{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicvdmrg6mrr65tldst52rtth62cwopzdkiqf6e352gwc42jihi2vu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moqyhbdkaoa2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreib6yalzhmm22rivvxgwkmtxvfmp7z2b3vof4zfobeu6ssinjylr2i"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 70273
  },
  "path": "/node/186416",
  "publishedAt": "2026-06-20T03:45:16.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "امن معاہدہ",
    "امن  مذاکرات",
    "ایران جنگ",
    "لبنان",
    "روئٹرز",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں جب کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کو وہاں جائیں گے۔**\n\nبرطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایکسیوس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی سے ایران کے عبوری جنگی معاہدے کو پائیدار علاقائی معاہدے میں بدلنے کی کوششیں بحال ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔\n\nاسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے باعث امریکہ اور ایران کے ان مذاکرات پر شکوک پیدا ہوگئے تھے، جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تیل کی ترسیل کو مستحکم کرنے کے لیے انتہائی اہم تھے۔ تاہم بعدازاں دونوں نے جمعے کو لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔\n\nیہ پیش رفت اس 14 نکاتی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے بعد سامنے آئی جس پر دونوں فریقوں نے اس ہفتے دستخط کیے۔ اس یادداشت کا مقصد لڑائی کو روکنا اور 60 دن کی مہلت دینا تھا تاکہ ایران کے ایٹمی پروگرام اور ایک زیادہ پائیدار معاہدہ طے کرنے کے لیے ضروری دیگر پیچیدہ مسائل پر تنازعات کو حل کیا جا سکے۔\n\nلبنان میں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے کا ارادہ منسوخ کر دیا تھا۔\n\nایکسیوس نے بتایا کہ جنگ بندی ہونے کے بعد سٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ روانہ ہوئے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ نیوز ویب سائٹ نے مزید بتایا کہ عباسی عراقچی کا ہفتے کو وہاں جانے کا ارادہ ہے۔\n\nاس پیش رفت سے یہ اشارہ مل سکتا ہے کہ دونوں فریق مستقل جنگ بندی کے لیے تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔\n\nوائٹ ہاؤس نے سٹیو وٹکوف کے سفر کے حوالے سے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔\n\nایک سینیئر امریکی عہدے دار نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد لبنان میں شام چار بجے (1300 جی ایم ٹی) کے قریب جنگ بندی نافذ ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کی مدد سے یہ معاہدہ طے کیا ہے۔\n\nحزب اللہ کے دو ذرائع اور ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار نے جنگ بندی کی تصدیق کی۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nدوسری جانب اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ ’اگر حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتی، تو ہمارے لیے یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجیں برقرار رکھے گا، جہاں اس نے اپنی شمالی سرحد کے ساتھ ایک علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔\n\nلبنان کے دو سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے گھنٹے میں درجن بھر فضائی حملے کیے لیکن شام پانچ بجے کے بعد کوئی حملہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔\n\n**مشکل مسائل اب بھی حل طلب**\n\nبدھ کو مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد، سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی تفریحی مقام برگن سٹاک میں تکنیکی مذاکرات کی تیاریاں کافی حد تک مکمل ہو چکی تھیں، جب وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو کہا کہ جے ڈی وینس اس میں شرکت نہیں کریں گے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسوئس وزارت خارجہ نے کہا کہ مذاکرات ملتوی کر دیے گئے ہیں لیکن سوئٹزرلینڈ ان میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور ابتدائی کام جاری ہے۔\n\nاس وسیع تر عبوری معاہدے کا تقاضا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کریں۔\n\nمذاکرات سے باہر رکھے گئے اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کا فریق نہیں ہے۔\n\nدوسری جانب ایران کی وزارت نے بتایا کہ عباس عراقچی نے جمعے کو اپنے پاکستانی ہم منصب سے ٹیلیفون پر بات چیت میں کہا کہ لبنان میں لڑائی کے خاتمے سمیت معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی کسی بھی خلاف ورزی کا ذمہ دار امریکہ ہوگا۔\n\n**ٹرمپ کا عبوری معاہدے کا دفاع**\n\nایران جنگ، جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی، میں کم از کم 7000 افراد جان سے گئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ایران اور لبنان سے ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی۔\n\nاس مفاہمت کی یادداشت میں ایران کے لیے اقتصادی پابندیوں میں نرمی، اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی بحالی اور اس کے تیل کی برآمدات کے لیے فوری امریکی چھوٹ کی توقع کی گئی ہے۔ یہ ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ اور دیگر مالی مراعات بھی فراہم کرتی ہے۔\n\nنومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل زیادہ تر امریکیوں میں غیر مقبول جنگ کے خاتمے کے لیے بہت زیادہ رعایتیں دینے کے حوالے سے کانگریس میں رپبلکن اتحادیوں سمیت واشنگٹن میں ہونے والی تنقید کے بعد ٹرمپ نے ایک بار پھر اس معاہدے کا دفاع کیا۔\n\nانہوں نے جمعے کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’جنگ نے ایران کو کمزور کر دیا ہے۔ ہم نے مایوسی کی حالت میں ملاقات نہیں کی۔ ایران نے کی ہے۔ وہ ختم ہو چکے ہیں۔ ہم 60 دن پورے کریں گے۔ انہیں کوئی پیسہ نہیں ملے گا، 10 سینٹ بھی نہیں۔‘\n\nایران\n\nامریکہ\n\nامن معاہدہ\n\nامن  مذاکرات\n\nایران جنگ\n\nلبنان\n\nامریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آج بروز ہفتہ سوئٹزرلینڈ جائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پہلے سے وہاں موجود ہیں۔\n\nروئٹرز\n\nہفتہ, جون 20, 2026 - 08:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکہ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد، پاکستان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے (جیکولین مارٹن/ رائٹرز)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ-ایران معاہدہ اور پاکستان کا اصل کردار\n\n​امریکہ ایران معاہدہ: پاکستانی قومی اسمبلی میں قرارداد منظور\n\nامریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دی\n\nایران - امریکہ معاہدہ، پاکستانی وزیراعظم کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ\n\nSEO Title:\n\nامریکی نمائندے سٹیو وٹکوف ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ: رپورٹ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ: رپورٹ"
}