{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifwn67neszm43ycmvajm7qwj3g3kqrmbf7twaywl4h2kldthcar64",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3motpmn3nmyb2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibluun27zlgb7vnoolufyx3vv5vtngrq4a45geek5siu3dkid7qmy"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 92085
  },
  "path": "/node/186426",
  "publishedAt": "2026-06-21T02:07:46.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "امریکہ",
    "ایران",
    "ایران جنگ",
    "امن معاہدہ",
    "سوئٹزرلینڈ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**ایران نے اتوار کو کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں لبنان پر اسرائیلی حملے سرفہرست موضوع ہو گا جبکہ ایران کے منجمد فنڈز اور ملکی تیل کی فروخت جیسے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔**\n\nوزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا ’صہیونی حکومت لبنان میں اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، آج ہونے والے مذاکرات میں یہ معاملہ بنیادی موضوع گفتگو ہو گا۔‘\n\n’ایران کے منجمد یا محدود رسائی والے اثاثوں کو دستیاب بنانے کا معاملہ، نیز ایرانی تیل کی فروخت کے لیے ضروری اجازت ناموں کے اجرا سے متعلق گفتگو بھی ایجنڈے میں شامل ہو گی۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا مذاکرات چار فریقی ہوں گے جس میں ایران، امریکہ، قطر اور پاکستان شرکت کریں گے۔\n\nاسماعیل بقائی کے مطابق ایران دن کے آغاز میں ثالث ممالک قطر اور پاکستان کے ساتھ الگ ملاقاتیں بھی کرے گا۔\n\n**پاکستانی وزیراعظم، فیلڈ مارشل سوئٹزرلینڈ میں**\n\nپاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے۔\n\nوزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق آج منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔\n\nاعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہے۔\n\nمذاکرات کی پہلی باضابطہ نشست پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے برگن سٹاک ریزورٹ میں ہو گی، جس کے بعد ایرانی وفد اور ثالثوں کے درمیان دو طرفہ ملاقاتیں ہوں گی۔\n\nشہباز شریف 21 جون، 2026 کو زیورخ کے ہوائی اڈے پر (وزیراعظم ہاؤس/سکرین گریب)\n\n\n\n\nمشرق وسطیٰ کی جنگ پر امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر جمعرات کو الیکٹرانک دستخطوں کے بعد آمنے سامنے مذاکرات کا نیا دور آج ہو رہا ہے۔\n\nمفاہمتی یادداشت کے بعد مہینوں سے جاری رہنے والی اس کشیدگی کا خاتمہ ہو گیا جس نے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔\n\nمعاہدے کے تحت امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے، امریکہ کی طرف سے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے۔\n\nاس سے قبل دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات کے موقعے پر توقع کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود سے دوطرفہ ملاقاتیں کر سکتے ہیں تاکہ ’خطے میں مذاکرات اور پائیدار امن کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا اعادہ کیا جا سکے۔‘\n\n**پاکستان کا سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا اعلان**\n\nہفتے کو پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہوں گے۔\n\nدفتر خارجہ نے کہا ’امریکہ اور ایران کے نمائندے، پاکستان اور قطر کے ثالثوں کے ساتھ، ان مذاکرات میں حصہ لیں گے۔\n\n’پاکستان اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے مقصد سے ثالث کے طور پر اس عمل میں سہولت فراہم کرنا جاری رکھے گا۔‘\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی مذاکرات کار امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے چند گھنٹے قبل ہفتے کو برگن سٹاک پہنچے۔\n\nیورپ کے لیے پرواز میں سوار ہونے سے پہلے جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں امید ہے وہ ’جوہری مسئلے پر پیش رفت کریں گے اور لبنان میں جنگ بندی کے مسئلے پر پیش رفت کریں گے۔\n\n’یہ وہ دو بڑے معاملات ہیں جن پر مجھے لگتا ہے کہ ہم توجہ مرکوز کریں گے۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ امریکی مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف پہلے سے ہی سوئٹزرلینڈ میں ’کچھ تکنیکی معاملات‘ سنبھال رہے ہیں اور انہوں نے اطلاع دی ہے کہ ’معاملات اچھے جا رہے ہیں۔‘\n\nامریکی نائب صدر جے ڈی وینس 20 جون، 2026 کو میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں سوئٹزرلینڈ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nایران اور امریکہ کے درمیان یہ فالو اپ مذاکرات جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں طے تھے لیکن اسرائیل کے لبنان پر جان لیوا حملے کرنے کی وجہ سے انہیں آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا۔\n\nواشنگٹن نے جمعے کو لبنان میں دوبارہ جنگ بندی کا اعلان کیا جو ایران کے ساتھ اس کے ابتدائی معاہدے کی ایک شرط ہے۔\n\nتاہم ہفتے کو اسرائیلی فوجیوں کی حزب اللہ کے ساتھ دوبارہ جھڑپیں ہوئیں اور دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کا الزام لگایا۔\n\nامریکہ کی جانب سے ’معاہدے کی خلاف ورزی‘ اور ’جنوبی لبنان میں صہیونی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل اور بے دریغ خلاف ورزی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی مرکزی فوجی کمانڈ نے ہفتے کو کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔‘\n\nامریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے اعلان کے بعد کہا کہ اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے محفوظ راستہ ’برقرار‘ ہے اور امریکی افواج ’موجود اور چوکنا‘ ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nٹرمپ نے بعد میں متنبہ کیا کہ اگر مذاکرات کار معاہدہ مکمل کرنے میں ناکام رہے تو واشنگٹن ہرمز پر اپنے ٹول ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔\n\nٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ کوئی ٹول ٹیکس نہیں ہوگا ’جب تک کہ وہ امریکہ کی طرف سے اور اس کے لیے عائد نہ کیے جائیں۔‘\n\n**ایرانی وفد کی سوئٹزرلینڈ آمد**\n\nایرانی سرکاری میڈیا اور سوئس وزارت خارجہ نے بتایا کہ ایک ایرانی وفد ہفتے کی رات کو سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا۔\n\nایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے بتایا کہ اس وفد میں پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔\n\nوزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ وفد معاہدے کے تحت ’دوسرے فریق کے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ‘ کرے گا۔\n\nسرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’بصورت دیگر پوری مفاہمت خطرے میں پڑ جائے گی۔‘\n\nامریکہ\n\nایران\n\nایران جنگ\n\nامن معاہدہ\n\nسوئٹزرلینڈ\n\nپاکستانی، امریکی اور ایرانی وفود سوئٹزرلینڈ میں موجود، بات چیت پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے ہو گی۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, جون 21, 2026 - 14:00\n\nMain image:\n\n> <p style=\"direction:rtl\">ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی 21 جون، 2026 کو سوئٹزرلینڈ کی برگن سٹاک ریزورٹ میں موجود ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nXA23EtJ4\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nآبنائے ہرمز پھر بند، امریکہ - ایران مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں\n\nامریکہ-ایران معاہدہ اور پاکستان کا اصل کردار\n\nایران میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے: صدر ٹرمپ\n\nسوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مجوزہ مذاکرات ملتوی\n\nSEO Title:\n\nامریکہ سے آج مذاکرات میں لبنان بنیادی موضوع ہو گا: ایران\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "امریکہ سے آج مذاکرات میں لبنان بنیادی موضوع ہو گا: ایران"
}