{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiaaozhlxiqurt73tbdwotru2p7k3ukos77hwmsdthtwnr52r5t42i",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3motpmtoih742"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihazujgvoc5ugj3wfnbnvr7rb6phqlz5zgndxlmgb4iy5shfwh62q"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 103525
},
"path": "/node/186424",
"publishedAt": "2026-06-21T01:04:20.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"ایران جنگ",
"امریکہ",
"فرانس",
"مسعود پزشکیان",
"مجتبیٰ خامنہ ای",
"اویس توحید",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**امن معاہدے پر دستخط کے لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران اور ثالث ملک پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کا انتخاب کیا، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دستخط کے لیے چناؤ واشنگٹن نہیں بلکہ پیرس سے صرف بیس، پچیس کلومیٹر دور ایک تاریخی ویرسائی محل رہا۔**\n\nصدیوں پرانے فرانس کے بادشاہت والے دور کا یہ عظیم الشان 700 کمروں کا محل ہے۔\n\nٹرمپ نے اس موقعے پر، جب دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی تھی، اسی محل کا انتخاب کیوں کیا؟\n\nکہنے کو تو کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ جی سیون کے اجلاس کی شرکت کے لیے فرانس میں تھے اور اسی محل میں عالمی رہنماؤں کی تقریب بھی تھی۔\n\nشاید محض اتفاق تھا لیکن ٹرمپ تو دستخط کرنے کے بعد ہی امریکہ واپس چلے گئے اور اسی روز دستخط کی شرط بھی نہ تھی۔ امریکہ واپسی پر بھی تو دستخط ہو سکتے تھے۔\n\nیا پھر ٹرمپ کا انتخاب ارادی تھا اور وہ تاریخ کو علامتی طور دہرانا چاہ رہے تھے؟\n\nقصہ یوں ہے کہ اسی ویرسائی محل میں پہلی عالمی جنگ کے بعد جون 1919 میں جرمنی نے شکست پر امریکہ اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا۔\n\nاس وقت کے امریکی صدر ووڈرو ولسن کے 14 نکات تھے جو جرمنی نے جنگ بندی کے لیے تسلیم کیے تھے۔ اتفاق کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے بھی نکات 14 ہی ہیں، اور معاہدے کا مہینہ بھی جون۔\n\nٹرمپ کی تاریخ پر کتنی دسترس ہے وہ تو سبھی جانتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ٹرمپ کے کسی ’ماگا‘ تحریک کے ’قابل‘ ساتھی نے انہیں ادھوری تاریخ پڑھا دی ہو۔\n\nاگر ٹرمپ اپنے چاہنے والوں کے لیے ایران کو پہلی عالمی جنگ عظیم میں شکست خوردہ جرمنی کی تشبیہ دینا چاہتے ہیں تو یوں سمجھ لیجیے کہ الٹی ہو گئی سب تدبیریں۔\n\nجرمنی کو سخت شرائط ماننا پڑی تھیں اور اگر ایران - امریکہ امن معاہدے یا ’مفاہمت کی یادداشت‘ کی شقوں پر نظر ڈالیں تو امریکہ کو ایران کی بیشتر شرائط تسلیم کرنی پڑی ہیں۔\n\nامریکہ ایران کے لگ بھگ 100 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے، اس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کو ختم کرنے پر بھی رضا مند ہے۔\n\nایران کی تعمیرنو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ قائم کرنے کا بھی وعدہ ہے۔\n\n18 جون، 2026 کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کے ایکس اکاؤنٹ سے دستیاب ہونے والی فوٹیج سے ایک ویڈیو گریب جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان امن معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nجنگ سے پہلے ٹرمپ ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے تھے، اب اسی سے معاہدہ کیا ہے۔\n\nایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کے جڑ سے خاتمے کے خواہش مند تھے۔\n\nٹرمپ اب بیان دے رہے ہیں کہ ایران میزائل ٹیکنالوجی بھی رکھ سکتا ہے اور اسے نیوکلیئر پروگرام پرامن اور سویلین مقاصد کے لیے رکھنے کا حق حاصل ہے۔\n\nلگ بھگ یہی ایران کا موقف تھا۔ یوں سمجھ لیجیے ٹرمپ کے جنگ سے قبل اور حالیہ بیانات میں دن رات جیسا فرق ہے۔\n\nامن معاہدہ پاکستان کی مثالی ڈپلومیسی اور خطے کی طاقتوں بالخصوص قطر اور سعودی عرب کی کوششوں سے حاصل ہو سکا ہے۔\n\nاس کے دو مراحل ہیں۔ پہلے مرحلہ میں معاہدے یہ مفاہمتی یاداشت کی منظوری کے بعد آبنائے ہرمز کو جہازوں کی آمد و رفت کیلیے بحال کرنا ہوگا-\n\nیہ عمل پوری دنیا اور بالخصوص خلیجی ریاستوں کے لیے راحت کا باعث ہے۔\n\nخلیجی ریاستوں نے اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی اور ایران کے مستقل حملوں کے باوجود مثالی تحمل کا مظاہرہ کیا۔\n\nمعاہدے کی رو سے فی الفور خطے میں تمام محاذوں بالشمول لبنان فوجی کارروائیوں کے خاتمہ کا نفاذ لازمی ہے۔