{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreic52x4o4epnsx6qummupm6xahm3jziekrzmdmivdcuu725dk5nbi4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moqyh44traa2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicxzrt754amugawp6vaqkdx4gwnaywknjrbxmfnqyqxk3gieucfri"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 123672
  },
  "path": "/node/186419",
  "publishedAt": "2026-06-20T05:38:04.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بنوں",
    "خیبر پختونخوا",
    "دھماکہ",
    "لائبہ حُسن",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کے مطابق ہفتے کی صبح یکے بعد دیگرے دو آئی ای ڈی دھماکوں میں سات افراد جان سے گئے جبکہ تین زخمی ہو گئے۔**\n\nپولیس کے مطابق واقعہ تھانہ احمدزئی کی حدود میں علاقہ مراکہ بیرہ پنگ کے قریب پیش آیا، جہاں مسافروں کو لے جانے والی ایک پرائیویٹ ڈاکسن کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا۔\n\nپہلے حملے کے بعد علاقے کے لوگ زخمیوں کی مدد کے لیے جمع ہوئے اور انہیں طبی امداد کے لیے منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک اور آئی ای ڈی دھماکہ ہوا۔\n\nڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بنوں یاسر آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پہلے دھماکے کے زخمیوں کی مدد کے لیے مقامی افراد جمع ہوئے تھے کہ اسی دوران دوسرا آئی ای ڈی دھماکہ ہوا۔‘\n\nپولیس کے مطابق دونوں حملوں میں مجموعی طور پر سات افراد جان سے گئے جبکہ تین افراد زخمی ہوئے، جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nواقعے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں اور بم ڈسپوزل سکواڈ نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ شواہد اکٹھے کرنے اور حملے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی۔\n\nیاسر آفریدی کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں دھماکوں میں دیسی ساختہ بارودی مواد (آئی ای ڈی) استعمال کیا گیا۔\n\nدوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔\n\nوزیراعلیٰ نے شہریوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں صوبائی حکومت برابر کی شریک ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔\n\nتاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔\n\nبنوں عمومی طور پر خیبر پختونخوا کے شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع میں شامل ہے جہاں ماضی میں عسکریت پسندوں نے متعدد حملے کیے ہیں۔\n\nپولیس کے اعداد و شمار کے مطابق بنوں میں وزیرستان کے بعد عسکریت پسندوں کی جانب سے سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں، جن میں مختلف تھانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔\n\nبنوں\n\nخیبر پختونخوا\n\nدھماکہ\n\nپولیس کے مطابق دوسرا دھماکہ اس وقت کیا گیا جب مقامی افراد پہلے حملے کے متاثرین کو نکالنے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں مصروف تھے۔\n\nلائبہ حُسن\n\nہفتہ, جون 20, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستانی سکیورٹی اہلکار 12 ستمبر 2024 کو بنوں میں ایک احتجاج کے دوران اس ایمبولینس کے گرد جمع ہیں جس میں ایک حملے میں جان سے جانے والے پولیس اہلکار کی میت موجود ہے (کریم اللہ / اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبنوں: فتح خیل پولیس چوکی کو بار بار حملوں کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟\n\nبنوں پولیس پر حملہ، افغان ناظم الامور کی پاکستانی دفتر خارجہ طلبی\n\nبنوں میں دو مرتبہ بم حملوں کا ہدف بننے والے گھر کی کہانی\n\nبنوں میں آپریشن، 8 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے: پولیس\n\nSEO Title:\n\nبنوں میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے، سات افراد جان سے گئے: پولیس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "بنوں میں دو دھماکے، سات افراد جان سے گئے: پولیس"
}