{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidfarngkcnpzugpfkgsljrbh3w3i3fsc47fr27scgr7zzi2qf3csu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3motpmoogqju2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicxkmlcm6pua5oqjuqyfcachoexcp6lzobe663cuskgyate4ozuwe"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 93360
  },
  "path": "/node/186407",
  "publishedAt": "2026-06-21T01:30:03.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "x.jpg",
    "فلم",
    "سینیما",
    "فاروق اعظم",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امتیاز علی کی نئی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ دیکھنے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ آپ ان کی ایک فلم دیکھ لیں، سمجھیں آپ نے ساری فلمیں دیکھ لیں۔**\n\nوہ ایک ہی ببل کو 20 برس سے چبا رہے ہیں، اب اس میں سے کیا ہی رس نکلنا ہے۔\n\nفلم ختم کرنے کے بعد آپ کے ذہن میں کیا رہ جاتا ہے؟ کردار، مکالمے یا مناظر، کب تک دھیان میں گونجتے ہیں؟\n\nفلم کی فضا میں آپ دیر تک رہیں، سوچنے لگیں کہ اچھا ایسے بھی فلم بنائی جا سکتی ہے؟\n\n’مسان‘ جیسی ہلا کر رکھ دینے والی فلم تو خیر کم کم بنتی ہے، لیکن پھر بھی اچھی فلم کم از کم دو، تین دن تو آپ کے اندر چلتی ہے۔\n\nکچھ فلم ساز ایسے ہوتے ہیں جن کی فلمیں دیکھتے وقت تو لگتا ہے کہ شاید کچھ گہرا، کچھ غیر معمولی ہو رہا ہے لیکن جیسے ہی کریڈٹس چلتے ہیں، سب کچھ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔\n\nمیرے لیے امتیاز علی ہمیشہ اسی درجے میں رہے۔ میں جانتا ہوں بہت سے دوستوں کو یہ رائے پسند نہیں آئے گی۔\n\nایک پوری نسل ہے جو ’جب وی میٹ‘، ’راک سٹار‘، ’ہائی وے‘ اور ’امر سنگھ چمکیلا‘ کی مداح ہے۔\n\nلیکن میں جتنا بھی ان کے سینیما کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، اتنا ہی یہ احساس شدید ہوتا جاتا ہے کہ امتیاز علی شاید گہرائی کا تاثر پیدا کرنے میں کامیاب ہیں، گہرائی پیدا کرنے میں نہیں۔\n\nمسئلہ شاید یہ ہے کہ ان کی فلمیں مجھے ہمیشہ ان لوگوں کی یاد دلاتی ہیں جو رات گئے کیفے میں بیٹھ کر زندگی کے معنی پر گفتگو تو بہت کرتے ہیں لیکن اگلی صبح ان کی باتوں میں سے کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔\n\nگفتگو کے دوران سب کچھ غیر معمولی محسوس ہوتا ہے لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر جملے خوبصورت انداز میں کہی گئی عام باتیں تھیں۔\n\nمحفل برخواست ہوئی تو سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ سب کچھ ہوا ہو گیا۔ امتیاز علی کا پورا سینیما ایک خاص قسم کی رومانوی بے چینی کے گرد گھومتا ہے۔\n\nان کے کردار مسلسل کسی ’کمی‘ کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ سے ناراض ہیں، معاشرے سے بیزار ہیں، محبت میں بظاہر ناکام ہیں اور زندگی کے مقصد کی تلاش میں ہیں۔\n\nپھر وہ سفر پر نکلتے ہیں۔ کبھی ٹرین میں، کبھی سڑکوں پر، کبھی پہاڑوں میں اور کبھی کسی دوسرے ملک میں۔\n\nآپ توقع کرنے لگتے ہیں کہ اب کوئی بڑی دریافت ہونے والی ہے، کوئی ایسا لمحہ آنے والا ہے جو کردار اور دیکھنے والے کو بدل کر رکھ دے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا۔