\n\nاس سے قبل ٹرمپ اور جے ڈی وینس دونوں ہی لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنے سے انکاری رہے تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلیکن اب لبنان میں جنگ بندی پر رضامندی، ٹرمپ اور وینس کا اسرائیل اور نتن یاہو کی جنگی پالیسیوں کے خلاف کھلم کھلا تنقید، امریکہ کی مشرق وسطی میں پالیسی کی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔\n\nاس جنگ کے دوران بیشتر امریکیوں کا بیانیہ رہا کہ یہ ان کی جنگ نہیں بلکہ امریکہ کو اسرائیل نے جنگ میں دھکیلا۔\n\nشاید اس وجہ سے ان رہنماؤں کو اسرائیل کی تنقید کا اور بھی موقع ملا۔\n\nٹرمپ کو مڈٹرم الیکشن کا سامنا ہے اور وینس اگلے انتخابات میں امریکی صدر بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔\n\nاختلافات کا سلسلہ ٹرمپ کی نتن یاہو کے ساتھ غصے سے بھری فون کالز سے شروع ہوا۔\n\nنتن یاہو نے جب معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے بیروت پر بمباری کی تو ٹرمپ نے سخت بیان داغ دیا کہ امریکہ کے سہارے کے بغیر اسرائیل کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔\n\nاب اسرائیل پر تنقید میں وینس بھی شامل ہوگئے ہیں۔ حالیہ جنگ اور اس کے تناظر میں بدلتے مشرق وسطی میں اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کا بظاہر ٹکراؤ ہے۔\n\nحالیہ جنگ کے خطے پر اثرات سے امریکہ کی عسکری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ اسی وجہ سے بیشتر مغربی مبصرین اس جنگ کے نتائج اور معاہدے کو ایران کی ’سٹریٹیجک فتح‘ گردان رہے ہیں۔\n\nلیکن ایران کو بھی شدید نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔ سیاسی اور عسکری رہنماؤں کی اموات، انفراسٹرکچر کی تباہیم کمزور معیشت اور گلوبل تنہائی سے فرار معاہدے کی پاسداری اور پڑوسی ممالک سے رواداری پر استوار نئے تعلقات اور سمجھوتوں پر منحصر ہوگی۔\n\nآنے والے 60 دنوں میں نیوکلیئر پروگرام اور اقتصادی پابندیوں پر مذاکرات حساس اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوں گے۔\n\nلبنان میں اسرائیل فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا تاکہ امن معاہدہ سبوتاژ ہوسکے۔\n\nاس معاہدے پر ٹرمپ نے دستخط کر کے اس کی اونرشپ لی ہے۔\n\nتاہم ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے محتاط فاصلہ اپناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے معاہدے کی منظوری مسعود پزشکیان کی ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے مفادات کی ضمانت کی وجہ سے دی۔\n\nیہ معاہدہ ابھی بھی کچے دھاگے سے بندھا ہوا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ایران کی ذمہ داری بھی ہے۔\n\nجہاں مستقبل میں امریکہ کو اسرائیل کو لگام دینا ہوگی وہیں ایران کو ہر معاملے پر آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا بند کرنے کی دھمکیوں سے گریز کرنا ہوگا۔\n\nاسی صورت میں باقاعدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات ممکن ہوسکتے ہیں۔\n\nایران میں ان دنوں جنگ میں مارے جانے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ملک گیر جنازے کے جلوس اور الوداعی تقریبات کی تیاریاں ہیں۔\n\nان تقریبات کا آغاز چار جولائی سے ہوگا جب امریکہ اپنی آزادی کی 250ویں سالگرہ منا رہا ہوگا۔ جنازے کو کربلا بھی لے جایا جائے گا اور تدفین مشہد میں ہو گی۔\n\nشاید اسی تقریب میں ایرانی عوام مجتبیٰ خامنہ ای کو نئے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ دیکھ سکیں۔ امریکہ کے ساتھ امن کے بعد بدلتے ایران اور نئے سپریم لیڈر کی قیادت میں۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nایران\n\nایران جنگ\n\nامریکہ\n\nفرانس\n\nمسعود پزشکیان\n\nمجتبیٰ خامنہ ای\n\nامریکی صدر نے ایران سے معاہدے پر دستخط کے لیے پیرس کے قریب ایک تاریخی محل کا انتخاب ہی کیوں کیا؟\n\nاویس توحید\n\nاتوار, جون 21, 2026 - 07:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی صدارتی لیموزین، جسے ’دی بیسٹ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، 17 جون 2026 کو پیرس کے جنوب مغرب میں واقع ویرسائی میں امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ منانے کے لیے ایک عشائیہ کے دوران ویرسائی محل کے باہر کھڑی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآبنائے ہرمز پھر بند، امریکہ - ایران مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں\n\nامریکی نمائندے سٹیو وٹکوف ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ: رپورٹ\n\nامریکہ-ایران معاہدہ اور پاکستان کا اصل کردار\n\nایران-امریکہ معاہدہ اسرائیل کے لیے خطرہ کیوں؟\n\nSEO Title:\n\nمعاہدہ اور ٹرمپ کا فرانسیسی محل کا انتخاب\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "معاہدہ اور ٹرمپ کا فرانسیسی محل کا انتخاب"
}