{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreig55jhmxe7b76qtg5t6oepczanbs5rczwjrpiajsabyck4snmcale",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3motpmaaggrk2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihyqa2m6fq5ozio6r3hr4hwrumeunenrnayz34bhpgfi26nkffoba"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 96228
  },
  "path": "/node/186429",
  "publishedAt": "2026-06-21T06:34:13.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "آم",
    "برآمد",
    "پھل",
    "پاکستانی",
    "کاشت کار",
    "تاجر",
    "اے ایف پی",
    "معیشت",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے جنوب میں مزدور آم کے درختوں پر چڑھ کر سخت دھوپ میں تیزی سے کام کر رہے ہیں۔**\n\nوہ تازہ توڑے گئے آم نیچے کھڑے مزدوروں کے تھیلوں میں پھینک رہے ہیں۔\n\nپاکستان میں آم کا موسم پوری طرح شروع ہو چکا ہے لیکن اس بار معمول سے بہت کم پھل منافع بخش برآمدی منڈی تک پہنچ سکے گا۔\n\nسندھ میں آم کا موسم جون میں شروع ہوتا ہے، جہاں آم کے تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سال برآمدات کم از کم 30 فیصد گر سکتی ہیں۔\n\nاس کی وجوہات میں خلیجی ممالک سمیت اہم منڈیوں میں مانگ میں کمی اور ترسیل کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ شامل ہیں۔\n\nان کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ یوں بھی ہوا کہ مہنگائی کے باعث ملک کے اندر بھی آم کی فروخت کم ہے۔\n\nآموں کے اہم مرکز ٹنڈو الہ یار میں محمد شکیل کے سندھڑی آم کے باغ ہیں۔\n\nآم کی یہ قسم صوبہ سندھ کے نام سے منسوب ہے اور اپنے بھرپور ذائقے اور رس دار گودے کے لیے مشہور ہے۔\n\nمحمد شکیل کو خدشہ ہے ان کا کاروبار اتنی آمدن نہیں دے سکے گا کہ باغات کے ٹھیکوں کی پیشگی لاگت پوری ہو سکے۔\n\nچار جون، 2026 کی اس تصویر میں آم کے باغ کے مالک علی پلھ پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار میں ایک باغ میں توڑے گئے آم دکھا رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nان کے بقول کچھ لوگوں نے تو اپنے معاہدے ختم کر دیے۔ ’اتنا زیادہ نقصان ہوا ہے کہ ٹھیکے دار اپنی پیشگی رقم تک چھوڑ کر چلے گئے۔‘\n\n**پھلوں کا بادشاہ**\n\nجنوبی ایشیا میں آم کو ’پھلوں کا بادشاہ‘ کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں آم کی دو درجن سے زیادہ اقسام پیدا ہوتی ہیں، جن سے عام طور پر ہر سال بین الاقوامی فروخت میں تقریباً 11 کروڑ ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔\n\nاسی وجہ سے پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا آم برآمد کرنے والا ملک ہے۔\n\nمشرق وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والی مشکلات نے پاکستانی معیشت کی جغرافیائی اور سیاسی کمزوری کو واضح کر دیا ہے۔\n\nیہ معیشت بڑی حد تک زرعی شعبے پر انحصار کرتی ہے، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے دباؤ میں ہے۔\n\nآل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے چیف پیٹرن وحید احمد کے بقول ’آم کی تقریباً 80 فیصد برآمد خلیجی خطے، ایران اور افغانستان کو ہوتی ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ میں انہی تمام خطوں کو تنازعات نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔\n\nوحید احمد کے مطابق اس سال آم کی مجموعی برآمدات گذشتہ سیزن کے مقابلے میں تقریباً 30 ہزار ٹن کم ہو کر 80 ہزار ٹن تک رہنے کا امکان ہے۔\n\nان کا کہنا تھا ’افغانستان کی سرحد بند ہے، ایران میں جنگ ہے۔۔۔ پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ ہے۔