\n\nان کے سینیما میں سفر بہت ہے، منزل نہیں۔ کردار چلے جا رہے ہیں لیکن پہنچتے کہیں نہیں۔ آپ فلم دیکھتے جا رہے ہیں، گنگ کہیں نہیں ہوتے۔\n\nیہی مسئلہ ٹارنٹیو کی آخری فلم کے ساتھ ہوا، پوری فلم قتل کی ایک واردات دکھانے کے لیے طویل سفر طے کرتی ہے، قتل ہو جاتا ہے، اس کے بعد کیا؟\n\nکچھ بھی نہیں۔ گھسا پٹا محاورہ، کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔\n\nامتیاز کی فلم ’ہائی وے‘ کا بڑا چرچا ہے۔ فلم ایک زبردست خیال سے شروع ہوتی ہے۔ ایک اغوا، ایک قید اور پھر اسی قید میں آزادی کی تلاش۔\n\nابتدا میں لگتا ہے شاید ہم ایک پیچیدہ نفسیاتی ڈراما دیکھنے جا رہے ہیں، لیکن جیسے جیسے فلم آگے بڑھتی ہے، یہ زیادہ تر خوبصورت مناظر اور جذباتی کیفیتوں کا مجموعہ بن جاتی ہے۔\n\nفلم سوال تو بہت اٹھاتی ہے مگر ان سوالات سے کشُتی نہیں لڑتی۔ آس پاس ہی چکر لگاتی رہتی ہے۔ کبھی اِدھر سے نکل لیے کبھی اُدھر سے۔\n\n’راک سٹار‘ کے ساتھ بھی میرا مسئلہ کچھ ایسا ہی ہے۔ میں جانتا ہوں بہت سے لوگ اسے شاہ کار سمجھتے ہیں لیکن میرے لیے یہ ایک ایسی فلم ہے جس کی شہرت اس کے مواد سے زیادہ اس کے ساؤنڈ ٹریک کی وجہ سے ہے۔\n\nاگر اے آر رحمان کی موسیقی نکال دی جائے تو فلم میں بچتا ہی کیا ہے؟\n\nآج برسوں بعد بھی ہم اس کے گیت ’کن فیا کن‘ اور ’نادان پرندے‘ گنگناتے ہیں لیکن فلم کے مناظر یا اس کے ڈرامائی تسلسل کو کتنے لوگ اسی شدت سے یاد کرتے ہیں؟\n\nبعض اوقات مجھے لگتا ہے ان کی فلمیں موسیقی کے لیے بنائی گئی لمبی میوزک ویڈیوز ہیں جن کے درمیان کہانی کو جوڑنے کے لیے چند مناظر رکھ دیے گئے ہیں۔\n\nاگر ایسا ہے تو یہ بہت شان دار فن پارے ہیں لیکن اس کا کریڈٹ اے آر رحمان کو جاتا ہے۔\n\nامتیاز علی کے سینیما کا منفرد پہلو فلم کو ہیرو اور ولن کی روایتی کشمکش سے نکل کر کردار کے اندر کی کشمکش کو کہانی کے مرکزی دھارے میں لا کھڑا کرنا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ پہلو شروع کی فلموں میں اچھا لگتا تھا، پھر لگنے لگا کہ یہ کیا ہے؟\n\nہر کردار میں امتیاز علی خود چھپا بیٹھا ہے۔\n\nبظاہر ہیرو کوئی گلوکار ہے، کوئی سیاح ہے، کوئی کارپوریٹ ملازم ہے، کوئی مزاحیہ نوجوان ہے لیکن سب کے اندر ’امتیاز علی‘ ہی روپوش ہے۔\n\nہر فلم میں یہ آدمی مسلسل خود کو تلاش کر رہا ہے، اسے سمجھا نہیں گیا، وہ کہیں دور جانا چاہتا ہے اور اسے یقین ہے کہ اس کی نجات کسی غیر معمولی محبت یا روحانی تجربے میں پوشیدہ ہے۔\n\nجب تقریباً ہر فلم میں یہی آدمی مختلف چہرے لگا کر واپس آتا ہے تو کہاں کی انفرادیت اور کہاں کی دلچسپ سٹوری؟\n\nان کی ہیروئنیں بھی بظاہر مختلف ہوتے ہوئے ایک خاص سانچے میں ڈھلی محسوس ہوتی ہیں۔\n\nوہ آزاد خیال ہیں، بے باک ہیں، زندگی سے بھرپور ہیں اور اکثر مرکزی مرد کردار کی زندگی میں انقلاب لے آتی ہیں۔\n\nلیکن غور کیا جائے تو ان میں سے اکثر کا وجود بالآخر مرد کردار کی داخلی تبدیلی کے گرد چکر کاٹتا اور چھو منتر کرتا نظر آتا ہے۔\n\nان کے مداح اکثر کہتے ہیں کہ ان کی فلمیں محسوس کی جا سکتی ہیں، سمجھی نہیں جا سکتیں۔