع کے پرامن حل کے لیے ان کے مسلسل عزم پر امریکہ اور ایران کی خلوص دل سے تعریف کرتے ہیں۔ ثالث فریقین جاری مذاکرات میں مسلسل حمایت اور قابل قدر کردار پر برادر اور دوست ممالک کو بھی سراہتے ہیں۔‘\n\nایران\n\nامریکہ\n\nامن مذاکرات\n\nشہباز شریف\n\nعباس عراقچی\n\nسوئٹزرلینڈ\n\nپاکستان اور قطر کی طرف سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ’حوصلہ افزا‘ پیش رفت ہوئی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, جون 22, 2026 - 07:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">21 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں امریکہ۔ایران مذاکرات سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مصافحہ کر رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران-امریکہ معاہدہ اسرائیل کے لیے خطرہ کیوں؟\n\nامریکہ ایران معاہدہ: پاکستانی قومی اسمبلی میں قرارداد منظور\n\nآبنائے ہرمز پھر بند، امریکہ - ایران مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں\n\nامریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دی\n\nSEO Title:\n\nامریکہ،ایران مذاکرات میں ’حوصلہ افزا پیش رفت‘، فریقین کا 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "امریکہ،ایران مذاکرات میں ’حوصلہ افزا پیش رفت‘، فریقین کا 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق"
}