{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiehq6yzzsex2lfnlg5nitzknvxrztj22n4tcx4onttvyqiw5fddr4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moqyhfvvasf2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihjdtim2k2klvgnp7wxeiouy5h7mko7u3c556ylbtwmatexeir3cy"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 71705
},
"path": "/node/186412",
"publishedAt": "2026-06-20T03:00:03.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"الیکٹرک چارجنگ یونٹ",
"سکوٹر",
"ای وی",
"الیکٹرک کار",
"برقی گاڑیاں",
"میاں عمران احمد",
"خواتین",
"news"
],
"textContent": "**انقلاب ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں آتے، بعض اوقات وہ خاموشی سے گھروں کے گیراجوں میں جنم لیتے ہیں۔ ممکن ہے آنے والے چند برسوں میں پاکستان کا الیکٹرک انقلاب کسی کار ساز کمپنی، کسی وزیر یا کسی بین الاقوامی ادارے کی بجائے ایک طالبہ کی الیکٹرک سکوٹی اور ایک ملازمت پیشہ خاتون کی الیکٹرک گاڑی سے شروع ہو۔**\n\nیہ محض ایک سماجی نہیں بلکہ ایک بڑی معاشی تبدیلی بھی ہو سکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کا آغاز کہاں سے ہوگا؟ اس کا جواب شاید خواتین ہیں۔\n\nپچھلے کچھ ماہ سے پاکستان میں خواتین کے الیکٹرک سکوٹی استعمال کے رجحان میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، شاید اسی لیے آج ایک نیا سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا بیٹی کے لیے الیکٹرک سکوٹی اور بیوی کے لیے الیکٹرک گاڑی محض سہولت ہے یا ایک دانشمندانہ معاشی سرمایہ کاری؟\n\nپاکستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت کی شرح اب بھی 25 فیصد سے کم ہے جبکہ لاکھوں خواتین تعلیم، ملازمت یا کاروبار کے لیے نقل و حرکت کے مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔ ایک بیٹی کو کالج چھوڑنے اور واپس لانے کے لیے اکثر والد، بھائی یا خاندان کا کوئی دوسرا فرد روزانہ وقت اور ایندھن خرچ کرتا ہے۔\n\nایک ملازمت پیشہ خاتون کی آمدورفت بھی اکثر خاندان کے ایک اضافی فرد کو مصروف رکھتی ہے۔ معاشی اعتبار سے یہ ’پوشیدہ لاگت‘ ہے جس کا حساب کبھی نہیں لگایا جاتا۔\n\nاگر ایک طالبہ روزانہ 30 سے 40 کلومیٹر سفر کرتی ہے تو پیٹرول موٹر سائیکل پر اس کا ماہانہ خرچ 10 سے 15 ہزار روپے تک پہنچ سکتا ہے جبکہ الیکٹرک سکوٹی کی چارجنگ لاگت چند سو روپے ہے۔ یوں ایک خاندان سالانہ ایک لاکھ روپے سے زائد کی بچت کرسکتا ہے۔\n\nاگر صرف 10 لاکھ خواتین کو پیٹرول موٹرسائیکل یا سفر کے لیے روایتی ٹرانسپورٹ کی بجائے الیکٹرک بائیکس پر منتقل کر دیا جائے تو ملک کو سالانہ تقریباً 120 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ای وی ٹیکنالوجی کو صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی اصلاحات کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔\n\nچین میں تقریباً 30 کروڑ سے زیادہ دو پہیوں والی الیکٹرک بائیکس چلانے والوں میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ تائیوان میں فی کس سکوٹرز کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور خواتین سب سے بڑی صارف ہیں۔ یورپ میں الیکٹرک بائیکس کے استعمال میں خواتین کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے۔ پاکستان بھی اس منزل کا مسافر بن سکتا ہے۔\n\nشاید اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کی نئی سکیم میں 1 لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 3,170 الیکٹرک رکشوں کی مالی معاونت کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ بائیکس کے لیے 25 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ بعض ڈیلرز کے مطابق الیکٹرک بائیکس کی فروخت میں 70 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ محض صنفی مساوات کا اقدام نہیں بلکہ ایک معاشی حکمت عملی بھی ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ اگر خواتین کی نقل و حرکت آسان اور سستی ہو جائے تو تعلیم، روزگار اور کاروبار میں ان کی شرکت بڑھے گی، جس کا براہ راست اثر قومی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔\n\nپاکستان میں تقریباً 33 ہزار میگاواٹ شمسی صلاحیت نصب ہو چکی ہے۔ ایک ایسا مکان جس کی چھت پر سولر سسٹم لگا ہوا ہے، وہ اپنی بیٹی کی سکوٹی اور بیوی کی ای وی کو تقریباً مفت چارج کر سکتا ہے۔ یوں پیٹرول پمپ کی جگہ مکان کا گیراج ایک چھوٹا سا ’انرجی سٹیشن‘ بن جاتا ہے۔\n\nیہ تبدیلی صرف اخراجات کم نہیں کرتی بلکہ درآمدی تیل پر انحصار بھی کم کرتی ہے۔\n\nپاکستان سالانہ تقریباً 17 ارب ڈالر کا پیٹرولیم درآمد کرتا ہے۔ تقریباً تین کروڑ موٹر سائیکلیں پیٹرول کھپت کا تقریباً 40 فیصد استعمال کرتی ہیں، جس پر ہر سال تقریباً 6 ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک خاندان پیٹرول پر چلنے والی موٹر سائیکل کی بجائے الیکٹرک سکوٹی اختیار کرتا ہے تو وہ صرف اپنی جیب ہی نہیں بلکہ قومی معیشت پر بھی بوجھ کم کرسکتا ہے۔\n\nتاہم اس روشن تصویر کے کچھ تاریک پہلو بھی ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔\n\nالیکٹرک ٹیکنالوجی ابھی بھی ہر پاکستانی کی پہنچ میں نہیں ہے۔ سکوٹی کی قیمت چار سے پانچ لاکھ روپے اور الیکٹرک گاڑی کی قیمت لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی پالیسی کا اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ اگر آسان قرضے، خواتین کے لیے خصوصی سکیمیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر فراہم نہ کیا گیا تو الیکٹرک انقلاب صرف امیر طبقے تک محدود رہ سکتا ہے۔\n\nسال 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد حصہ الیکٹرک گاڑیوں کا بنانے کا ہدف ہے۔ اس لیے پیٹرول پر 2.5 روپے فی لیٹر لیوی عائد کی گئی تاکہ سبسڈی کا مالی بوجھ پورا کیا جا سکے، لیکن یہ ہدف حاصل ہوتا نہیں دکھائی دے رہا۔\n\nبینکوں کو دی گئی ای وی اسکیم کے تحت صرف 9 فیصد قرض درخواستیں منظور ہوئیں جبکہ 91 فیصد درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔شاید پالیسی ساز الیکٹرک انقلاب کے لیے تیار نہیں۔\n\nاس کے علاوہ پاکستانی خاندان بیٹوں کے لیے الیکٹرک بائیک خریدنے کو سرمایہ کاری سمجھتے ہیں جبکہ بیٹی اور بیوی کی نقل و حرکت کے لیے الیکٹرک بائیک یا گاڑی کی سرمایہ کاری کو پیسے کا ضیاع سمجھتے ہیں۔\n\nدرحقیقت ’بیٹی کے لیے سکوٹی اور بیوی کے لیے ای وی‘ صرف ایک خاندانی فیصلہ نہیں بلکہ ایک معاشی فلسفہ ہے۔ جب ایک بیٹی وقت پر تعلیم حاصل کرتی ہے، جب ایک خاتون آسانی سے ملازمت تک پہنچتی ہے تو فائدہ صرف اس گھر کو نہیں بلکہ پورے ملک کو پہنچتا ہے۔\n\nجب ایک پاکستانی باپ اپنی بیٹی کے لیے سکوٹی خریدنے کو خرچ نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھے گا اور جس دن ایک شوہر اپنی بیوی کی ای وی کو آسائش نہیں بلکہ معاشی ضرورت سمجھے گا، اس دن پاکستان میں خواتین کے ذریعے الیکٹرک انقلاب کی شروعات ہو سکتی ہے۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nالیکٹرک چارجنگ یونٹ\n\nسکوٹر\n\nای وی\n\nالیکٹرک کار\n\nبرقی گاڑیاں\n\nبینکوں کو دی گئی ای وی سکیم کے تحت صرف 9 فیصد قرض درخواستیں منظور ہوئیں جبکہ 91 فیصد درخواستیں مسترد کر دی گئیں، شاید پالیسی ساز الیکٹرک انقلاب کے لیے تیار نہیں۔\n\nمیاں عمران احمد\n\nہفتہ, جون 20, 2026 - 08:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">درحقیقت ’بیٹی کے لیے سکوٹی اور بیوی کے لیے ای وی‘ صرف ایک خاندانی فیصلہ نہیں بلکہ ایک معاشی فلسفہ ہے (اینواتو)</p>\n\nخواتین\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان بجٹ: نئی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس معاف، 5 ہزار نئی نوکریاں\n\nلُوچے: فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک کار\n\nکیا چین کی الیکٹرک ’فراری‘ اطالوی فراری سے بہتر ہے؟\n\nای وی ایکسپو میں خواتین کی الیکٹرک بائیکس میں دلچسپی\n\nSEO Title:\n\nبیٹی کی سکوٹی، بیوی کی ای وی، کیا الیکٹرک انقلاب خواتین لاسکتی ہیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بیٹی کی سکوٹی، بیوی کی ای وی، کیا الیکٹرک انقلاب خواتین لاسکتی ہیں؟"
}