{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreid4iavn25kvaar5qyoitjrioo2dn7itex5dqpwm6nwgg5qx2eq274",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3motplslgtqu2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifsq4lgcmhdfnnm5z4hxceeequdnqi65vrwwowiuc6tsf5bcmlhei"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 138374
},
"path": "/node/186433",
"publishedAt": "2026-06-21T12:26:26.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بلوچستان",
"عسکریت پسندی",
"حملے",
"اموات",
"اغوا",
"محمد عیسیٰ",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**بلوچستان میں ہفتے اور اتوار کو عسکریت پسندی کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں سوراب میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ایس پی ہاؤس پر حملہ کر دیا اور سرکاری گاڑیوں اور رہائشی کمروں کو نذر آتش کرنا شامل ہے۔**\n\nصوبائی محکمہ داخلہ کے معاون بابر یوسفزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب متعدد افراد، جو جدید اسلحے سے مسلح تھے، سوراب شہر میں داخل ہو گئے۔\n\nمسلح افراد نے توڑ پھوڑ کے بعد ایس پی کے دفتر اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ سکیورٹی فورسز کے شہر میں داخل ہونے پر مسلح افراد فرار ہو گئے۔\n\nقلات میں گذشتہ شب کراچی کوئٹہ قومی شاہراہ پر مسلح افراد نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وکیل ملک زرک خان اور اس کے ساتھی شدید زخمی ہو گئے، جنہیں بعد میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔\n\nبابر یوسفزئی نے بتایا کہ واقعے سے متعلق تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔\n\nاتوار کو وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے آبائی علاقے ڈیرہ بگٹی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے قبائلی رہنما الونڈکانی بگٹی جان قتل کر دیے گئے۔ مقتول چیف منسٹر بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے قریبی ساتھی رستم بگٹی کے والد تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ملک دشمن عناصر ملوث ہیں۔\n\nرکن اسمبلی زرین خان مگسی نے بتایا کہ ہفتے کو مسلح افراد نے جھل مگسی میں گورنر ہاؤس کے سب آفس پر دھاوا بولا اور عمارت کے ساتھ موجود گاڑیوں کو آگ لگا دی۔\n\nمسلح افراد جاتے ہوئے ڈی ایس پی کے بھانجے سمیت دو افراد کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے مغوی افراد کی بازیابی کی ہدایت کی ہے۔\n\nہفتے کو کوئٹہ تفتان شاہراہ پر مسلح افراد نے نوشکی کے قریب روڈ بلاک کر کے ایران سے ایل پی جی گیس سپلائی کرنے والے دو باؤزرز پر فائرنگ کر دی، جس سے دونوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ مسلح افراد بعد میں مقامی پہاڑوں کی جانب فرار ہو گئے۔\n\nبلوچستان، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، گذشتہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسندی کا سامنا کر رہا ہے جس میں سکیورٹی فورسز، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور شہریوں پر حملے شامل ہیں۔\n\nپاکستان نے حالیہ دنوں میں علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔\n\nبلوچستان\n\nعسکریت پسندی\n\nحملے\n\nاموات\n\nاغوا\n\nبلوچستان میں ہفتے اور اتوار کو عسکریت پسندی کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں، جن میں مختلف اضلاع میں حملے، فائرنگ، اغوا اور سرکاری املاک کو نذر آتش کیے جانے کے واقعات شامل ہیں۔\n\nمحمد عیسیٰ\n\nاتوار, جون 21, 2026 - 17:30\n\nMain image:\n\n> <p>یکم فروری 2026 کو لی گئی اس تصویر میں کوئٹہ کے مضافات میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملے کے ایک دن بعد نذرِ آتش کیے گئے ایک پولیس سٹیشن کے اندر جلی ہوئی گاڑیوں کے پاس ایک شخص کھڑا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکوئٹہ ٹرین دھماکہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کا بدلتا انداز\n\nاپیکس کمیٹی کا بلوچستان میں سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے ایف سی تعینات کرنے کا فیصلہ\n\nسلامتی کونسل بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے: پاکستان\n\nبلوچستان: ٹرین ہائی جیک کرنے والی تنظیم بی ایل اے کون ہے؟\n\nSEO Title:\n\nسوراب: ایس پی ہاؤس پر حملہ، گاڑیوں اور کمروں کو نذر آتش کر دیا گیا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "سوراب: ایس پی ہاؤس پر حملہ، گاڑیوں اور کمروں کو نذر آتش کر دیا گیا"
}