\n\n## x.jpg\n\nبھئی یہ کون سا ایسا عظیم پیچیدہ فلسفہ ہے جو سمجھ میں نہیں آ رہا ہوتا۔ مکالمے اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ ہمارا ٹی وی ڈراما بھی شرما جائے۔\n\nمگر بات نہیں سمجھائی جا سکتی کہ احساسات کا سینیما ہے۔ ذرا روبر بریساں کی کوئی فلم دیکھیے تاکہ آپ کو پتہ چلے احساس کی فلم کسے کہتے ہیں۔\n\nانڈیا میں یہی کام بنگالی سینیما نے کیا۔ درمیانے درجے کی کام چلاؤ فلموں کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جن میں کچھ بھی نہیں ہوتا لیکن ایک آدھ سین ایسا ہوتا ہے جو آپ کے حافظے میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔\n\nدوسری وہ جن میں اور تو کچھ ہوتا نہیں، ایسا سین بھی نہیں ہوتا۔ امتیاز علی کی فلمیں بظاہر دوسری طرز کی ہیں۔\n\nان کے سینیما میں وہ ایک شاٹ، ایک فریم، ایک سین، جسے دیکھ کر فوراً فلم کا نام ذہن میں آ جائے؟ اگر آپ جانتے ہوں تو ضرور بتائیے گا۔\n\nسینیما دیکھنے کے لیے بنا ہے۔ اس کی پہلی انٹرٹینمنٹ آنکھوں کے لیے ہے۔ عظیم فلم ساز اپنے ناظر کے ذہن میں تصویریں چھوڑ جاتے ہیں۔\n\nبعض اوقات ایک منظر پوری فلم سے بڑا ہو جاتا ہے، مگر امتیاز علی کی فلمیں دیکھتے ہوئے آنکھیں انتظار ہی کرتی رہتی ہیں۔\n\nاس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک ناکام فلم ساز ہیں۔ اگر وہ واقعی ناکام ہوتے تو اتنے لوگوں کے دلوں میں جگہ نہ بنا پاتے۔\n\nان کے پاس ماحول تخلیق کرنے کی صلاحیت ہے، موسیقی کے استعمال کا شعور ہے اور نوجوان نسل کی جذباتی بے چینی کو پکڑنے کی غیر معمولی مہارت بھی۔\n\nلیکن میرے لیے یہ سب خوبیاں اس بنیادی کمی کو پورا نہیں کرتیں کہ ان کی فلمیں ختم ہونے کے بعد میرے ساتھ زیادہ دیر نہیں رہتیں۔\n\nوہ مجھے وقتی طور پر دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں مگر میرے ساتھ نہیں رہتیں۔\n\nیہ ممکن ہے کہ لاکھوں ناظرین میری اس رائے سے اختلاف کریں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی کسی فلم نے کسی کی زندگی بدل دی ہو۔ سینیما آخرکار ذاتی تجربہ ہے۔\n\nمگر میرے لیے امتیاز علی ہمیشہ ایسے فلم ساز رہیں گے جو گہرائی کا وعدہ تو بہت کرتے ہیں، مگر آخر میں ایک خوبصورت خالی پن ہاتھ آتا ہے۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nفلم\n\nسینیما\n\nامتیاز علی ہمیشہ ایسے فلم ساز رہیں گے جو گہرائی کا وعدہ تو بہت کرتے ہیں، مگر آخر میں ایک خوبصورت خالی پن ہاتھ آتا ہے۔\n\nفاروق اعظم\n\nاتوار, جون 21, 2026 - 07:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">فلم ’میں واپس آؤں گا‘ کا پوسٹر (سوشل میڈیا)</p>\n\nفلم\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nفلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ کو بالآخر انڈیا میں ریلیز کی اجازت\n\nپاکستانی ڈرامے شان دار، مگر فلمیں غیراطمینان بخش کیوں؟\n\nعید قرباں پر پاکستانی فلموں میں ایکشن، رومانس اور خوف کا راج\n\nقاتل کا ہیرو ازم اور مقتول کی بے بسی: جب فلموں میں تاریخ بولتی ہے\n\nSEO Title:\n\nامتیاز علی کا سینیما: ایک ببل آپ کب تک چبا سکتے ہیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "امتیاز علی کا سینیما: ایک ببل آپ کب تک چبا سکتے ہیں؟"
}