‘\n\nوحید احمد نے اس ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی روکنے کے ابتدائی معاہدے کا خیرمقدم کیا مگر ان کے مطابق صورت حال اب بھی غیر یقینی ہے۔\n\nیہ معاہدہ اس سال کے تقریباً تین ماہ طویل آم سیزن کے لیے بہت دیر سے سامنے آیا۔انہوں نے کہا ’اصل چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔‘\n\nچار جون، 2026 کی تصویر میں پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کے باغ میں ایک مزدور کو آموں کا معیار جانچتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے تجارت بھی رکی ہوئی ہے اور سامان سے لدے سینکڑوں ٹرک کئی ماہ سے بند سرحدی گزرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔\n\nآبنائے ہرمز کے سمندری تیل تجارتی راستے کے ارد گرد لگنے والی متبادل بندشوں نے توانائی کی قیمتیں بڑھا دیں، جس سے مال برداری کے اخراجات بھی تیزی سے اوپر چلے گئے۔\n\nوحید احمد کے مطابق گذشتہ سال 25 ٹن آم کے ایک کنٹینر کی ترسیل پر تقریباً 1400 ڈالر خرچ آتا تھا۔\n\nانہوں نے کہا ’اسی مال برداری کا خرچ اس سال بڑھ کر چھ ہزار سے سات ہزار ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**’روٹی یا آم؟‘**\n\nیہ امید بھی دم توڑ گئی ہے کہ برآمدات میں کمی سے بچ جانے والے آم اگر مقامی منڈیوں میں زیادہ مقدار میں پہنچیں تو بیرون ملک فروخت کے نقصان کا کچھ ازالہ ہو سکے گا۔\n\nوجہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران کئی اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں اور گھریلو صارفین پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ میں ہیں۔\n\nپاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک مصروف کھلی منڈی میں خریدار محمد اشہد حیرت انگیز طور پر سستے آم دیکھ رہے تھے۔\n\nاس وقت آم تقریباً 200 پاکستانی روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جو گذشتہ سال کی قیمت کا تقریباً نصف ہے۔\n\nمحمد اشہد نے کہا ’گذشتہ چند برسوں کے مقابلے میں اس بار آم بہت سستے ہیں کیوں کہ ہماری برآمد رک گئی ہے۔‘\n\n’میں ہر جگہ دیکھ رہا ہوں کہ بہت اچھے آم موجود ہیں لیکن لوگ پھر بھی انہیں خریدنے کے قابل نہیں۔‘\n\nایک سرکاری سروے کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد تین ماہ میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد تک پہنچ گئی جب کہ جولائی سے فروری کے عرصے میں یہ شرح 5.5 فیصد تھی۔\n\nفروٹ ایکسپورٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ شکیل نے بھی مقامی فروخت کو پہنچنے والے دھچکے کی تصدیق کی۔\n\nانہوں نے کہا ’مقامی منڈی میں قیمت کم ہے لیکن ہر کوئی آم خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ ملک کی حالت دیکھیں، اخراجات بڑھ رہے ہیں۔۔۔ آمدن کم ہے۔ لوگ پہلے اپنی روٹی خریدیں یا ہمارے آم؟‘\n\nآم\n\nبرآمد\n\nپھل\n\nپاکستانی\n\nکاشت کار\n\nتاجر\n\nآم کے تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سال آم کی برآمد کم از کم 30 فیصد گر سکتی ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nاتوار, جون 21, 2026 - 09:00\n\nMain image:\n\n> <p>ایک آم فروش نو جون، 2023 کو راولپنڈی میں سڑک پر جا رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپھلوں کو خشک کر کے فروخت کرنے والی کوئٹہ کی ہنرمند گھریلو خواتین\n\nایرانی سیبوں کی آمد سے کشمیری پھلوں کی صنعت میں مندی\n\nبلوچستان کا پھل ’شینے‘ جو تر اور خشک کھایا جاتا ہے\n\nرحیم یار خان: نیم کے بیکار پھل سے تیل نکالنے والے پاکستانی نوجوان\n\nSEO Title:\n\n’لوگ پہلے اپنی روٹی خریدیں گے یا ہمارے آم؟‘\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "’لوگ پہلے اپنی روٹی خریدیں گے یا ہمارے آم؟‘"
}